?️
پیرس نے الجزائر کے فرانسیسی استعمار کو جرم قرار دینے کے اقدام کو مخاصمانہ قرار دے دیا
فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے الجزائر کی جانب سے اپنے ملک میں فرانسیسی استعمار کو جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک کھلا مخاصمانہ قدم اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق، فرانس کا کہنا ہے کہ الجزائر میں منظور کیا گیا وہ قانون، جس کے تحت 1830 سے 1962 تک کے فرانسیسی استعمار کو جرم قرار دیا گیا ہے، نہ صرف واضح طور پر دشمنانہ نوعیت کا حامل ہے بلکہ فرانس اور الجزائر کے درمیان بات چیت کی بحالی اور تاریخی معاملات پر تناؤ کم کرنے کی کوششوں کے بھی منافی ہے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پیرس الجزائر کی اندرونی سیاست پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم وہ اس طرح کے اقدام پر افسوس کا اظہار ضرور کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے نوآبادیاتی دور کی یادداشتوں اور تاریخی مسائل پر مشترکہ فرانسیسی۔الجزائری مؤرخین کے کمیشن کے ذریعے کیے گئے کام کی جانب بھی اشارہ کیا۔
فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اب بھی الجزائر کے ساتھ سنجیدہ اور مسلسل مکالمے کا خواہاں ہے، تاکہ فرانس اور الجزائر کے عوام کے اہم مفادات، بالخصوص سلامتی اور مہاجرت جیسے معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔
واضح رہے کہ الجزائر کی پارلیمان نے بدھ کے روز متفقہ طور پر ایک غیر معمولی قانون منظور کیا جس میں فرانسیسی استعمار کو ’’ریاستی جرم‘‘ قرار دیا گیا اور پیرس سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد ارکانِ پارلیمان نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
قانون کے مطابق، فرانسیسی استعمار کے دوران کیے گئے جرائم، جن میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، جنسی زیادتی، جوہری تجربات اور الجزائر کی دولت کی منظم لوٹ مار شامل ہیں، کسی بھی صورت مدتِ معیاد کے تحت نہیں آئیں گے۔
یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب الجزائر اور فرانس کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ یہ کشیدگی خاص طور پر اس وقت بڑھی جب فرانس نے مغرب کی جانب سے مغربی صحارا کے لیے خودمختاری کے منصوبے کی حمایت کی، جو الجزائر کے اس مؤقف کے خلاف ہے جس میں وہ اس خطے کے عوام کے حقِ خودارادیت کا حامی ہے۔
اس کے علاوہ، الجزائر میں 130 سالہ فرانسیسی استعمار کے تاریخی اثرات اور ان پر اختلافات بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں بحران کی ایک بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔پیرس نے الجزائر کے فرانسیسی استعمار کو ’’جرم‘‘ قرار دینے کے اقدام کو مخاصمانہ قرار دے دیا
فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے الجزائر کی جانب سے اپنے ملک میں فرانسیسی استعمار کو جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک کھلا مخاصمانہ قدم اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق، فرانس کا کہنا ہے کہ الجزائر میں منظور کیا گیا وہ قانون، جس کے تحت 1830 سے 1962 تک کے فرانسیسی استعمار کو جرم قرار دیا گیا ہے، نہ صرف واضح طور پر دشمنانہ نوعیت کا حامل ہے بلکہ فرانس اور الجزائر کے درمیان بات چیت کی بحالی اور تاریخی معاملات پر تناؤ کم کرنے کی کوششوں کے بھی منافی ہے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پیرس الجزائر کی اندرونی سیاست پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم وہ اس طرح کے اقدام پر افسوس کا اظہار ضرور کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے نوآبادیاتی دور کی یادداشتوں اور تاریخی مسائل پر مشترکہ فرانسیسی۔الجزائری مؤرخین کے کمیشن کے ذریعے کیے گئے کام کی جانب بھی اشارہ کیا۔
فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اب بھی الجزائر کے ساتھ سنجیدہ اور مسلسل مکالمے کا خواہاں ہے، تاکہ فرانس اور الجزائر کے عوام کے اہم مفادات، بالخصوص سلامتی اور مہاجرت جیسے معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔
واضح رہے کہ الجزائر کی پارلیمان نے بدھ کے روز متفقہ طور پر ایک غیر معمولی قانون منظور کیا جس میں فرانسیسی استعمار کو ’’ریاستی جرم‘‘ قرار دیا گیا اور پیرس سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد ارکانِ پارلیمان نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
قانون کے مطابق، فرانسیسی استعمار کے دوران کیے گئے جرائم، جن میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، جنسی زیادتی، جوہری تجربات اور الجزائر کی دولت کی منظم لوٹ مار شامل ہیں، کسی بھی صورت مدتِ معیاد کے تحت نہیں آئیں گے۔
یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب الجزائر اور فرانس کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ یہ کشیدگی خاص طور پر اس وقت بڑھی جب فرانس نے مغرب کی جانب سے مغربی صحارا کے لیے خودمختاری کے منصوبے کی حمایت کی، جو الجزائر کے اس مؤقف کے خلاف ہے جس میں وہ اس خطے کے عوام کے حقِ خودارادیت کا حامی ہے۔
اس کے علاوہ، الجزائر میں 130 سالہ فرانسیسی استعمار کے تاریخی اثرات اور ان پر اختلافات بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں بحران کی ایک بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
صدر مملکت کا بینک الفلاح کو فراڈ سے متاثرہ شہریوں کو 19 لاکھ روپے واپس کرنے کا حکم
?️ 22 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بینک الفلاح کو
اپریل
یورینیم کی افزودگی کے لیے تل ابیب سے ریاض تک گرین لائٹ
?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زچی ہانگبی نے پیر کے
اگست
ڈالر کی ڈبل سنچری
?️ 18 مئی 2022(سچ خبریں)ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح عبور کرگیا، اوپن مارکیٹ
مئی
حزب اللہ جنگ نہیں چاہتی لیکن دفاع کے لیے تیار ہے: شیخ نعیم قاسم
?️ 17 فروری 2026 سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ
فروری
گوادر کے ساحل کے قریب برائیڈز وہیلز دیکھی گئیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف
?️ 25 اکتوبر 2025گوادر: (سچ خبریں) ادارہ برائے تحفظ فطرت پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان)
اکتوبر
دمشق نے لبنان پر صیہونیوں کی سرحدی جارحیت کی مذمت کی
?️ 10 جون 2023سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے آج ایک بیان شائع کرتے ہوئے
جون
بشار الاسد کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات میں کیا ہوا؟
?️ 19 اپریل 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے دمشق میں شامی صدر بشار الاسد سے
اپریل
خطے کے امن کے لیے فلسطین کے مسئلے کا عادلانہ حل ضروری: سعودی عرب
?️ 30 اپریل 2025سچ خبریں: جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت
اپریل