?️
سچ خبریں:چین اور روس کے صدور شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، اسٹریٹجک تعاون میں توسیع اور عالمی نظام میں یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ مؤقف پر زور دیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سرکاری دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مغربی ایشیا میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں صدور نے ایک دوسرے کو پرانا اور عزیز دوست قرار دیتے ہوئے چین اور روس کے درمیان جاری اسٹریٹجک تعاون کے نئے مرحلے کو نمایاں کیا۔
شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے قریب ہے۔ دشمنیوں کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے اور دوبارہ جنگ کا آغاز ناقابل قبول ہے۔
چینی صدر نے زور دیا کہ جلد از جلد جنگ بندی عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران چین اور روس کے درمیان تجارتی تبادلے میں 30 گنا اضافہ ہوا ہے، اور ماسکو و بیجنگ کے تعلقات حقیقی اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک بے مثال مثال بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر جبکہ چین ایک قابل اعتماد صارف کے طور پر اپنی باہمی شراکت جاری رکھیں گے۔
اس ملاقات کی اہم کامیابیوں میں حسنِ ہمجواری، دوستی اور تعاون کے معاہدے میں توسیع شامل ہے، جسے دستخط ہوئے 25 سال مکمل ہو چکے ہیں۔
شی جن پنگ نے کہا کہ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں معیاری تبدیلی پیدا کی ہے، اور ایسے وقت میں اس کی توسیع انتہائی اہمیت رکھتی ہے جب دنیا یکطرفہ پالیسیوں اور جنگل کے قانون کی واپسی جیسے خطرات سے دوچار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے، عالمی نظام حکمرانی کو زیادہ جمہوری بنانے کی کوششوں اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فری پالیسی جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ولادیمیر پیوٹن نے شی جن پنگ کو 2027 میں روس کے دورے کی دعوت دی جبکہ آئندہ ایپک سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی۔
گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ روسی صدر کا یہ دورۂ چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے چند دن بعد انجام پا رہا ہے، اور اس کا مرکزی محور بیجنگ اور ماسکو کے دوطرفہ تعلقات ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
آڈیو لیک معاملہ: پی ٹی آئی کا جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع
?️ 24 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آڈیو لیک
فروری
فواد چوہدری نے انتخابی اصلاحات کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دے دی
?️ 14 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری
نومبر
پاکستانی افواج کی قربانیوں کی وجہ سے ملک زندہ ہے
?️ 5 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے افواج پاکستان
جون
راجہ آفتاب ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل
?️ 3 اکتوبر 2021مظفرآباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق سابق مشیر حکومت راجہ آفتاب ساتھیوں
اکتوبر
صہیونیوں نے الشفا اسپتال سے 80 افراد کو اغوا کیا
?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی فوج کے
مارچ
پاکستان پوسٹ میں 5 ہزار اسامیوں پر ہر وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتا رہا، قائمہ کمیٹی میں انکشاف
?️ 2 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے
دسمبر
صیہونی روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین چوتھا متنازعہ کیس
?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں: یوکرین پر روسی فوجی حملے کے بعد امریکہ روسیوں کا
مارچ
پی ڈی ایم لانگ مارچ اور عدم اعتماد سے آگے نہیں جائے گی: شیخ رشید
?️ 4 فروری 2021پی ڈی ایم لانگ مارچ اور عدم اعتماد سے آگے نہیں جائے
فروری