یونان کا غزہ میں بین الاقوامی فورس میں شمولیت کا اعلان

یونان

?️

یونان کا غزہ میں بین الاقوامی فورس میں شمولیت کا اعلان
یونان کی حکومت نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے استحکام کے لیے قائم کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک خصوصی بٹالین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یونانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی نگرانی اور سیکیورٹی خلا کو پُر کرنے کے لیے قائم ہونے والی بین الاقوامی فورس میں حصہ لے گی۔ اس مقصد کے تحت 100 سے 150 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ غزہ بھیجا جائے گا، جس میں بکتر بند گاڑیاں، امدادی عملہ اور انجینئرز شامل ہوں گے۔
یونانی حکام کے مطابق اس دستے کو سیکیورٹی ذمہ داریاں بھی سونپی جائیں گی، جو منصوبے میں ایک نئی شق کے طور پر شامل کی گئی ہے۔ یہ اقدام ایتھنز کی اس پالیسی کے مطابق ہے جس کے تحت وہ اپنے علاقائی ماحول میں بحرانوں کے حل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ یونانی بٹالین اس سے قبل افغانستان میں نیٹو کی زیر قیادت فورس کے ساتھ جنوری 2002 سے جولائی 2021 تک خدمات انجام دے چکی ہے۔ اس دوران یونانی دستے نے طبی سامان کی تقسیم، انسانی امداد، سرکاری عمارتوں اور اسکولوں کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے فرائض سرانجام دیے۔
رپورٹ کے مطابق یونانی افواج غزہ میں امریکی ساختہ بکتر بند گاڑیاں  استعمال کریں گی، جو امریکی فوجی پولیس بھی استعمال کرتی ہے، تاکہ مشن کے دوران اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
یونان ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امریکہ کی جانب سے غزہ میں بین الاقوامی فوج تعینات کرنے کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ اس فیصلے کا خیرمقدم واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یونانی یونٹ کی نوعیت اور کردار کا تعین امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا۔
یہ اقدام غزہ میں سیکیورٹی خلا کو پُر کرنے، سیاسی منتقلی کے عمل کی نگرانی اور تعمیرِ نو کے مراحل کو آگے بڑھانے کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق فورس کی تعیناتی مجوزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ متوقع ہے۔
قبل ازیں انڈونیشیا بھی غزہ میں امن دستے بھیجنے کی آمادگی ظاہر کر چکا ہے، جبکہ حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی مخالفت نہیں کرے گا، بشرطیکہ یہ فورس صرف فریقین کے درمیان حدِ فاصل کا کردار ادا کرے اور فلسطینیوں کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرے۔

مشہور خبریں۔

یمنی جنگ بہت بڑی اسٹریٹیجک غلطی تھی/ سعودی عرب پھنس گیا

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:  عبدالباری عطوان نے کہا کہ سعودی عرب یمنی جنگ کے

اس وقت حکومت نام کی کوئی چیز نہیں سب کٹھ پتلیاں ہیں ،عمر ایوب

?️ 26 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء عمر ایوب کا

منظم شیطانی مافیا (7) دنیا کے لیے سعودیوں کا تکفیری دہشت گردانہ ورژن

?️ 19 فروری 2023سچ خبریں:ریاض کے حکمرانوں نے اپنے نظریے کو وسعت دینے اور مغرب

بین الاقوامی برادری کی جانب سے گزشتہ سال افغانستان کو دو ارب ڈالر کی امداد

?️ 18 دسمبر 2022سچ خبریں:طالبان کے دوبارہ قیام کے بعد افغانستان کو امداد کی فراہمی

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ

?️ 17 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ

پاکستان اور افغانستان کا تجارت، ٹرانزٹ، سکیورٹی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

?️ 17 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان

صیہونیوں کے ہاتھوں الجزیرہ کی رپورٹر شہید

?️ 14 مئی 2022سچ خبریں:الجزیرہ کی رپورٹر کو جنین پر صیہونی عسکریت پسندوں کے حملے

2021 کے آخر میں اسرائیلی حکومت کے لیے 7 بڑے چیلنجز

?️ 22 دسمبر 2021سچ خبریں:  انسٹی ٹیوٹ فار اسرائیل پالیسی اینڈ سٹریٹیجی اور اسرائیلی ریخ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے