لندن کے دل میں غضبناک نعرے گونج اٹھے؛ ڈاوننگ اسٹریٹ ایران کے حامیوں کے قدموں تلے لرز گئی

لندن

?️

سچ خبریں: برطانیہ کے شہر لندن میں منگل کی شام (مقامی وقت کے مطابق) سینکڑوں سول کارکنوں، جنگ مخالف گروپوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے برطانوی وزیر اعظم کی آفِس کے سامنے احتجاجی اجتماع کیا تاکہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے جرائم پر اپنا غصہ اور بیزاری دنیا کے سامنے پیش کریں۔

اس احتجاجی اجتماع میں شریک افراد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر "بمباری بند کرو” اور "ایران سے ہاتھ اٹھاؤ” جیسے نعرے درج تھے۔ اس طرح انہوں نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ پر مبنی پالیسیوں پر اپنا غصہ اور بیزاری ظاہر کی۔

احتجاج کرنے والوں نے میناب کے مظلوم شہداء (مدرسہ "شجرہِ طیبہ”) کی تصویریں بھی اٹھا رکھی تھیں۔ انہوں نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے جارح اتحاد کے حملوں کو انسانی حقوق کے خلاف صریح جرم قرار دیا اور خطے میں فوجی مہم جوئی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

برطانیہ میں مقیم ایرانی شہری مجتبیٰ حیدرویس نے ایرنا کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا: "ہم آج یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ اس وحشیانہ جرم پر اپنی بیزاری کا اظہار کریں جو دشمنوں نے ایران کے خلاف کیا ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں، ایران زمین کا جھنڈا زمین پر نہیں گرے گا، بلکہ ہمیشہ بلند رہے گا۔ میری امید ہے کہ یہ جنگ جلد از جلد ختم ہو جائے اور لوگ امن سے رہ سکیں۔”

انہوں نے مجاہدین اسلام کی بہادری کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ ایران کے فائدے میں ختم ہو گی اور کہا: "ہم ہر حال میں ان کے ساتھ ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سربلند رہیں۔”

لندن میں ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ہر ہفتے جنگ مخالف گروپوں اور سول کارکنوں کے اجتماعات اور مارچ ہوتے رہے ہیں۔

پچھلے ہفتے ہفتہ کو بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے اسی طرح کا مظاہرہ ہوا تھا، جس میں شرکاء نے امریکہ اور صہیونی مخالف نعرے لگا کر صہیونی حکومت کے جرائم اور واشنگٹن کی ان اقدامات سے حمایت پر اپنا غصہ ظاہر کیا تھا۔

ایران کے خلاف جارحانہ جنگ 28 فروری 2026 کو صہیونی حکومت اور امریکہ کے حملوں سے شروع ہوئی۔ ان حملوں کے صرف پہلے دن ہی میناب کے مدرسہ "شجرہِ طیبہ” کے تقریباً 170 معصوم طلبہ دشمن کے میزائل حملوں میں شہید ہو گئے۔

اسی دوران، جارح دشمن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب مایوسی کے عالم میں خالی دعووں اور دھمکیوں کو دہرا رہا ہے۔

امریکی صدر نے کل ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنائیں گے۔ بعض مغربی مبصرین کے مطابق، یہ بیانات وائٹ ہاؤس کے مذاکرات اور فوجی کارروائی کے بارے میں متضاد موقف کا تسلسل ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاعِ خود کے فطری حق کا استعمال کرتے ہوئے، روک تھام اور جارحیت کے تسلسل کو روکنے کے لیے مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں صہونی حکومت کے فوجی اور سلامتی ٹھکانوں اور خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی کے اڈوں اور مراکز کو درست حملوں کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا ہے کہ اس جارحیت کے کسی بھی تسلسل یا توسیع کا مزید سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

اغواکاروں نے واپس گھر جانے کیلئے ٹیکسی بُک کروائی اور 500 روپے کرایہ بھی ادا کیا، حسن احمد

?️ 2 دسمبر 2023کراچی:(سچ خبریں) اداکار حسن احمد نے اپنے ساتھ 2012 میں ہونے والے

نفرت پر مبنی سیاست کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ سینیٹر عرفان صدیقی

?️ 17 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے

روس کی سب سے بڑی گیس فیلڈ میں خوفناک آگ

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:   آج جمعرات کی صبح سویرے روس میں اورنگوئے گیس فیلڈ

وزیراعظم سے گلگت بلتستان کے قومی ہیروز کی ملاقات، 25، 25 لاکھ کے چیک سے نوازا

?️ 25 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سے گلیشیئر پھٹنے کی پیشگی

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کی تاریخ تبدیل

?️ 13 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے

صہیونیوں کو انصاراللہ کے ڈرونز پر تشویش

?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:ایک عبرانی چینل نے مزاحمتی تحریک کے ساتھ مستقبل میں ممکنہ

’عام انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں گے‘، سیکیورٹی صورتحال پر الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس

?️ 1 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے کہا ہے

ماہرہ خان نے ڈہرکی ٹرین حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

?️ 8 جون 2021کراچی (سچ خبریں) گزشتہ روز سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈہرکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے