ترکی: اسرائیل ایک نئے دشمن کی تلاش میں ہے

ترکی

?️

سچ خبریں: ترکیہ کے وزیر خارجہہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات سے پیدا ہونے والا بحران اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی برادری میں تنہائی کا سامنا کرنے کے بعد اسرائیل اب اپنی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے سرگرمی سے ایک نئے دشمن کی تلاش میں ہے۔

سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ پالیسیاں انسانیت پر ایک بوجھ بن چکی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ اپنے قومی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے نہیں گھبراتا۔

انہوں نے کہا، "جب تک ہمارے قومی اور علاقائی مفادات خطرے میں ہوں گے، ہم کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، نہ ہی کسی قسم کی ہچکچاہٹ دکھائیں گے اور نہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹیں گے۔”

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کشیدگی اور تصادم ان کے کام کا حصہ ہیں اور وہ ان سے خوفزدہ نہیں، کیونکہ آج اسرائیل صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔

فیدان نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ سوچ اور پالیسیاں اس حد تک ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں کہ پوری انسانیت ان کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ ان کے بقول، اسرائیل دانستہ طور پر اپنے لیے نئے دشمن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے گفتگو کے دوران یہ بھی بتایا کہ  کاتسا قانون کے تحت 2017 میں امریکی کانگریس کی جانب سے ترکیہ پر عائد کی گئی پابندیاں اب ختم کیے جانے کے مرحلے میں ہیں۔ ان کے مطابق، ترکیہ اور امریکہ دونوں کی قیادت ان پابندیوں کے خاتمے کی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات جاری ہیں۔

ہاکان فیدان اس سے قبل بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس کا جارحانہ طرزِ عمل پوری دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ترکیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ اسرائیل خطے میں تباہی پھیلانا چاہتا ہے، بعض ممالک پر قبضہ کرنے اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا ارتکاب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فیدان کے مطابق، اس صورتحال کے اثرات صرف عالمی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بڑھتے ہوئے ردِعمل کا سامنا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ ردِعمل مؤثر ثابت ہوگا تاکہ خطے کے تمام ممالک امن، استحکام اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے غزہ کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا، لیکن اب ایران سے متعلق معاملات کے نسبتاً حل ہونے کے بعد خطے کے ممالک دوبارہ غزہ کے بحران کے حل پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

روس کے آمور پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں آتشزدگی، 5 افراد زخمی

?️ 25 اگست 2026سچ خبریں:روس کے مشرق بعید میں آمور گیس کیمیکل کمپلیکس کے پیٹروکیمیکل

کیا یوکرین والے فلسطینیوں سے زیادہ انسان ہیں؟

?️ 28 اکتوبر 2023اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل نمائندے نے غزہ اور یوکرین کے

پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ کے تناظر میں عمران خان کو نظر بند کرنے کا منصوبہ تیار

?️ 7 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پی

بحیرہ احمر میں امریکہ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں: یمنی مسلح افواج نے ایک بیان جاری کیا جس میں

اسرائیل توسیع پسندانہ پالیسیاں اپنا رہا ہے:ترکی  

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:ترکی کی وزارت خارجہ نے صہیونی ریاست کے شام پر

کیا سابق عراقی وزیراعظم کو بھی جیل کی ہوا کھانا پڑے گی؟

?️ 18 اگست 2023سچ خبریں: عراق کی شفافیت کمیٹی نے تین اعلیٰ اداروں کو الگ

امریکی انخلا کے فیصلے نے واشنگٹن اور برلن کے درمیان دراڑ کو مزید گہرا کر دیا ہے: این ٹی وی

?️ 2 مئی 2026 سچ خبریں:امریکی وزیر جنگ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا

امریکہ یمن میں کیا کرنے جا رہا ہے ؟

?️ 20 اگست 2023سچ خبریں:یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے