?️
کابل (سچ خبریں) افغان وزیر داخلہ نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں اہم بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے مابین ابھی بھی گہرے تعلقات پائے جاتے ہیں اور اگر امریکی افواج افغانستان سے مکمل طور پر نکل جاتی ہیں تو یہ ملک کے لیئے شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان کے وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں اور ان کے جنگ سے دو چار ملک سے امریکی افواج کے جلد بازی میں کیے گئے انخلا سے دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ہفتے کو دیے جانے والے انٹرویو میں مسعود اندرابی کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے امریکی اشتراک سے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو اب تک قابو میں کر رکھا ہے جن میں دہشت گرد تنظیم داعش سے منسلک گروہ بھی شامل ہیں۔
وزارتِ داخلہ میں دیے والے انٹرویو کے دوران مسعود اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ امریکی افواج کے جلد بازی میں انخلا سے یقینی طور پر دہشت گردوں سے دنیا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
افغان وزیر داخلہ نے یہ انتباہ ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب امریکہ، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں طالبان کے ساتھ گزشتہ برس کیے گئے معاہدے پر نظرِ ثانی کر رہا ہے جس کے مطابق امریکہ، افغانستان میں تعینات اپنی 2500 فوجی اہلکاروں کا رواں سال یکم مئی تک انخلا کا پابند ہے۔
مذکورہ معاہدے کے مطابق بدلے میں طالبان بھی القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کرنے کے پابند ہوں گے۔
امریکی حکام کا اس بارے میں تفصیلات بتائے بغیر کہنا تھا کہ اس ضمن میں کچھ ہیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم ان کے بقول مزید پیش رفت ہونا باقی ہے، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی معاہدے پر نظرِ ثانی سے اب تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی وزیرِ خارجہ انٹنی بلنکن، جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تعظل کے شکار امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، نے افغان صدر اشرف غنی کو خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں تمام آپشنز ابھی بھی موجود ہیں اور یہ کہ افغان حکومت کو اپنے ملک میں امن کے لیے کوششوں میں تیزی لانا چاہیے۔
مسعود اندرابی نے امریکی وزیرِ خارجہ کی گزشتہ ہفتے کی گئی اس پپیشین گوئی کو چیلنج کہ امریکی افواج کے انخلا سے طالبان مزید علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بڑے علاقے پر کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کے بقول دور دراز کی چوکیوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے انہیں فضائی مدد درکار ہو گی۔
مسعود اندرابی کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز دارالحکومت، شہروں اور ان علاقوں کو جو اس وقت ان کے کنٹرول میں ہیں، ان کے مکمل دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ان کے بقول افغان سیکیورٹی فورسز نے رواں سال طالبان کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
واضح رہے کہ طالبان نے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اب تک امریکی اور نیٹو فورسز پر حملے نہیں کیے، تاہم افغان سیکیورٹی فورسز کو کچھ خطرناک حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ غربت اور بیروز گاری کے باعث جرائم میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
کینسر سے جنگ لڑ رہی نائلہ جعفری کی مدد کے لئے اداکار بھی تیار
?️ 6 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں) اداکارہ نائلہ جعفری گزشتہ 5 سال سے کینسر سے
اپریل
فلسطینی اسرائیل تنازعہ ایک نئے دور میں داخل
?️ 25 مارچ 2025سچ خبریں: حالیہ ہفتوں میں فلسطین اور صیہونی حکومت کے درمیان قائم
مارچ
ایران پر حالیہ حملے انتہائی افسوسناک، ہمیں دلی رنج ہے۔ خواجہ آصف
?️ 2 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایران
مارچ
وسطی ایشیا میں روس اور چین کے ساتھ امریکہ کا مقابلہ؛ ٹرمپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟
?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ کی واشنگٹن میں وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے
نومبر
کیا بانی پی ٹی آئی اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟
?️ 3 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کا کہنا ہے
اگست
عراق کے مصائب کے ذمہ دار امریکہ اور انگلستان
?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں: بحرین کے اخبار الخلیج نے عراق اور مغربی رابطے
ستمبر
صیہونی ایران اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے پریشان
?️ 27 مارچ 2023سچ خبریں:جب کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی
مارچ
صیہونی وزیر دفاع کا دعویٰ صہیونی ماہرین کی تنقید اور مذاق کا نشانہ
?️ 13 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتس کے حماس اور حزب اللہ پر
نومبر