?️
سچ خبریں:ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انقرہ میں برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے بعد واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا تسلسل اور خطے میں مستقل امن ترکی کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انقرہ میں اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ بندی کا تسلسل اور مستقل امن کا قیام ترکی کی اولین اسٹریٹجک ترجیحات میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانیوں نے امریکہ اور اسرائیل کا بھرم کیسے ختم کیا؟
ترک سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق، ہاکان فیدان نے خطے میں استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان آتش بس کو برقرار رکھنا، اس کی خلاف ورزی سے گریز اور مستقل امن کی طرف واپسی، موجودہ حالات میں انقرہ کی اہم ترین اسٹریٹجک ترجیح ہے۔
انہوں نے ترکی اور برطانیہ کے مابین مختلف شعبوں خصوصاً معیشت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وسیع تعاون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی تجارتی سرگرمیاں 30 ارب ڈالر کے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہیں اور اس ہدف کو پچھلے چند برسوں سے بہت سنجیدگی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں کافی اقدامات کیے ہیں تاہم ان تعلقات کی مزید توسیع کے لیے آزاد تجارت کے معاہدے کی تجدید ضروری ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ترکی اور برطانیہ کے مابین خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی زیادہ تر موضوعات مثلاً غزہ، شام، ایران، عراق اور روس-یوکرین تنازعے پر کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور دونوں ممالک روس اور یوکرین کے مابین جنگ بندی کے بھرپور حامی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج تہران میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران آتش بس کے تسلسل اور امریکی پابندیاں ہٹانے کی تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ جب امن کی بات کی جاتی ہے تو ساتھ ہی پابندیوں کا ایک نیا پیکیج بھی سامنے آ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانیوں نے امریکہ اور اسرائیل کا بھرم کیسے ختم کیا؟
ایسے نشیب و فراز بالکل قابل اعتماد نہیں ہوتے اور ان کو صرف میڈیا گیم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، ایک سفارتی عمل کے عروج پر، اسرائیل نے امریکہ کی ہم آہنگی سے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا۔ اس جارحیت کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ایرانی قوم پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آئی اور دشمن کو یہ باور کرایا کہ جارحیت جاری رکھنا اس کے مفاد میں نہیں ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران، فواد، اسد عمر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
?️ 10 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن پاکستان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں
جنوری
قیدیوں کے تبادلہ کیس میں صہیونی سازش کو شکست
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے 40ویں دن
فروری
مغربی افغانستان میں سیلاب سے بھاری جانی و مالی نقصان
?️ 10 جولائی 2022سچ خبریں: طالبان ذرائع نے اس ملک کے مغربی صوبے نورستان میں
جولائی
بائیڈن کے استعفیٰ کے بعد ہیریس کی کارکردگی
?️ 16 اگست 2024سچ خبریں: کملا ہیرس، نائب صدر جو بائیڈن کے مہم کے دفتر
اگست
"جولانی” کے لیے امریکہ کی تعریف و توصیف کا راز کیا ہے/ لبنان کی "بلاد الشام” میں واپسی کی کہانی؟
?️ 13 جولائی 2025سچ خبریں: رائی الیوم اخبار نے شام کی عبوری حکومت کے سربراہ
جولائی
جن ممالک کو بوجھ سمجھ کر کاندھے سے اتارا، آج نہیں دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، وزیراعظم
?️ 24 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جن ممالک
اپریل
استنبول میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے
?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: استنبول کے عوام نے صیہونی حکومت کے حملوں کی امریکی
مئی
چینی درآمدات امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگی دباو میں
?️ 10 ستمبر 2025چینی درآمدات امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگی دباو میں امریکی جریدے نیوزویک
ستمبر