ایران کے خلاف جنگ نے برطانیہ کے دفاعی نظریے کو بدل دیا

دکترین

?️

سچ خبریں: امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ میں ڈرونز اور بغیر پائلٹ نظاموں کے بڑھتے ہوئے کردار نے برطانیہ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے اور اربوں پاؤنڈز ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں پر خرچ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ایرنا کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ “جنگ سے بچنے کا بہترین طریقہ جنگ کے لیے تیار رہنا ہے۔” انہوں نے ملک کی نئی دفاعی حکمتِ عملی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج کے بجٹ میں مزید 15 ارب پاؤنڈ کا اضافہ کیا جائے گا۔

ان کے مطابق آئندہ چار برسوں میں برطانیہ کے فوجی اخراجات تقریباً 300 ارب پاؤنڈ تک پہنچ جائیں گے، جبکہ دفاعی بجٹ کا حصہ مجموعی قومی پیداوار کے 2.7 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ حکومت اگلے پارلیمانی دور میں دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 3 فیصد تک لے جانے کی کوشش کرے گی اور یہ ہدف آئندہ اخراجاتی جائزے میں اولین ترجیح ہوگا۔

ان کے مطابق دفاع، توانائی سکیورٹی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر مجموعی اخراجات جی ڈی پی کے 4.2 فیصد تک پہنچ جائیں گے۔ برطانیہ پہلے ہی نیٹو وعدوں کے تحت اس شرح کو مستقبل میں 5 فیصد تک بڑھانے کا عہد کر چکا ہے۔

وزیرِاعظم نے اعتراف کیا کہ اس منصوبے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر وزارتوں کے سرمایہ جاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑے گی، اور مختلف محکموں کے تعمیراتی فنڈز کا ایک فیصد دفاعی شعبے کو منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سڑکوں اور توانائی کے منصوبے، جو اگرچہ اہم ہیں مگر فوری طور پر ضروری نہیں، منصوبے کے مطابق مؤخر کر دیے جائیں گے تاکہ ان کے وسائل فوجی اخراجات پر خرچ کیے جا سکیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب برطانوی معیشت سست روی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور عوامی خدمات پر بڑھتے دباؤ کا شکار ہے، اور حکومت اب ترقیاتی منصوبوں کے وسائل دفاعی منصوبوں کی طرف منتقل کر رہی ہے۔

اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ دفاعی بجٹ کو لامحدود اخراجات کا میدان نہیں بنایا جا سکتا، اور وزارتِ دفاع کو نہ صرف زیادہ خرچ کرنا ہوگا بلکہ موجود وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنا ہوگا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے خریداری کے نظام میں اصلاحات، جدت میں تیزی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وزارتِ دفاع کے انتظامی عملے میں کمی کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے دفاعی برآمدات کے لیے 50 ارب پاؤنڈ کے ایک نئے مالیاتی منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد برطانوی اسلحہ ساز کمپنیوں کو عالمی منڈیوں میں فروخت بڑھانے میں مدد دینا ہے۔

برطانیہ کے دفاعی سرمایہ کاری پروگرام کا مرکزی نکتہ آئندہ چار برسوں میں 5 ارب پاؤنڈ سے زائد رقم ڈرونز اور خودکار نظاموں پر خرچ کرنا ہے، جسے حکومت نے فوجی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری قرار دیا ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے خلاف جنگ اور یوکرین جنگ نے جدید جنگی حکمتِ عملی کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، اور ڈرون ٹیکنالوجی میدانِ جنگ کی نوعیت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔

حکومت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران عروج پر روزانہ تقریباً 700 حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے، اور اب جدید فوجی ٹیکنالوجی چند سال نہیں بلکہ چند ہفتوں میں تیار ہو کر میدان میں آ رہی ہے۔

اسی تجزیے کو برطانیہ کی نئی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد بنا دیا گیا ہے، جس کے تحت برطانوی فوج ایک مربوط نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ڈرونز، بغیر پائلٹ لڑاکا طیارے، خودکار بحری جہاز اور جدید اسلحہ ایک ساتھ کام کریں گے۔

برطانوی زمینی فوج 2030 تک کم از کم 24 خودکار مسلح ڈرونز حاصل کرے گی، جو جاسوسی، درست حملوں اور الیکٹرانک جنگی کارروائیوں میں استعمال ہوں گے، جبکہ مزید 24 ڈرونز پرانے “واچ کیپر” نظام کی جگہ لیں گے۔

اس کے علاوہ “ریپ اسٹون” نامی پروگرام کے لیے 50 ملین پاؤنڈ مختص کیے گئے ہیں تاکہ خودکار ڈرونز اور جدید گولہ بارود کی تعداد بڑھائی جا سکے، اور بغیر پائلٹ زمینی گاڑیوں کے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

بحری شعبے میں بھی برطانوی بحریہ کو ایک مخلوط نظام میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں جہازوں، آبدوزوں، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظاموں کو یکجا کیا جائے گا۔ اس میں بغیر عملے کے میزائل پلیٹ فارمز، آبدوزوں کے خلاف خودکار نظام اور بغیر پائلٹ نگرانی کے نظام شامل ہوں گے۔

یہ دفاعی منصوبہ تقریباً 9 ماہ کی تاخیر کے بعد جاری کیا گیا ہے اور اس پر وزارتِ دفاع اور خزانے کے درمیان شدید اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ فوجی قیادت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ آئندہ چار سال میں 28 ارب پاؤنڈ کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جو آلات کی خریداری، تربیت اور بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کو متاثر کرے گا۔

اس تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے جدید جنگی حکمتِ عملی میں ڈرونز کے کردار کو نمایاں کر کے برطانیہ کو اپنی دفاعی پالیسی ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کیا ہے، اور اب لندن روایتی فوجی ڈھانچے کے بجائے بغیر پائلٹ نظاموں پر مبنی نئے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

جنوبی افریقہ میں نایاب معدنیات پر امریکہ کی نظر

?️ 20 اپریل 2026سچ خبریں:امریکہ نے چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے

اوسلو مذاکرات اور معاہدے کو 30 سال گزر چکے ہیں لیکن نتیجہ، کچھ بھی نہیں

?️ 14 ستمبر 2023سچ خبریں:آج فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور صیہونی عبوری حکومت کے درمیان اوسلو

فوج مداخلت نہیں کرے گی:آرمی چیف

?️ 23 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ

ایران کے خلاف جنگ کے نتائج پر عالمی میڈیا کا تجزیہ

?️ 26 جون 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ کے اثرات

غزہ میں قتل عام، دوحہ میں حماس کی بمباری اور امریکہ میں چارلی کرک کا قتل

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: حسن صفرخانی ایرانی ڈپلومیسی کے ایک نوٹ میں لکھتے ہیں:

بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پرالزام لگا رہا ہے۔ پاک فوج

?️ 9 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے

کیا اسرائیل اپنی کھوئی ہوئی عزت واپس لا سکتا ہے؟

?️ 16 اپریل 2024سچ خبریں: حماس کے رکن نے صیہونی حکومت کے خلاف ایران کی

جنوب لبنان میں سیکیورٹی واقعے میں متعدد صہیونی زخمی

?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت کے میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جنوب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے