یورپ میں 2025 کے دوران اسلاموفوبیا میں شدید اضافہ، انسانی حقوق کے دعوؤں پر سوالات

یورپ

?️

یورپ میں 2025 کے دوران اسلاموفوبیا میں شدید اضافہ، انسانی حقوق کے دعوؤں پر سوالات
یورپ میں سال 2025 مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ایک تشویشناک سال ثابت ہوا، جس نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعوؤں کو ایک بار پھر کڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ سڑکوں پر نفرت انگیز حملوں سے لے کر ملازمت، تعلیم اور سرکاری اداروں میں امتیازی رویوں تک، مسلمانوں کو مختلف سطحوں پر دباؤ اور تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔
یورپی یونین کی بنیادی حقوق ایجنسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق، مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اسلاموفوبیا صرف پرتشدد حملوں تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں انتظامی اور سماجی رویوں کے ذریعے بھی فروغ پا رہا ہے۔ رپورٹ میں عدالتی مقدمات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ڈیٹا کی بنیاد پر کہا گیا کہ صورتحال مسلسل نگرانی اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی متقاضی ہے۔
یورپی یونین کی دیگر رپورٹس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ کئی رکن ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نسلی اور مذہبی تعصب بڑھ رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر مسلم خواتین پر پڑ رہا ہے۔ حجاب اور واضح مذہبی شناخت کی وجہ سے خواتین کو گالی گلوچ، سماجی دباؤ اور روزگار کے مواقع سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انگلینڈ میں 2025 کے دوران اسلام مخالف نفرت ایک بڑے سماجی اور سیاسی مسئلے کے طور پر سامنے آئی۔ نفرت انگیز جرائم کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق، رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ واقعات صرف زبانی توہین تک محدود نہیں رہے بلکہ سڑکوں پر ہراسانی، دھمکیوں اور مذہبی علامات و عبادت گاہوں کی بے حرمتی جیسے واقعات بھی سامنے آئے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہت سے متاثرین، خاص طور پر مسلم خواتین، سماجی یا پیشہ ورانہ نتائج کے خوف اور عدالتی نظام پر عدم اعتماد کے باعث شکایت درج کرانے سے گریز کرتی ہیں، جس کی وجہ سے اصل صورتحال اور سرکاری اعداد و شمار کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا ہے۔
برطانوی پارلیمان میں بھی اسلاموفوبیا کے مسئلے پر بحث ہوئی، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اسلاموفوبیا کی واضح تعریف کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ نگرانی، قانون سازی اور تعلیمی و انتظامی اداروں میں بہتر کارروائی ممکن ہو سکے۔ تاہم، اس معاملے پر سیاسی اختلافات نے اسے ایک سنجیدہ قومی بحث میں بدل دیا۔
فرانس میں 2025 کے دوران چند ہلاکت خیز اور اشتعال انگیز واقعات، جن میں ایک مسجد میں نمازی کا قتل اور مساجد کے خلاف دھمکی آمیز کارروائیاں شامل ہیں، نے مسلمانوں کی سلامتی پر خدشات میں اضافہ کر دیا۔ اسی دوران، ہجرت اور قومی شناخت سے متعلق سیاسی مباحث نے بھی حالات کو مزید حساس بنا دیا۔ تعلیمی اور تحقیقی مطالعات میں روزمرہ زندگی میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے پھیلاؤ اور میڈیا و سیاسی بیانیے کے منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی۔
جرمنی میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق اسلام مخالف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ وزارت داخلہ نے سینکڑوں واقعات کے اندراج کی تصدیق کی، تاہم سول سوسائٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا انہیں دیگر زمروں میں شمار کر لیا جاتا ہے، جس سے مسئلے کی اصل شدت سامنے نہیں آ پاتی۔
یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف اقدامات کو نسل پرستی کے انسداد اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی پالیسیوں کے تحت آگے بڑھا رہا ہے، مگر ناقدین کے مطابق یورپی اداروں کے بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات سلامتی یا انتہاپسندی کے نام پر کیے گئے اقدامات خود مسلمانوں کے لیے مزید پابندیوں اور امتیازی رویوں کا سبب بن رہے ہیں، خاص طور پر غزہ جنگ کے بعد سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی میں اضافے کے تناظر میں۔
اگرچہ کچھ یورپی ممالک نے اسلام مخالف نفرت سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کے منصوبوں، تعلیم اور آن لائن نگرانی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک اسلاموفوبیا کو ایک ساختی مسئلہ تسلیم کر کے اس کے خلاف سیاسی قیمت مقرر نہیں کی جاتی، یہ اقدامات عارضی اور نمائشی ہی رہیں گے۔
مجموعی طور پر سال 2025 نے واضح کر دیا کہ یورپ میں اسلاموفوبیا ایک دوہری شکل اختیار کر چکا ہے، ایک طرف پرتشدد اور نمایاں نفرت انگیز واقعات اور دوسری طرف خاموش مگر گہرے امتیازی رویے، جو مسلمانوں میں عدم تحفظ اور بیگانگی کے احساس کو بڑھا رہے ہیں۔ یہی تضاد یورپی انسانی حقوق کے دعوؤں اور مسلمانوں کے عملی تجربات کے درمیان فرق کو مزید نمایاں کرتا جا رہا ہے، اور 2026 کے قریب آتے ہوئے مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

بجلی کی کمپنیاں مئی میں عوام سے مزید 30ارب وصولی کیلئے تیار

?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مہنگائی میں نہ ختم ہونے والے اضافے کے ساتھ

ماسکو نے اسنیپ بیک میکانزم کو قانونی دھوکہ دہی قرار دیدیا

?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: روسی محکمہ خارجہ کے ترجمان ماریا زخارووا نے ایران کے خلاف

وینزویلا کبھی کسی سامراجی طاقت کی کالونی نہیں بنے گا: وینزویلا کے صدر

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں:وینزویلا کے صدر نیکلاس مادورو نے امریکی دھمکیوں کے درمیان اعلان

سعودی ولی عہد کی جانب سے ہادی کو فوری ہٹانے کا راز

?️ 4 مئی 2022سچ خبریں:  یمنی ذرائع نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی

صیہونی حکام کو اپنے فوجیوں کی کتنی فکر ہے؟ حماس نے پول کھول دی

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں: القسام فورسز نے غزہ میں 10 سال پہلے پکڑے گئے

غزہ میں نسل کشی امریکی سرپرستی میں ہو رہی ہے:فلسطین لبریشن فرنٹ

?️ 2 جون 2025سچ خبریں:فلسطین لبریشن فرنٹ نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے

عوام الیکشن میں ضمیر فروشوں اور غداری کرنے والوں کو سبق سکھائے گیا:وزیراعظم عمران خان

?️ 5 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس پنجاب میں خطاب کارکنان

مسئلہ کشمیر حل ہونے تک برصغیر میں دیر پا امن  ممکن نہیں: وزیر خارجہ

?️ 1 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے