افغانستان میں پولیو ورکرز پر حملے، متعدد افراد ہلاک ہوگئے

افغانستان میں پولیو ورکرز پر حملے، متعدد افراد ہلاک ہوگئے

?️

کابل (سچ خبریں) افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کی جانب سے پولیو ورکرز پر حملے کیئے گئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افغان حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقے میں 3 ماہ کے دوران پولیو ورکرز پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، صوبہ ننگر ہار کے پولیس ترجمان فرید خان کا کہنا تھا کہ ایک گھنٹے کے دوران 3 مختلف مقامات پر حملے کیے گئے۔

انہوں نے واقعے کی ذمہ داری طالبان جنگجوؤں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ صحت رضاکاروں کو نشانہ بنانا ان کا کام ہے، جو چاہتے ہیں کہ لوگ پولیو ویکسینیشن سے محروم رہیں، وزارت صحت کے ترجمان عثمان طاہری نے واقعے کی تصدیق کی جبکہ طالبان نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا۔

خیال رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے سوا دنیا کے دیگر تمام ممالک میں پولیو کے خاتمے کا اعلان ہو چکا ہے جبکہ ان دو ممالک میں پولیو کی ویکسین کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان اور مذہبی رہنما عوام کو اکثر بتاتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ پولیو ویکسین مغرب کی کوئی سازش ہے، جس کا مقصد مسلمان بچوں کے تولیدی نظام کو متاثر کرنا ہے اور وہ یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ مذکورہ ویکسینیشن مہمات کا مقصد جنگجوؤں کی جاسوسی ہے۔

افغان حکام کے مطابق طالبان، اپنے زیر اثر علاقوں میں گھر گھر پولیو ویکسینیشن کی مہم کی اجازت نہیں دیتے۔

گذشتہ روز کے واقعے سے متعلق مقامی حکومت کے عہدیداروں نے بتایا کہ ننگر ہار میں مختلف حملوں میں 5 پولیو رضا کار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا، اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں مزید 3 رضا کار زخمی ہوئے۔

صحت کے حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیو مہم کو روک دیا گیا، عہدیدار نے نام نہ بتانے کی درخواست پر کہا کہ یہ تمام پولیو رضاکاروں پر ٹارگٹڈ حملے تھے، جس کے بعد ہم نے صوبہ ننگر ہار میں پولیو مہم معطل کردی، بعد ازاں اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار رمیز الکباروف نے واقعے کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے افغانستان کے لیے نائب نمائندہ خصوصی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک جاری بیان میں کہا کہ بچوں کو صحت کی سہولیات سے روکنا غیر انسانی سلوک ہے، بے حس تشدد کو اب ختم ہونا چاہیے، ذمہ داروں کی تفتیش ہونی چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

یاد رہے کہ افغانستان بھر میں سیاستدانوں، رضاکاروں اور صحافیوں پر حملے ہو رہے ہیں جن کا الزام افغان حکومت طالبان پر عائد کرتے ہیں جبکہ طالبان ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے افغانستان کے شمالی حصے میں کان کی صفائی کرنے والے ادارے حالو ٹرسٹ (HALO) کے 10 افراد کو فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کردیا گیا تھا۔

حکومت نے الزام لگایا تھا کہ طالبان مذکورہ حملے کے پیچھے ہیں جبکہ مذکورہ ادارے نے بتایا تھا کہ مقامی جنگجوؤں نے ان کی مدد کی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے ملک سے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے ملک بھر میں حملوں میں اضافہ کردیا ہے، غیر ملکی افواج ستمبر سے قبل مکمل طور پر ملک سے انخلا کرجائیں گی جبکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔

مشہور خبریں۔

کیا اسرائیل عنقریب ٹکڑوں میں بٹنے والا ہے،موساد کے سابق سربراہ کیا کہتے ہیں؟

?️ 10 اگست 2023سچ خبریں: موساد کے سابق سربراہ نے ایک کالم میں لکھا ہے

الجزائر نے مراکش کے ساتھ مفاہمت پر مبنی عرب لیگ کے منصوبے کو مسترد کردیا

?️ 11 ستمبر 2021سچ خبریں:الجزائر پچھلے مہینے مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے

بائیڈن کیسے شمالی غزہ کے قحط میں شریک ہیں؟ برطانوی اخبار کی زبانی

?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: برطانوی اخبار نے ایسی دستاویزات نیز موجودہ اور سابق امریکی

غزہ میں 75 ہزار سے زیادہ بچے یتیم ہو گئے، پانی کی شدید قلت کا بحران 

?️ 26 اگست 2026سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی کی میونسپلٹیوں نے پانی کے بحران

ہر روز حماس کے ایک ممتاز قیدی کو پھانسی دی جانی چاہیے!: بن گوئر

?️ 19 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اٹمر بن گویر نے اعلان کیا کہ

ہمیں اپنے جوہری وار ہیڈز میں تیزی سے اضافہ کرنا چاہیے: شمالی کوریا

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:     شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کِم

تل ابیب پر مزاحمتی حملے

?️ 27 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے آج خبر

ُغم کی خبر، پی ٹی آئی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی

?️ 27 فروری 2021کراچی {سچ خبریں} بر سر اقتدار پارٹی یعنی پی ٹی آئی میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے