?️
سچ خبریں:ڈیموکریٹس نے امریکی حکومت پر اپسٹین کیس میں دانستہ پردہ پوشی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے قریبی افراد کو بچانے کے لیے لاکھوں صفحات خفیہ رکھے گئے ہیں۔
امریکی سیاست میں ڈیموکریٹس اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ڈیموکریٹس نے اپسٹین کیس میں کھلی پردہ پوشی اور حقائق چھپانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چارلی کرک کے قتل کے بعد ایف بی آئی ڈائریکٹر کش پٹیل کو ہٹانے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں
امریکی وزارتِ انصاف کی جانب سے بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں سزا یافتہ ارب پتی جفری اپسٹین سے متعلق تقریباً تیس لاکھ صفحات کی اشاعت کے باوجود یہ معاملہ ختم ہونے کے بجائے مزید تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف نامکمل ہے بلکہ قانون کے منافی بھی ہے اور اس کا مقصد ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
وزارتِ انصاف کے مطابق اپسٹین کیس سے متعلق مجموعی طور پر ساٹھ لاکھ سے زائد صفحات کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان میں سے تقریباً پینتیس لاکھ صفحات ہی جانچ پڑتال اور حساس معلومات حذف کرنے کے بعد جاری کیے گئے ہیں، اور حکومت نے اسی کو آخری مرحلہ قرار دیا ہے۔ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ اس طرح تقریباً نصف ریکارڈ تاحال خفیہ رکھا گیا ہے، جو اپسٹین فائلز سے متعلق شفافیت کے قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن رابرٹ گارسیا نے اس اقدام کو انتہائی اشتعال انگیز اور تشویشناک قرار دیا۔ عدالتی کمیٹی کے سینیئر رکن جیمی راسکِن نے مطالبہ کیا ہے کہ کانگریس کو فوری طور پر غیر حذف شدہ دستاویزات تک رسائی دی جائے اور یہ جانچا جائے کہ کی گئی حذف کاری قانونی تھی یا نہیں۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے قانون ساز رو کھنّا نے کہا کہ فائل کا بڑا حصہ خفیہ رکھنا ایک انتہائی سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے اقلیتی رہنما چک شومر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹرمپ کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
اسی تناظر میں ڈیموکریٹس نے وزارتِ انصاف کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں غیر حذف شدہ فائلز تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ معلومات چھپانے کا مقصد متاثرین کا تحفظ تھا یا بااثر شخصیات کو بچانا۔ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی وزارتِ انصاف کے ساتھ اجلاس کا مطالبہ کیا ہے اور مزید قانونی اقدامات کی دھمکی دی گئی ہے۔
دوسری جانب، نائب اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معلومات کی حذف کاری صرف متاثرین اور حساس تفصیلات کے تحفظ کے لیے کی گئی اور فائلز کی اشاعت مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق اگر کانگریس چاہے تو غیر حذف شدہ دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:جفری اپسٹین، امریکی جنسی دلال، کون تھا اور اس کا فساد کیس کیوں متنازعہ بن گیا؟
اس وقت اپسٹین کیس امریکی کانگریس میں شدید سیاسی تصادم کا مرکز بن چکا ہے، جہاں ڈیموکریٹس اسے ٹرمپ پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اور ریپبلکن اراکین ان الزامات کو مبالغہ آرائی اور بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کے مقدمے کی سماعت سیکورٹی مسائل کی وجہ سے اچانک معطل
?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق، وزیراعظم بنیامین نیتن
جولائی
غزہ جنگ میں شام کی شرکت کے فوائد اور خطرات
?️ 27 دسمبر 2023سچ خبریں:7 اکتوبر کو الاقصیٰ طوفانی آپریشن کے آغاز کے بعد اور
دسمبر
پاکستان میں بجلی کی طلب میں کمی کے باعث آر ایل این جی کے سرپلس میں اضافہ
?️ 22 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں بجلی کی طلب میں کمی کے نتیجے میں ری
اکتوبر
میلبورن یونیورسٹی کی جانب سے صیہونی حکومت کا بائیکاٹ
?️ 18 اگست 2022سچ خبریں: نیو عرب ویب سائٹ کے مطابق آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی
اگست
آئینی ترمیم نے پاکستان کی جمہوریت پر شب خون مارا ہے، حافظ نعیم الرحمٰن
?️ 21 اکتوبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے
اکتوبر
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل مستعفی
?️ 29 جون 2024سچ خبریں: عمر ایوب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے
جون
لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کو ایک ہفتے میں بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم
?️ 2 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس افسر (آر پی او)
اکتوبر
ہیگ کورٹ کا افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کرنے پر زور
?️ 2 ستمبر 2022سچ خبریں: دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹرز
ستمبر