2026  کے الیکشن اور ٹرمپ کی کمزور معاشی کارکردگی

ٹرمپ

?️

2026  کے الیکشن اور ٹرمپ کی کمزور معاشی کارکردگی
امریکا میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی کارکردگی ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس مہنگائی میں کمی کو بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے، تاہم زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، قوتِ خرید میں کمی اور صارفین کے اعتماد میں گراوٹ ایسے عوامل ہیں جو آئندہ انتخابات میں ووٹروں کے فیصلے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کو تقریباً ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور معیشت ان کی مقبولیت کا سب سے اہم پیمانہ بن چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کے قریبی حلقے معاشی اصلاحات اور ’’غیر معمولی کامیابیوں‘‘ کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی، رہائش کے اخراجات اور روزمرہ زندگی کی لاگت اب بھی امریکی عوام کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں۔
امریکی جریدے نیوزویک کے مطابق، اگرچہ مہنگائی کی شرح نومبر 2025 میں کم ہو کر 2.7 فیصد تک آ گئی ہے، جو بائیڈن دور کے ابتدائی سال میں ریکارڈ کی گئی 6.8 فیصد سے کہیں کم ہے، لیکن یہ شرح ٹرمپ کی پہلی مدت اور باراک اوباما کے ابتدائی دور کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے۔ 2017 میں مہنگائی 2.2 فیصد اور 2009 میں 1.8 فیصد تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی صدر کی پالیسیوں کے مکمل اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے اور سابقہ حکومت سے وراثت میں ملنے والے حالات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشی ماہر ایتھن کیپلن کے مطابق، ٹرمپ کی تجارتی ٹیرف پالیسیوں کے منفی اثرات طویل مدت میں سامنے آ سکتے ہیں، جن میں اندرونی صنعتوں میں جدت کی کمی بھی شامل ہے۔
تجارتی خسارہ ٹرمپ کی معاشی پالیسی کا ایک اہم ستون رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے ستمبر کے دوران تجارتی خسارہ نمایاں طور پر کم ہو کر تقریباً 52.8 ارب ڈالر رہ گیا ہے، جو بائیڈن دور کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ درآمدی اشیا پر عائد ٹیرف کا بوجھ بالآخر صارفین پر ہی پڑتا ہے۔
نومبر میں بے روزگاری کی شرح 4.6 فیصد رہی، جو اگرچہ 2009 کے شدید معاشی بحران کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے، لیکن ٹرمپ کی پہلی مدت اور بائیڈن دور کے ابتدائی سال سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بے روزگاری میں اضافے کا رجحان ٹرمپ کی واپسی سے قبل ہی شروع ہو چکا تھا اور اس کے پیچھے عالمی اور ساختی عوامل کارفرما ہیں۔
امریکا میں گھروں کی قیمتیں عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ 2025 کی دوسری سہ ماہی میں اوسط گھر کی قیمت 410 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو نہ صرف بائیڈن دور بلکہ ٹرمپ کی پہلی مدت کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے برعکس اوباما دور کے آغاز میں معاشی بحران کے باعث گھر کی قیمتیں 221 ہزار ڈالر سے بھی کم تھیں۔
پٹرول کی قیمتوں میں اگرچہ معمولی کمی آئی ہے، لیکن وہ اب بھی ماضی کی کم ترین سطح تک نہیں پہنچ سکیں۔ نومبر میں ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت 3.22 ڈالر رہی، جو 2017 کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔
ٹرمپ اسٹاک مارکیٹ کو اپنی معاشی کامیابی کا اہم پیمانہ قرار دیتے ہیں۔ دسمبر کے وسط تک ڈاؤ جونز انڈیکس میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم یہ اضافہ بائیڈن دور کے آغاز یا ٹرمپ کی پہلی مدت کے مقابلے میں کم ہے۔
سی این این کے تجزیہ کار ہیری اینٹن کے مطابق، نومبر میں صارفین کا اعتماد گزشتہ 75 برسوں کی بدترین سطح پر پہنچ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد آزاد ووٹرز ٹرمپ کی معاشی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2026 کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں اپنی اکثریت کھونے کا خطرہ ہے۔
مجموعی طور پر مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کچھ معاشی اشاریوں میں بہتری کا دعویٰ کر سکتی ہے، لیکن عام امریکی کی روزمرہ زندگی میں محسوس ہونے والا معاشی دباؤ 2026 کے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ایرانی ڈرون کے جعلی بیانیہ پر امریکہ میں تنازعہ

?️ 13 دسمبر 2024سچ خبریں: نیو جرسی پر نامعلوم اڑنے والی اشیاء کو دیکھنے سے

ٹوئٹر کا دو نئے فیچر ز لانے پر غور

?️ 4 جولائی 2021نیویارک( سچ خبریں) صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے سماجی رابطے

مراکش کشتی حادثہ: انسانی اسمگلرز کے گینگ کا سراغ مل گیا، اہم سہولت کار گرفتار

?️ 1 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کمپوزٹ

بیرسٹر سیف کی ارشد ندیم کی کامیابی پر قوم کو مبارکباد

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات، بیرسٹر محمد علی سیف نے ارشد

سعودی عرب نے خطے کے ممالک کو تباہ کرنے کے لیے ہزاروں دہشت گرد بھیجے

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:  12 جنوری 2022 بروز بدھ، جزیرہ نما عرب میں حزب

بن گوئر کے خلاف مظاہروں میں شدت؛ غلط پوزیشن پر غلط وزیر!

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ملٹری انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ آموس

وفاقی وزیر داخلہ کے بڑے بھائی انتقال کر گئے

?️ 17 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے بڑے بھائی

امریکا کا افغانستان میں نیا کھیل، ترکی کو بھی اپنی سازش میں شامل کرلیا

?️ 18 جون 2021کابل (سچ خبریں)  امریکا افغانستان سے نکلتے نکلتے ہر دن کوئی نا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے