لاطینی امریکہ کے رہنماؤں کی امریکہ اور اسرائیل پر کڑی تنقید

?️

سچ خبریں:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس لاطینی امریکہ کے صدور کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا جہاں سے انہوں نے براہِ راست امریکہ کی حاکمانہ خارجہ پالیسی اور صیہونی جارحیت کے خلاف غزہ کے عوام کے حق میں دوٹوک پیغام دیا۔

برازیل، چلی، کولمبیا اور پیرو کے صدور نے اپنی تقاریر میں مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا مگر چند نکات پر مکمل اتفاق رائے ظاہر کیا جن میں بیرونی دباؤ کو مسترد کرنا، صیہونی جارحیت کی مذمت، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور قومی خودمختاری کا تحفظ شامل ہے۔
چاروں ممالک کے صدور نے کثیرالجہتی کو عالمی بحرانوں کے حل کے لیے بنیادی ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کو اس طرح مضبوط بنایا جائے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے ممالک فیصلوں کو معطل یا ناکام نہ بنا سکیں۔
چلی کے صدر گیبریل بورِچ نے صیہونی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو عالمی فوجداری عدالت میں پیش کرنے کی تجویز دی جبکہ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے فلسطین کے لیے آزادی کی عالمی فوج تشکیل دینے کی بات کی۔
 یہ دونوں تجاویز اجلاس کی سب سے جرات مندانہ پیشکشیں قرار پائیں۔ ان بیانات کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نمائندے اجلاس ہال سے باہر چلے گئے جبکہ بعض ترقی پذیر ممالک نے ان تجاویز کی حمایت کی۔
صدر چلی: نیتن یاہو کو راکٹ سے نہ ماریں، عدالت میں پیش کریں
چلی کے صدر بورِچ نے اپنی پرجوش تقریر میں تاریخی حوالوں اور بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں نیتن یاہو پر غزہ میں نسل کشی کے الزام میں عالمی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا،انہوں نے کہا غزہ کا بحران دراصل انسانیت کا بحران ہے اور اس المیے کو دوسری جنگ عظیم کے دوران ہولوکاسٹ سے تشبیہ دی۔
انہوں نے ایران پر بمباری، یوکرین پر حملے سمیت دیگر عالمی تنازعات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بین الاقوامی قوانین انسانی تہذیب کی پیش رفت ہیں جن کا ہر دور میں احترام لازمی ہے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے براہِ راست سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں ماحولیاتی بحران سے انکار، کثیرالجہتی کو نظرانداز کرنے اور جھوٹ پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا، ان کے جملے یہ رائے نہیں بلکہ جھوٹ ہے اور جھوٹ سے لڑنا ہوگا  جس پر شرکا کھڑے ہو کر داد دینے لگے۔
بورِچ نے سابق صدرِ چلی مشیل باشلے کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے لیے نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ادارے کی قیادت ایک خاتون سنبھالے۔ باشلے نے اس تجویز کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
صدر پیرو کا انتباہ: حاکمانہ پالیسی کا خطرہ بڑھ رہا ہے
پیرو کی صدر دینا بلوآرٹے نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نئی عالمی خطرات سے نمٹا جا سکے اور فیصلہ سازی میں تعطل ختم ہو،انہوں نے بھی باشلے کی نامزدگی کی حمایت کی اور کہا کہ آئندہ سیکرٹری جنرل لاطینی امریکہ سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے غیرمستقیم طور پر امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کو ہدفِ تنقید بنایا اور کہا کہ کسی بھی ملک پر حملہ یا عام شہریوں کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بر وقت اقدامات نہ کیے گئے تو نفرت پر مبنی نظریات نئی نسل کشیوں کو جنم دے سکتے ہیں۔
صدر برازیل: جمہوریت کا دفاع، یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ پابندیاں اور مداخلتیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے سابق صدر ٹرمپ کی جانب سے برازیلی ججوں اور عہدیداروں پر عائد پابندیوں کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات براعظم امریکہ کی بڑی جمہوریتوں کے درمیان سنگین سفارتی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے رویے معمول بن گئے تو عالمی سطح پر خطرناک نظیر قائم ہوگی، لولا نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
صدر کولمبیا: فلسطین کو آزاد کرو، ٹرمپ پر مقدمہ چلاؤ
کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اپنی آخری تقریر میں سب سے سخت مؤقف اختیار کیا، انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے جنرل اسمبلی کے ذریعے ایک عالمی فوج بنانے کی تجویز دی اور کہا کہ غزہ میں نسل کشی فوری طور پر روکی جائے کیونکہ سفارت کاری ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے امریکہ اور نیٹو پر براہِ راست الزام لگایا کہ وہ دنیا بھر میں جمہوریت کو تباہ اور تمامیت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ٹرمپ سمیت امریکی حکام پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، جنہیں انہوں نے منشیات کے خلاف نام نہاد جنگ کے دوران کیریبین کے نوجوانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا۔
پیٹرو نے امریکی امیگریشن پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جبری ہجرت دراصل جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور ناقابلِ ادا قرضوں کا نتیجہ ہے جس نے عالمی جنوب کو غربت میں دھکیل دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہشتادمیں اجلاس نیویارک میں شروع ہو چکا ہے جہاں دنیا بھر کے رہنما ہر سال ستمبر میں جمع ہوتے ہیں اور کئی روز تک عالمی مسائل پر اپنی تقاریر پیش کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

یوم مزدور پر جرمن یونینوں کا زور ہڑتالوں کے تسلسل پر

?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:جرمن یونینوں نے آجروں کے ساتھ سخت مذاکرات جاری رکھنے کا

اسلام آباد: چیف جسٹس سے اپوزیشن کے وفد کی ایک گھنٹے طویل ملاقات

?️ 21 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے

اسلام آباد، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو بڑی سہولت دینے کا فیصلہ

?️ 14 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈ کے

اردوغان اور حزب اختلاف ترکی کے علوی سے حمایت چاہتے ہیں

?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: ترک صدر کی درخواست پر ملک کے علویوں کی حمایت

  10  مارچ معاہدے کے مستقبل پر ابہام

?️ 2 جنوری 2026سچ خبریں: مظلوم عبدی اور شمال مشرقی سوریا کی مذاکراتی ٹیم کے دمشق

امریکی فوجیوں کی خودکشی کرنے کی وجوہات

?️ 24 جون 2021سچ خبریں:گیارہ ستمبر2011 کو امریکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد سے

بھارتی طیاروں کیلئے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع

?️ 15 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) بھارت کے رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی

ایران فردو میں 60 فیصد تک یورینیم اضافہ کر رہا ہے: رائٹرز

?️ 3 فروری 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے