کیا ٹرمپ کا دوبارہ ابھرنا دنیا کے لئے مفید ہے؟

ٹرمپ

?️

کیا ٹرمپ کا دوبارہ ابھرنا دنیا کے لئے مفید ہے؟

تجزیہ نگاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ منظرِ عام پر آنا اگرچہ دنیا کے لیے اضطراب کا باعث ہے، لیکن ایک فائدہ ضرور رکھتا ہے اور وہ ہے وضاحت۔ روسی کونسل برائے بین الاقوامی تعلقات کے ایک تازہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے وہ پردے ہٹا دیے ہیں جن کے پیچھے امریکہ برسوں سے اپنی عالمی پالیسی کو اصولی اور ’’قواعد پر مبنی‘‘ دکھاتا رہا تھا۔ اب پہلی بار واشنگٹن کے رویّے کو کھلے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جیسا کہ وہ ہے، بغیر کسی سفارتی آرائش کے۔

تجزیے کے مطابق 2024 میں ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ہی امریکہ کا سیاسی اور ذہنی منظرنامہ بدلنا شروع ہوگیا۔ ٹرمپ کوئی نئی روش ایجاد نہیں کر رہے بلکہ صرف امریکی طاقت کے اصل رویّے کو زیادہ نمایاں کر رہے ہیں۔ وہ اصولوں کو نہیں توڑتے بلکہ انہیں اس قدر بلند کر دیتے ہیں کہ ان کی حقیقت خود سامنے آ جاتی ہے۔ کئی دہائیوں تک امریکہ عالمی نظام کو لبرل یا قواعد پر مبنی ترتیب دے کر دنیا کو اپنی پالیسیوں کی سمت دکھاتا رہا، لیکن 2025 میں اس پالیسی کی جگہ کھلے عام یکطرفہ رویّے نے لے لی ہے۔ اب واشنگٹن بین الاقوامی اداروں کو بوجھ سمجھتا ہے اور ترجیح یہ ہے کہ ہر ملک سے علیحدہ سودے کیے جائیں، بغیر کسی کثیرالجہتی ڈھانچے کے۔

روس، چین اور دیگر غیر مغربی ممالک کے اثرورسوخ والے ادارے جیسے بریکس، امریکی حکمتِ عملی میں ناپسندیدگی کا مرکز بن گئے ہیں۔ وجہ ان کی کارکردگی نہیں بلکہ وہ علامتی معنویت ہے جو امریکی برتری کو چیلنج کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ خود چاہیں یا نہ چاہیں، ان کی پالیسیاں ایک ایسی دنیا کو تقویت دیتی ہیں جو خودبخود کثیرقطبی ہو رہی ہے۔ وہ ایسی عالمی ترتیب کو ترجیح دیتے ہیں جس میں کوئی مضبوط ادارہ نہ ہو، اور امریکہ کے پاس ہر دوطرفہ تعلق میں طاقت کا پلڑا بھاری رہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی بنیادی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، صرف بیانیہ بدل گیا ہے۔ پہلے اقدامات کو اخلاقی عنوانات کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا، اب امریکی مفاد کو صاف لفظوں میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ نیجیریا کے معاملات میں مداخلت کی بات ہو یا وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہیہ سب پرانے امریکی طرزِ عمل کے ہی نئے نام ہیں۔ توانائی بازار تک رسائی اور روس و ایران جیسے ممالک کو عالمی سطح پر محدود کرنا اب بھی امریکی حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔

مشہور خبریں۔

عمران خان عید کے بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے

?️ 19 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مقامی تفصیلات کے مطابق پاکستا کے وزیر اعظم

سعد رضوی کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کا رد عمل سامنے آگیا

?️ 4 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں ) لاہورہائی کورٹ نے کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان کے

پی ٹی آئی سے علیحدگی کے بعد پرویز خٹک نئی پارٹی بنانے کیلئے سرگرم

?️ 16 جولائی 2023خیبر پختونخوا:(سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پاکستان

وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات، پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر زور

?️ 8 مئی 2021ریاض (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کی ملاقات

اردوغان پر مقدمہ چلنا چاہیے:سینئر ترک سیاستدان

?️ 17 مارچ 2023سچ خبریں:ترکی کی حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے ایک سینئر

نئے سپہ سالار کی آمد: ’چین و امریکا سے پہلے پاکستان کو اہمیت دی جائے گی‘

?️ 26 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کارکنوں اور بہت ہی

الہان عمر نے اسرائیل کے خلاف دیئے گئے بیانات پر قائم رہنے کا اعلان کردیا

?️ 30 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک رکن الہان عمر نے

ترکی میں طالبان: حلال تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کو بڑھانا ہماری ترجیح ہے

?️ 27 نومبر 2025سچ خبریں: طالبان حکومت کے وزیر صنعت و تجارت نے ترک حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے