طوفان الاقصیٰ کیوں انجام پایا؟

طوفان الاقصیٰ کیوں انجام پایا؟

?️

سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ محض ایک اچانک کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک حتمی جنگ کا پیش خیمہ تھا،اگر یہ حملہ نہ بھی ہوتا تب بھی صیہونیوں کا مزاحمتی محاذ پر حملہ یقینی تھا، حماس نے دو دہائیوں کے محاصرے کے بعد فلسطینی آرمان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے خطرہ مول لیا۔

کچھ مبصرین اگرچہ طوفان الاقصیٰ کو حماس کی غلط حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں، لیکن کئی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اگر یہ آپریشن نہ بھی ہوتا تو اسرائیل کی طرف سے مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ بہرحال شروع ہونے والی تھی، اس لحاظ سے طوفان الاقصیٰ کو ایک پیش‌دستانہ اقدام (Preemptive Strike) قرار دیا جا سکتا ہے جس نے کھیل کے قواعد بدل دیے۔

یہ بھی پڑھیں:حماس: الاقصیٰ طوفان خطے کے سیاسی اور عسکری میدان میں ایک اہم موڑ تھا

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کی دوسری برسی کے موقع پر ایک بار پھر اس کے نتائج اور اثرات زیرِ بحث ہیں، خاص طور پر موجودہ مذاکراتی پیش رفت اور حماس کی ٹرمپ پلان سے ابتدائی رضامندی نے یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا طوفان الاقصیٰ فلسطین اور مجموعی طور پر محورِ مزاحمت کے مفاد میں تھا یا نہیں۔

🔹 دو سالہ جنگ کا بھاری انسانی نقصان

دو سال کی مسلسل لڑائی کے بعد غزہ کے 70 ہزار شہری شہید، 200 ہزار سے زائد زخمی، اور شہر کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ تباہ ہو چکا ہے، صہیونی حکومت اب بھی غزہ کے بڑے حصے پر قبضہ جمائے ہوئے ہے،
اسی دوران، حزب‌اللہ — جو حماس کی حمایت میں اس جنگ میں شریک ہوا — ستمبر 2024 میں شدید ترین حملوں کی زد میں آیا، جن میں حزب‌اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی شہادت بھی شامل ہے۔

بعض ناقدین کے مطابق، 18 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ بھی اسی تسلسل کا نتیجہ تھا، جو حزب‌اللہ کو کمزور کرنے اور دمشق کو غیر مستحکم کرنے کے منصوبے سے منسلک تھا۔

🔹 طوفان الاقصیٰ؛ ایک ناگزیر ردعمل

تاہم اس مفروضے کو کہ یہ کارروائی حماس کی غلطی تھی، دو زاویوں سے رد کیا جا سکتا ہے۔
1۔ طوفان الاقصیٰ اسرائیل اور عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی تعلقات کی بحالی (Normalization) کے خلاف ایک ردِعمل تھا، حماس جانتی تھی کہ یہ قدم صیہونی انتقام کو بھڑکائے گا، مگر بیس سالہ محاصرے اور اقتصادی دباؤ کے بعد اس کے پاس یا تو تدریجی موت قبول کرنے یا ایک مہم جو اقدام کے ذریعے حالات بدلنے کا انتخاب تھا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ حماس نے وہ راستہ اپنایا جس نے فلسطینی مسئلے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

🔹 فلسطینی آرمان کی عالمی بیداری

طوفان الاقصیٰ کے بعد دنیا بھر میں فلسطینی حمایت کی لہر اٹھی۔
امریکہ سے لے کر مشرقِ بعید تک لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے۔
یہاں تک کہ یورپ کے کئی ممالک — جو طویل عرصے سے اسرائیل کے اتحادی سمجھے جاتے تھے — آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

یہ سب اُس وقت ممکن ہوا جب 7 اکتوبر 2023 سے قبل اکثر ممالک اپنے امریکی و اسرائیلی اقتصادی مفادات کے سبب فلسطین کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھے۔

🔹 فوجی لحاظ سے بھی ایک پیش‌دستانہ کارروائی

دوسری طرف، طوفان الاقصیٰ صرف ایک سیاسی یا اخلاقی فریاد نہیں تھی بلکہ ایک پیش‌دستانہ عسکری حملہ تھا تاکہ دشمن کے پہلے وار سے پہلے مزاحمت دفاعی تیاری کر سکے۔

حماس کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل حماس کے مرکزی قیادت کو ختم کرنے کے منصوبے پر پہلے ہی عمل کر رہا تھا۔
درحقیقت، اسرائیلی انٹیلی جنس نے ستمبر 2023 میں لبنان میں پیجر آپریشن کے نام سے ایک منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔
اسرائیلی چینل 12 کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کے تحت آلوده آلات اور جاسوسی نیٹ ورک لبنان کے اندر داخل کیے گئے تھے — یعنی صہیونی حملہ کئی ماہ سے تیاری کے مرحلے میں تھا۔

لہٰذا اگر حماس یا حزب‌اللہ نے پہلے حملہ نہ کیا ہوتا، تو خود اسرائیل کا غافلگیر حملہ حزب‌اللہ اور فلسطینی تنظیموں کے لیے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا۔

🔹 مزاحمتی محاذ کے لیے حکمتِ عملی کا لمحہ

طوفان الاقصیٰ کو دراصل اُس جنگ کا شعلہ کہا جا سکتا ہے جو برسوں پہلے شروع ہو چکی تھی۔
فرق صرف یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی نہ ہوتی، تو محور مزاحمت اسرائیلی حملے کا شکار ہو کر مکمل غافلگیری میں تباہ ہوتا۔
اب جبکہ دو سال کی جنگ میں شدید نقصان کے باوجود مزاحمت اب بھی میدان میں ڈٹی ہوئی ہے اور اسرائیل کو کسی محاذ پر استحکام حاصل نہیں ہو سکا، یہ بات واضح ہے کہ اس جنگ نے قابض نظام کو دائمی عدمِ اطمینان میں مبتلا کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:الاقصیٰ طوفان کے 2 سال بعد؛ کامیابیاں ؛ 4 علاقائی ماہرین کا تجزیہ

واضح رہے کہ طوفان الاقصیٰ محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی موڑ تھا جس نے فلسطین کے مسئلے کو دوبارہ زندہ کیا، عالمی رائے عامہ کو بیدار کیا، اور محور مزاحمت کو دفاعی پوزیشن سے جارحانہ توازن میں بدل دیا،یہ ایک ایسی جنگ تھی جو بہرحال ہونی تھی فرق صرف اتنا ہے کہ کون پہلے حرکت کرتا۔

مشہور خبریں۔

شام پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ میں شامی مندوب کا شدید ردعمل

?️ 14 دسمبر 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے قصی الضحاک نے شام میں

پاکستان کا تخلیقی شعبہ بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ احسن اقبال

?️ 28 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب

فیس بک و انسٹاگرام ریلز کو ازخود ترجمہ کرنے کے فیچر کی آزمائش

?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: سوشل میڈیا کمپنی میٹا کی جانب سے فیس بک اور

’ذرا برابر بھی پریشانی نہیں‘

?️ 7 جنوری 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء حماد اظہر نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے

زنگزور کوریڈور کے 2028 میں شروع ہونے کا امکان

?️ 7 جنوری 2024سچ خبریں:کوریڈور ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ اور مواصلات عبدالقادر اورا اوغلو نے

24 مئی سے تعلیمی ادارے اور سیاحتی ادارے کھل سکتے ہیں

?️ 20 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او

بگٹی قبیلے کے نئے سربراہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز کی دستار بندی

?️ 29 دسمبر 2025ڈیرہ بگٹی (سچ خبریں) وزیراعلی بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کو ’بگٹی قبیلے‘

اسرائیل کی بحری ناکہ بندی 

?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں: اسرائیلی بحریہ کے سابق کمانڈر ایلیزر ماروم نے کہا کہ ابھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے