کیا حزب اللہ اپنے اسلحے کی آخر تک حفاظت کر سکے گا

حزب اللہ

?️

کیا حزب اللہ اپنے اسلحے کی آخر تک حفاظت کر سکے گا
 حزب اللہ کے شہید سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جب تک لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ موجود ہے، مزاحمت کا اسلحہ زمین پر نہیں رکھا جائے گا۔
۱۴ اگست کو حزب اللہ کی اسرائیل پر ۳۳ روزہ جنگ میں تاریخی فتح کو ۱۹ سال مکمل ہوئے۔ یہ وہ جنگ تھی جس نے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو دفن کر دیا اور مزاحمت کو ایک نئی پہچان دی۔ جنگ کے اختتام پر اقوام متحدہ کی قرارداد ۱۷۰۱ منظور ہوئی اور حزب اللہ نے اس کی پاسداری کا اعلان کیا، لیکن اسی وقت سے اس کے ہتھیار چھیننے کا موضوع مغربی اور صہیونی ایجنڈے کا حصہ بنا رہا۔
سید حسن نصراللہ نے اپنی تقاریر میں واضح کیا تھا کہ اسرائیل کے لیے حزب اللہ کو عسکری طور پر ختم کرنا ناممکن ہے، اسی لیے وہ اسلحہ چھیننے کو سیاسی دباؤ اور لبنان کے اندرونی معاملات کے ذریعے ممکن بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، اسرائیلی حکام خود اعتراف کر چکے ہیں کہ حزب اللہ کی میزائل طاقت کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔
نصراللہ کے مطابق، لبنان میں ایک مضبوط اور خودمختار حکومت و فوج کی غیر موجودگی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث حزب اللہ نے ہتھیار اپنے پاس رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اسرائیلی قبضہ، قیدیوں کی گرفتاری، سرحدی خلاف ورزیاں اور پانی کے ذخائر پر قبضے جاری ہیں، مزاحمت کا ہتھیار ضروری ہے۔
انہوں نے کہا ہم اسلحہ ہمیشہ کے لیے نہیں رکھنا چاہتے۔ یہ منطقی بھی نہیں۔ لیکن جب تک ایک طاقتور اور عادل حکومت لبنان میں قائم نہیں ہوتی جو عوام اور وسائل کی حفاظت کرے، اسلحہ مزاحمت کے پاس رہے گا۔ اگر آج ہم ہتھیار رکھ دیں تو اس کا مطلب لبنان کو اسرائیل کے حوالے کرنا ہوگا تاکہ وہ جب چاہے حملہ کرے اور قبضہ جمانے لگے۔
نصراللہ نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی طاقت یا فوج کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مزاحمت کے ہاتھوں سے اسلحہ چھین سکے۔ انہوں نے کہا جب تک لبنانی عوام اس مزاحمت پر ایمان رکھتے ہیں، کوئی فوج، کوئی حکومت اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے اسلحے کو چھین نہیں سکتی۔ یہ ہتھیار عوام کا ہے، شیعہ یا کسی ایک طبقے کا نہیں۔ یہ لبنان، اس کے مسلمانوں اور مسیحیوں سب کا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حزب اللہ کا اسلحہ کبھی داخلی استعمال کے لیے نہیں رہا اور نہ ہوگا، بلکہ اس کا واحد مقصد لبنان کو اسرائیلی جارحیت اور قبضے سے بچانا ہے۔
سید حسن نصراللہ کے بقول، آج لبنان ایک علاقائی طاقت ہے جسے امریکہ، مغرب اور اسرائیل اپنے حساب میں شامل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم ہتھیاروں کو اندرونی سیاست کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ یہ سلاح عزت، آزادی اور لبنان کی حفاظت کے لیے ہے۔ یہ وعدہ ہے خدا، شہداء اور امت کے ساتھ۔

مشہور خبریں۔

امریکی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں ایشیا کی حیثیت

?️ 9 دسمبر 2025امریکی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں ایشیا کی حیثیت امریکی صدر

سیکیورٹی فورسز کی ملک بھر میں کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک، سیکڑوں گرفتار

?️ 21 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز کی مُلک بھر میں دہشت گردی کے

نیو یارک ٹائمز سکوائر میں 21 سالہ جوان مسلح افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگیا

?️ 28 جون 2021نیویارک (سچ خبریں)  امریکی شہر نیویارک ٹائمز سکوائر میں ایک 21 سالہ

یورپی پارلیمنٹ نے فیفا اور یوئیفا کو اسرائیل کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 20 فروری 2024سچ خبریں: یورپی پارلیمنٹ نے یورپی فٹ بال یونین (UEFA) اور انٹرنیشنل

کیا امریکہ نے ایران کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟

?️ 12 اگست 2023سچ خبریں: امریکی صدارتی انتخابات کے ایک امیدوار نے اس ملک کے

کیا امریکی صدراتی امیدواروں کے درمیان ایک اور مناظرہ ہوگا؟ ٹرمپ کیا کہتے ہیں؟

?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار نے CNN کی جانب سے

اومی کرون کےخطرے کے پیش نظر  نئی پابندی عائد

?️ 6 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اومی کرون کے خطرے کے پیش نظر این

چین کے نیشنل ٹائم سینٹر پر امریکی سائبر حملہ

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: چین کی وزارتِ امنیت ملک نے ایک بیان جاری کرتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے