بارسلونا سے غزہ تک؛ صمود کشتی کارواں حملات کے باوجود رواں دواں

بارسلونا سے غزہ تک؛ صمود کشتی کارواں حملات کے باوجود رواں دواں

?️

سچ خبریں:صمود بین الاقوامی کاروان درجنوں کشتیوں اور سیکڑوں سماجی کارکنوں کے ہمراہ یورپی بندرگاہوں سے روانہ ہوا ہے تاکہ غزہ کے محاصرے کو چیلنج کرے، یہ کاروان ڈرون حملوں اور ریڈیو مواصلاتی نظام میں شدید رکاوٹوں کے باوجود اپنی راہ پر گامزن ہے۔

صمود کاروان ایک کثیرالملکی اقدام ہے جو مختلف ممالک کے سیکڑوں رضاکاروں اور درجنوں جہازوں پر مشتمل ہے۔ اس کاروان نے اگست کے آخر میں یورپی بندرگاہوں بشمول بارسلونا سے سفر کا آغاز کیا اور اب مشرقی بحیرہ روم کے راستے غزہ کی سمت بڑھ رہا ہے۔
 اس تحریک کا مقصد ایک انسانی بحری کوریڈور قائم کرنا اور محصور آبادی تک غذائی اجناس اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات پہنچانا ہے،
حالیہ دنوں میں منتظمین نے اطلاع دی کہ کاروان کو متعدد ڈرونز کی پروازوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، ریڈیو چینلز جام کر دیے گئے اور یونان کے جنوبی پانیوں میں کچھ کشتیوں کے قریب دھماکے بھی ہوئے۔
 اگرچہ چند جہازوں کو جزوی نقصان پہنچا، لیکن انسانی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی،بین الاقوامی میڈیا نے بھی ڈرونز کی موجودگی اور دھماکوں کی آوازوں کی رپورٹیں شائع کی ہیں،دوسری جانب صیہونی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ کاروان کو غزہ تک پہنچنے نہیں دیں گے۔
یہ صورتحال ان تناؤ بھری یادوں کو تازہ کرتی ہے جو ماضی میں غزہ جانے والے بحری کاروانوں کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں اور ایک بار پھر یہ سوالات اٹھاتی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی کی سلامتی اور ریاستوں کے اختیارات کی حدود کیا ہیں۔
ان حالات میں آلما کشتی پر سوار  اور بین الاقوامی کارواں صمود کا حصہ  یاراٹا موڈارلی نے اپنے تجربات بیان کیے۔
ان کے مطابق رات آٹھ بجے کے بعد بڑے سائز کے کم از کم پندرہ ڈرونز کشتیوں کے اوپر پرواز کرتے دیکھے گئے، کچھ ہی دیر بعد زوردار دھماکوں اور تیز روشنیوں کی آوازیں سنائی دیں جو ممکنہ طور پر صوتی بم تھے۔
یاراٹا کے بقول، گیارہ چھوٹی بادبانی کشتیوں کو دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ ایک کشتی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
انھوں نے بتایا کہ وقفے وقفے سے ہر دس سے تیس منٹ بعد دھماکے کیے جاتے رہے، بڑے ڈرونز بلندی پر جبکہ چھوٹے ڈرونز دور فضا میں تیرتے نظر آتے،یہ ڈرونز اپنی لائٹس بند کر دیتے اور فوراً دھماکے کی آواز سنائی دیتی، اس دوران تمام عملے نے لائف جیکٹ پہن لی اور محفوظ جگہوں پر پناہ لی۔ خوش قسمتی سے ان کی کشتی براہِ راست نشانہ نہیں بنی۔
مزید یہ کہ ایک کشتی کو کسی کیمیائی مادہ سے نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ایک کارکن کا چہرہ زخمی ہوا، ریڈیو مواصلاتی نظام میں بھی شدید خلل ڈالا گیا اور رابطے کے بجائے موسیقی نشر کی گئی، جو بظاہر خوف و ہراس پھیلانے کی حکمت عملی تھی۔
یاراٹا کے مطابق، ان کارروائیوں کا مقصد صرف خوف پھیلانا ہی نہیں بلکہ عملے کو نیند اور آرام سے محروم رکھنا ہے تاکہ غزہ تک رسائی میں رکاوٹ ڈالی جا سکے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی انسانی مشن کو جاری رکھتے ہوئے محصور عوام تک ضروری امداد پہنچائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام واقعات اس وقت پیش آئے جب کاروان بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھا، ان کا ماننا ہے کہ حملے قبرص میں قائم نیٹو کے اڈے سے کیے گئے، حالانکہ وہاں ایسی کارروائی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔
کاروان کے شرکا کو توقع ہے کہ اگلے چھ سے سات دنوں میں وہ غزہ کے ساحلوں تک پہنچ جائیں گے، ان کے بڑے جہاز چھ سے آٹھ ناٹیکل میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر چھوٹی بادبانی کشتیاں چار ناٹ کی رفتار سے چلتی ہیں، اسی لیے سب کشتیوں نے حفاظت اور یکجہتی کے لیے ایک ہی رفتار برقرار رکھی ہے۔

مشہور خبریں۔

لندن میں عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے خلاف احتجاج

?️ 31 دسمبر 2025 لندن میں عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے

مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فورسز نے2024میں 101کشمیری شہید ،3ہزار4سو92افراد گرفتار کیے

?️ 1 جنوری 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالات معمول پرآنے کے بی جے پی حکومت کے جھوٹے دعوے کی مذمت

?️ 12 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

تل ابیب کے لیے امریکی حمایت کا سلسلہ جاری

?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں:لبنانی اخبار الاخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ کی جنگ

پاکستان میں شیعہ عزاداروں پر دہشت گردانہ حملہ، عراقی رہنما نے شدید مذمتی بیان جاری کردیا

?️ 20 اگست 2021بغداد (سچ خبریں)  پاکستان کے صوبہ پنجاب میں شیعہ عزاداروں کے ماتمی

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ریمارکس مضحکہ خیز اور بلاجواز ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ

?️ 15 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے افغانستان سے متعلق

واٹس ایپ میں بھی تبدیلی کی جارہی ہے

?️ 31 اکتوبر 2021نیویارک(سچ خبریں) امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (فیس بک) کی زیر

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی ریٹائرمنٹ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ غیر فعال ہوگئی

?️ 12 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا آفریدی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے