?️
سچ خبریں:غزہ میں پیدا ہونے والا عصام النباهین جو داعش سے وابستگی کے بعد صیہونی مفادات کے لیے کام کرتا رہا،صہیونی لابی ابوشباب کا رکن، مجرم، فراری اور غزہ کے امن کے لیے خطرہ بننے کو شش کر تا رہا ہے۔
معروف فلسطینی نیوز ایجنسی شہاب نے عصام خالد النباہین کی اصل شناخت بے نقاب کر دی ہے ایک ایسا شخص جو نہ صرف دہشتگرد گروہ داعش سے وابستہ رہا بلکہ اب صہیونی مفادات کی خاطر غزہ میں سرگرم عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں نیتن یاہو کی حمایت یافتہ دہشت گرد کون ہے؟
شہاب نے اپنی خصوصی رپورٹ بعنوان "مجرم سے خائن تک: عصام النباهین کون ہے؟” میں انکشاف کیا کہ النباهین، صہیونی حمایت یافتہ باند "یاسر ابوشباب” کا فعال رکن ہے اور حالیہ دنوں میں غزہ کی سیکیورٹی کے سب سے سنگین مسائل میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔
عصام النباهین کی ابتدائی شناخت
عصام 1991 میں غزہ کے مرکزی علاقے «النصیرات» کیمپ میں پیدا ہوا، تعلیم کے میدان میں ناکام اور اخلاقی طور پر زوال پذیر، وہ ایک بکھرے ہوئے خاندان کا فرد ہے جسے معاشرتی طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔
دہشتگردی سے خفیہ ایجنسیوں تک
عصام النباهین کی شدت پسندی کی تاریخ پیچیدہ ہے، ابتدا میں وہ سلفی نظریات سے وابستہ ہوا، پھر گروہ جیش الاسلام سے منسلک ہوا، اور بعد ازاں مصر کے علاقے سینا میں داعش کے ساتھ شامل ہوا، وہاں اُس نے فلسطینی اور مصری سکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور فوجی اڈوں پر حملوں میں حصہ لیا،ان جرائم کی بناء پر اسے غزہ اور مصر دونوں میں دہشتگرد قرار دیا گیا۔
جون 2023 میں جب وہ النصیرات میں دوبارہ نمودار ہوا تو گرفتاری کے وقت اُس نے پولیس افسر خالد مصلح کو قتل کر دیا جس کے بعد اسے سزائے موت سنائی گئی لیکن اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران جیل سے مشکوک حالات میں فرار ہو گیا۔
صیہونیوں کی وفادار لابی میں شمولیت
فرار کے بعد، النباهین رفح شہر کے مشرقی علاقے میں "یاسر ابوشباب” کے گروہ میں شامل ہو گیا ،یہ وہی گروہ ہے جو اسرائیل کے لیے نچلی سطح پر ایجنٹ کا کردار ادا کرتا ہے اور غزہ میں سیکیورٹی خلاء سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، عصام النباهین نہ صرف انسانی امداد کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ میں ملوث رہا، بلکہ وہ راکٹ حملے بھی کرتا رہا تاکہ اسرائیل کو رہائشی علاقوں پر حملے کا جواز دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی وہ رفح اور النصیرات کے رہائشیوں کو لوٹنے اور بلیک میل کرنے جیسے جرائم میں بھی ملوث رہا۔
جعلی میڈیا نیٹ ورکس اور خاندانی لاتعلقی
عصام النباهین ایک جعلی میڈیا نیٹ ورک سے بھی وابستہ رہا جو خود کو فلسطینی عوام کی آواز ظاہر کرتا تھا، مگر درحقیقت صہیونی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ النباهین کے خاندان نے اس سے کھلے عام اظہار براءت کیا اور غزہ کی سکیورٹی فورسز سے درخواست کی کہ اُس کے ساتھ ایک خائن اور مجرم کا سلوک کیا جائے۔
عرب انٹیلیجنس کی پشت پناہی
حاصل شدہ اطلاعات کے مطابق، النباهین کے گروہ کو بعض عرب ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے جدید رات بین آلات، GPS سسٹمز، کوڈ شدہ مواصلاتی آلات اور گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ یہ سب کچھ اسرائیلی مفادات کی حفاظت اور غزہ میں فتنہ و فساد پھیلانے کے مقصد سے تھا۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک کا ردعمل
فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے واضح کیا ہے کہ النباهین جیسے افراد اُن کے لیے مکمل طور پر جائز اہداف ہیں، کیونکہ وہ قابض قوتوں کے سیکیورٹی و انٹیلیجنس منصوبوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد غزہ کے اندرونی محاذ کو توڑنا، عوام کو بھوکا رکھنا اور افراتفری پیدا کرنا ہے۔
گرفتاری
راصد نیوز چینل کے مطابق، عصام النباهین کو مجاہد تنظیم سَهم نے غزہ میں گرفتار کر لیا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کورونا: ملک بھر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کا خدشہ
?️ 24 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ملک بھر میں کورونا وائرس کے ہلاکت خیز
اپریل
کیا آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے؟
?️ 20 جون 2024سچ خبریں: سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن
جون
بحیرہ جاپان کے پانیوں میں روسیوں کا وسیع بحری تجربہ
?️ 5 جون 2023سچ خبریں:المیادین کے مطابق روسی ذرائع نے بحیرہ جاپان کے پانیوں میں
جون
فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی عرب کا نیا قدم
?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں:گزشتہ چند دنوں سے سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے درمیان
ستمبر
امریکی خفیہ ایجنسی نے بائیڈن کے بیٹے کو بچانے کے لیے کیا کیا؟
?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں: 2024 کی امریکی صدارتی امیدوار نے خفیہ سروس پر الزام
جولائی
پہلی بار حکومت عوامی مسائل کو حل کر رہی ہے: فرخ حبیب
?️ 26 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے
اگست
اسرائیلی کابینہ کے اٹارنی نے آرمی ریڈیو کو بند کرنے کی مخالفت کی
?️ 22 دسمبر 2025اسرائیلی کابینہ کے اٹارنی نے آرمی ریڈیو کو بند کرنے کی مخالفت
دسمبر
مشترکہ ڈیجیٹل اسپیس کی حفاظت کی ضرورت: برکس اور سائبر سیکیورٹی
?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: دنیا بھر میں سائبر حملوں میں 80 فیصد سالانہ اضافے نے
جولائی