?️
یوکرین میں امن کے مستقبل پر شکوک، ایف بی آئی اور کیف کے مذاکرات کاروں کے خفیہ رابطوں کا انکشاف
امریکہ کی جانب سے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ کے ساتھ ہی ایف بی آئی کی اعلیٰ قیادت اور یوکرین کے سینئر مذاکرات کاروں کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کے انکشاف نے یوکرین میں امن کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا سامنے آنا ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین کی قیادت کو بدعنوانی کے بڑے الزامات کا سامنا ہے اور مغربی حلقوں میں پہلے ہی بے چینی پائی جاتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین کے اعلیٰ حکام نے حالیہ ہفتوں میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل اور ان کے نائب ڈین بانجینو سے پس پردہ ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں اس وقت منظر عام پر آئیں جب امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کیف پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ متعدد مغربی سفارت کاروں اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان خفیہ نشستوں نے تقریباً چار سال سے جاری یورپی جنگ کے خاتمے کے امکانات کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، رستم عمروف جو یوکرین کے قومی سلامتی کے مشیر اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کے چیف مذاکرات کار ہیں، گزشتہ چند ہفتوں میں تین مرتبہ امریکہ گئے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی۔ تاہم ذرائع کے مطابق، ان دوروں کے دوران عمروف نے ایف بی آئی کے سربراہ اور ان کے نائب کے ساتھ بھی خفیہ ملاقاتیں کیں، جن کی نوعیت اور مقصد تاحال واضح نہیں ہو سکے۔
ان ملاقاتوں پر مغربی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ان روابط کا اصل مقصد کیا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یوکرینی حکام ممکنہ بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے یا کسی قسم کی رعایت حاصل کرنے کی امید میں امریکی سکیورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں، جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ یہ چینل زیلنسکی حکومت پر ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں یوکرین کی سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمروف نے ایف بی آئی حکام کے ساتھ صرف قومی سلامتی سے متعلق امور پر بات کی، جن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایف بی آئی کی قیادت ماضی میں یوکرین پر تنقید کرتی رہی ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے امریکی امداد کے حجم پر سوال اٹھائے تھے اور کانگریس سے یوکرین کو دی جانے والی مالی مدد کے ممکنہ غلط استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے نائب نے بھی صدر زیلنسکی پر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن سے جڑے مبینہ بدعنوانی کے معاملات چھپانے کا الزام عائد کیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین اس وقت 2019 میں زیلنسکی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بدترین بدعنوانی کے اسکینڈل سے گزر رہا ہے۔ یوکرینی تفتیش کاروں کے مطابق، توانائی کے شعبے سے کم از کم 100 ملین ڈالر رشوت اور اختلاس کے ذریعے غائب کیے گئے۔ اس کیس میں کئی اعلیٰ شخصیات پر الزامات لگے، جن میں زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ اسی تناظر میں صدر کے قریبی معاون آندری یرماک نے حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا جبکہ سابق نائب وزیر اعظم اولیکسی چرنی شوف پر بھی رشوت لینے کا الزام عائد ہوا ہے۔
سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی محقق اینجلا اسٹینٹ نے اس صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمروف پر بدعنوانی کے شبہات کے باوجود انہیں مذاکرات کی ذمہ داری سونپنا سوالیہ نشان ہے۔ یوکرین کے اپوزیشن رکن ولادیمیر آریف نے بھی کہا کہ ایسے حساس مذاکرات کی قیادت کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے جس پر سنگین الزامات ہوں۔
دوسری جانب، عمروف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ رابطوں میں یوکرین کے لیے ایک اہم اثاثہ ہیں، کیونکہ ان کی انگریزی پر گرفت اور نرم سفارتی انداز انہیں امریکی حکام کے لیے زیادہ قابل قبول بناتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اگرچہ ایف بی آئی ماضی میں یوکرین کے قومی انسداد بدعنوانی ادارے کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے، تاہم ایک اعلیٰ یوکرینی مذاکرات کار کی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر سے براہ راست ملاقات غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سابق امریکی عہدیدار سیم چاراپ کے مطابق، اس سطح کے مذاکرات عام سفارتی روایات سے ہٹ کر ہیں اور یہی امر یوکرین میں امن کے عمل پر شکوک کو مزید بڑھا رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
سینیٹ میں اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور
?️ 25 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) قائد اعوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کی طرف سے
مئی
افغانستان سے پاکستان میں جاری حملے کسی سے مخفی نہیں۔ طاہر اشرفی
?️ 12 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان
دسمبر
وزیراعظم آج کراچی کا ایک روزہ دورہ کریں گے
?️ 27 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان آج کراچی کا ایک روزہ دورہ
ستمبر
پاکستان کے بھرپور اور موثر جواب کے بعد بھارت کو سرحد پر اپنی فوج کوکم کرنا پڑا ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی
?️ 30 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد
مئی
ملائیشیا نے پاکستان طالبان تنازعات کے سفارتی حل پر زور دیا
?️ 5 دسمبر 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ فون کال میں ملائیشیا
دسمبر
چین کی برآمدات میں اضافے کے خلاف ٹرمپ کا ٹیرف؛ کیا بیجنگ مارکیٹ کو فتح کر رہا ہے؟
?️ 22 اکتوبر 2025چین کی برآمدات میں اضافے کے خلاف ٹرمپ کا ٹیرف؛ کیا بیجنگ
اکتوبر
ترکی میں امیگریشن میں مخالف جذبات میں کمی کی وجوہات
?️ 21 جون 2025سچ خبریں: گزشتہ کچھ مہوں کے دوران ترکیہ میں شامی پناہ گزینوں
جون
امریکی عہدیدار کا اعتراف: حماس غزہ میں موجود رہے گا
?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ
مئی