?️
سچ خبریں:صہیونی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کا جواب دینے سے گریز کیا تاکہ نیتن یاہو کو سیاسی فائدہ نہ پہنچے، جبکہ امریکی حملوں، آبنائے ہرمز اور علاقائی کشیدگی کے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
صہیونی ویب سائٹ نیوز اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے جان بوجھ کر ایسے اشتعال انگیز اقدامات کا جواب دینے سے گریز کیا جو صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے سیاسی فائدے کا سبب بن سکتے تھے، اور اس حکمت عملی کو ایک قابل تعریف ایرانی تدبیر قرار دیا۔
ویب سائٹ کے مطابق غیر ملکی ذرائع نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ تہران کی جانب سے مقبوضہ علاقوں پر حملہ نہ کرنے کی حکمت عملی کو سراہا جا رہا ہے، کیونکہ ایران، ویب سائٹ کے بقول، جال میں پھنسنے سے بچنا چاہتا ہے اور دانستہ اشتعال انگیزی کے ذریعے صہیونی حکومت کو براہ راست تصادم کی طرف دھکیلنے اور پھر اس سے نیتن یاہو کے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔
ویب سائٹ نے اس طرز عمل کی دو وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی وجہ ایران کے لیے عالمی ہمدردی کو برقرار رکھنا اور دوسری صہیونی حکومت کو حتیٰ کہ امریکی سیاسی حلقوں میں بھی مزید تنہا کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں میں صہیونی حکومت کی عملی مداخلت کو روک دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ صہیونی حکومت کا دوبارہ جنگی صورتحال میں داخل ہونا صرف نیتن یاہو کے سیاسی مفاد میں ہوگا، اسی لیے ایران صہیونی حکومت کی اندرونی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بننے سے گریز کر رہا ہے۔
ویب سائٹ نے مزید لکھا کہ امریکہ کے ایران پر حملوں اور ان حملوں پر حالیہ ردعمل نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے یہ تصادم ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی عمل کی بحالی کی کوششیں بھی کمزور پڑ گئی ہیں۔
اقتصادی حوالے سے رپورٹ میں ایک بار پھر عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کو طویل مدت تک لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کی شب امریکہ نے ایران پر حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی کارروائی کا مقصد تہران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ کے جارحانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وحشیانہ حملے عالمی امن اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکومت نے کھلے عام تقریباً تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور بدترین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں دوبارہ عدم تحفظ پیدا ہوا ہے اور بین الاقوامی تجارتی جہازرانی بھی متاثر ہوئی ہے۔


مشہور خبریں۔
صوفیہ نے ماسکو کو پیوٹن کو بلغاریائی ہوائی راہداری استعمال کرنے کی اجازت دی
?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں: بلغاریہ کے وزیر خارجہ گئورگ جارجیف کا کہنا ہے کہ
اکتوبر
’صدارتی اختیار کے تحت سزاؤں کی معافی نہیں چاہیئے‘
?️ 27 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف
فروری
ایران کے شہید رہبر کی بنیادی پالیسیوں پر عمل جاری رہے گا: یمنی صحافی
?️ 4 جولائی 2026سچ خبریں:ایک یمنی صحافی نے ایران کے شہید رہبر کی تشییع جنازہ
جولائی
ہر ماہ مرگی کا شکار 400 بچے قومی ادارہ صحت برائے اطفال لائے جاتے ہیں، ماہرین
?️ 12 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ماہرین صحت نے اعصابی بیماری ’مرگی‘ کے بارے
فروری
واشنگٹن سے نئی دہلی تک، ایپسٹین دستاویزات نے امریکہ سے باہر عالمی سیاسی طوفان کیسے برپا کیا؟
?️ 7 فروری 2026سچ خبریں:امریکی محکمۂ انصاف کی تازہ ایپسٹین دستاویزات میں بھارتی، برطانوی اور
فروری
صہیونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بعد آل خلیفہ کے لیے اصل چیلنج
?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں:بحرین کی آمر آل خلیفہ حکومت کو صیہونیوں کے ساتھ تعلقات
اکتوبر
24 گھنٹے میں کورونا سے مزید 78مریض انتقال کر گئے
?️ 14 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اگرچہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز
ستمبر
اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی پر بات چیت جاری ہے:صیہونی میڈیا
?️ 23 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ
مئی