ڈونلڈ ٹرمپ کا قابلِ اعتماد یہودی مشیر، قومی سلامتی کے مشیرِ کے لیے مرکزی امیدوار

ڈونلڈ ٹرمپ کا قابلِ اعتماد یہودی مشیر، قومی سلامتی کے مشیرِ کے لیے مرکزی امیدوار

?️

سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیرِ قومی سلامتی مائیک والٹز کو برطرف کر دیا ہے اور ان کی جگہ اسٹیفن ملر کو ممکنہ جانشین کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے، جو امیگریشن پالیسی کے معمار اور ٹرمپ کے قریبی سیاسی مشیر ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشیرِ قومی سلامتی مائیک والٹز اور ان کے نائب کی برطرفی کے بعد، اس عہدے کے لیے نئے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نام اسٹیفن ملر کا ہے، جو ٹرمپ کے سینئر سیاسی مشیر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔
اسٹیفن ملر، جو وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بھی ہیں، ماضی میں امیگریشن پالیسی سمیت متعدد اندرونی پالیسیوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہیں ٹرمپ کے قریبی اور پرانے مشیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسٹیفن ملر 39 سال کے ہیں اور امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا مونیکا میں ایک یہودی اور لبرل ڈیموکریٹ خاندان میں پیدا ہوئے۔
 وہ 2021 میں ایک پوڈکاسٹ میں بتا چکے ہیں کہ انہوں نے ہائی اسکول کے دوران قدامت پسند نظریات کی طرف رجحان اختیار کیا، اور صرف 16 سال کی عمر میں ریپبلکن بن گئے۔
انہوں نے 2007 میں ڈیوک یونیورسٹی سے سیاسیات میں گریجویشن کیا، دورانِ تعلیم وہ یونیورسٹی کے جریدے میں قدامت پسند خیالات پر مبنی مضامین تحریر کیا کرتے تھے۔
ملر ان چند افراد میں شامل ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی اور دوسری حکومت دونوں میں فعال رہے، وہ 2016 میں ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بطور سینئر سیاسی مشیر شامل ہوئے اور ان کا بنیادی کردار ٹرمپ کی تقاریر تحریر کرنا تھا، انہوں نے 2016 کے ریپبلکن نیشنل کنونشن میں ٹرمپ کی مرکزی تقریر کا مسودہ بھی تیار کیا۔
انتخابی کامیابی کے بعد، ملر کو ٹرمپ کے عبوری دور میں نیشنل پالیسی کا ڈائریکٹر اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں سینئر مشیر مقرر کیا گیا، ان کی توجہ ابتدا میں داخلی پالیسیوں پر رہی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا بنیادی فوکس امیگریشن پالیسی پر مرکوز ہو گیا۔
اسٹیفن ملر اس وقت وائٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی متنازعہ امیگریشن پالیسیوں کا مرکزی دماغ قرار دیا جاتا ہے، جن میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاری اور ملک بدری کی پالیسیاں شامل ہیں۔
ملر ان افراد میں شامل ہیں جو غیر قانونی مہاجرین کو عدالت کے بغیر قانونی چارہ جوئی کے بغیر ملک بدر کرنے کے سخت حامی ہیں، ان کی پالیسیوں نے ٹرمپ کے دور میں امیگریشن پر سخت موقف کو جنم دیا۔

مشہور خبریں۔

امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی میں دنیا کو کیسے دیکھا گیا ہے؟

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی ایک سرکاری دستاویز ہے

نائیجر میں تبدیلی مغربی استعمار کے خلاف بغاوت : عطوان

?️ 9 اگست 2023سچ خبریں:ممتاز فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنا نیا مضمون افریقی

عدالت کا فوکس صرف ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ہے:چیف جسٹس

?️ 5 اپریل 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)غیر معمولی سیاسی صورتحال پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس

ڈیجیٹل پاکستان کی جانب پیش رفت کیلئے قومی کمیشن، اتھارٹی بنانے کا فیصلہ

?️ 25 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈیجیٹل پاکستان کی جانب تیز رفتار پیش رفت

لبنانی پارلیمنٹ کے رکن نے لبنان کے خلاف نئی جنگ کی وجوہات بتائی

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: لبنانی قانون ساز نے لبنان کی سرزمین پر قابضین کی

ایران کے میزائل حملے مہلک اور سخت ترین تھے؛صیہونی اپوزیشن لیڈر کا اعتراف 

?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید اور دیگر حکام نے ایران

"بے مثال سیاسی تعطل” میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو مسلسل نظر انداز کرنا

?️ 18 مئی 2025سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے "ڈونلڈ ٹرمپ” کے حالیہ اقدامات کی طرف

صیہونی فوج میں بغاوت کے آثار

?️ 5 مارچ 2023سچ خبریں:عبرانی ذرائع نے عدالتی اصلاحات کی منظوری کے لیے نیتن یاہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے