?️
سچ خبریں: سعودی عرب نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کا حصول غزہ میں جنگ بندی، فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو روکنے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اقدامات پر منحصر ہے۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب "عبدالعزیز بن محمد الواصل” نے این پی ٹی معاہدے کے جائزے کی 11ویں کانفرنس کے اجلاسوں اور اس بین الاقوامی ادارے کے اندر علاقائی پیش رفت کے بارے میں مشاورت کے دوران خطاب کیا۔
سعودی مندوب نے این پی ٹی معاہدے کو عدم پھیلاؤ کے نظام کی بنیادی ستون قرار دیا اور اس کے تین اہم محوروں یعنی "تخفیف اسلحہ”، "عدم پھیلاؤ” اور "جوہری توانائی کے پرامن استعمال” میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
عبدالعزیز الواصل نے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال نہ ہونے کی واحد حتمی ضمانت ان کی مکمل تباہی ہے۔
سعودی مندوب نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ شفافیت اور تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ممالک کے اس حق پر بھی زور دیا کہ وہ جوہری توانائی کو بغیر کسی اضافی پابندیوں کے پرامن مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
عبدالعزیز الواصل نے ایران کی طرف سے مبینہ طور پر "شہریوں اور شہری مقامات پر حملوں” کا حوالہ دیتے ہوئے علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے، ہمسائیگی کے اصولوں کے احترام اور ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ریاض نے ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اس کے مکمل تعاون کی ضرورت پر بھی اصرار کیا۔
عبدالعزیز الواصل نے ایک بار پھر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ایک بین الاقوامی اجتماعی ذمہ داری ہے اور انہوں نے اسرائیل کی طرف سے اس معاہدے میں شامل ہونے کی مسلسل مخالفت کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
سعودی مندوب نے فلسطین کی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کشیدگی بڑھنے کے خطرات سے خبردار کیا، غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور بیت المقدس اور اس کے اسلامی مقدسات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اظہار کیا، اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور امن کے مواقع کو تباہ کرنے والا قرار دیا۔
سعودی سفارت کار نے زور دیا کہ منصفانہ اور جامع امن صرف جنگ بندی، باشندوں کی بے دخلی کو روکنے، غزہ کی پٹی سے انخلا اور بالآخر بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
آبنائے ہرمز پر امریکہ اور اس کے حامیوں کی مجوزہ قرارداد کے مسودے پر روس کی مخالفت
?️ 8 مئی 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے مشن نے آبنائے ہرمز پر امریکی
مئی
ہم فلسطینی قیدیوں کی حوالگی میں تاخیر کریں گے: اسرائیل
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ نیتن یاہو
فروری
غزہ میں قیامِ امن کیلئے اسرائیلی فورسز کو باہر نکالنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان
?️ 20 دسمبر 2025اسلام آباد:(سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا
دسمبر
اٹلی کی ۲۰۲۷ میں یوکرین کو نیٹو امداد فراہم کرنے کی مخالفت
?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں: ذرائعِ سیاست کے مطابق، یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی
جولائی
کویت کے امیر نے پارلیمنٹ کو منحل کیوں کیا؟
?️ 11 مئی 2024سچ خبریں: کویت کے امیر مشعل الاحمد الجابر الصباح نے جمعہ کی شام
مئی
لولا اور بولسونارو کے درمیان دلکش مقابلہ
?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں: برازیل کے صدارتی انتخابات میں 83 فیصد سے زائد
اکتوبر
پاکستان سمیت 14 ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا بیان مسترد کردیا
?️ 22 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان سمیت 14 اسلامی اور عرب ممالک کے
فروری
فرانس اور برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ شیری رحمن
?️ 30 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر شیری رحمن نے فلسطین سے متعلق فرانس
جولائی