?️
ٹرمپ کی نئی تجارتی جنگ یا دباو کے ذریعے نئی حکمت عملی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے چین اور روس پر اوکرائن کی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی بات کی، ایک نئی نوعیت کی تجارتی جنگ کی ابتدا کا اشارہ ہیں۔ اس کے ذریعے واشنگٹن نہ صرف روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ اپنے اتحادی ممالک پر بھی اثر ڈالنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ روس پر مزید سخت پابندیاں اس وقت تک مؤثر نہیں ہوں گی جب تک کہ نیٹو کے تمام اتحادی ممالک ان میں شامل نہ ہوں۔ انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف روس سے تیل کی خریداری بند کریں بلکہ چینی مصنوعات پر ۵۰ سے ۱۰۰ فیصد تک تعرفے بھی لگائیں۔
ٹرمپ نے اس پیشکش کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں نیٹو اور دنیا کے تمام ممالک کو خط قرار دیا اور کہا کہ بغیر عالمی ہم آہنگی کے امریکی پابندیاں محض وقت اور توانائی ضائع کرنے کے مترادف ہوں گی۔
امریکی صدر کا موقف ہے کہ چین روس پر کافی اثر رکھتا ہے اور اگر نیٹو کی جانب سے سخت تجارتی اقدامات کیے جائیں تو پکن پر دباؤ بڑھے گا اور وہ ولادیمیر پوتن سے جنگ ختم کروانے کے لیے مجبور ہو جائے گا۔ تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے نجی محافل میں یہ اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے پوتن کی امن پسندی کو زیادہ اندازہ لگا لیا تھا اور اب وہ روس پر اپنا اثر کم جانچ رہے ہیں۔
ایک ماہ قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر پوتن جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھائے تو اسے سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ مگر اس کے بعد نہ صرف کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ روس نے سب سے بڑے فضائی حملے کیے اور اپنے ڈرونز کو پولینڈ کے فضائی علاقے میں بھی بھیجا، جسے نیٹو کے اتحادیوں نے اشتعال انگیز قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ نیا منصوبہ بنیادی طور پر دباؤ کو روس سے یورپی ممالک اور دیگر اتحادیوں کی جانب منتقل کرنے کی کوشش ہے۔ ٹرمپ کی حکومت کے دوران بھی اکثر اس بات پر زور دیا گیا کہ روس سے تیل کی خریداری کچھ یورپی ممالک کی جانب سے مغرب کے مذاکراتی موقف کو کمزور کرتی رہی ہے۔ اب ٹرمپ امریکی پابندیوں کو نیٹو کی ہم آہنگی اور چین پر سخت تعرفوں سے جوڑ کر اپنے اتحادیوں پر اضافی دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز عملی ہوئی تو اس کا عالمی تجارت پر وسیع اثر پڑ سکتا ہے۔ نیٹو کے تمام ممالک کی جانب سے چینی مصنوعات پر ۵۰ تا ۱۰۰ فیصد تعرفے ایک نئی تجارتی جنگ کا سبب بن سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ چین بھی جوابی اقدام کرے۔ تاہم ٹرمپ کا ماننا ہے کہ یہ دباؤ ہی اوکرائن کی جنگ کے فوری خاتمے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔
اسی دوران گروپ ۷ کے وزرائے خزانہ نے حالیہ ورچوئل اجلاس میں بھی ان ممالک کے خلاف پابندیاں لگانے پر زور دیا جو روس سے تیل خریدتے ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ مغربی سیاستدان روس اور اس کے ممکنہ حمایتیوں کے خلاف مالی اور تجارتی دباؤ کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
’مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، دنیا پر تیسری عالمی جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں‘
?️ 19 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے خبردار
نومبر
سعودی اتحاد کی 267 مرتبہ الحدیدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی
?️ 6 دسمبر 2021سچ خبریں:یمنی ذرائع نے اس ملک کے صوبہ الحدیدہ میں سعودی جارح
دسمبر
افریقی یونین میں صیہونی حکومت کی رکنیت اس اتحاد کے ٹوٹنے کا باعث بنے گی: الجزائر
?️ 8 اگست 2021سچ خبریں:الجزائر کے وزیر خارجہ رمطان لعمامره نے صہیونی حکومت کی افریقی
اگست
وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں جو چوری کوبرا نہیں سمجھتیں:وزیراعظم
?️ 3 مارچ 2022وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں جو چوری
مارچ
نیتن یاہو تباہی کے دہانے پر؛صیہونی اخبار کی رپورٹ
?️ 8 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی اخبار معاریو کی تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق
جون
سینیٹ اجلاس بالآخر رواں ہفتے بلانے کا فیصلہ، غزہ کی صورتحال پربحث کی جائے گی
?️ 24 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران سیٹ اپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد
اکتوبر
کیا نیویارک میں نیتن یاہو اور الجولانی کی خفیہ ملاقات ہوگی؟ صہیونی میڈیا کا دعویٰ
?️ 30 جون 2025 سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم
جون
برطانیہ اور فرانس فلسطین کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں
?️ 2 مئی 2025سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافے کے
مئی