ٹرمپ کی امن منصوبوں میں ظالم کی جانب داری رہتی ہے

ٹرمپ

?️

ٹرمپ کی امن منصوبوں میں ظالم کی جانب داری رہتی ہے

تجزیاتی ویب گاہ نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے نام نہاد امن معاہدوں کی لہر کمزور اور غیرمستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے۔

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق، ٹرمپ کی نوبل امن انعام حاصل کرنے کی کھلی خواہش نے انہیں ’’امن معاہدہ‘‘ اور ثالثی جیسے الفاظ کے معنوں کو بے مثال حد تک کھینچنے اور مسخ کرنے پر آمادہ کیا۔ وہ ہر اُس عمل کو جسے کسی بھی لحاظ سے جنگ سے امن کی طرف قدم سمجھا جا سکتا ہو خواہ اس میں ان کا کردار معمولی ہی کیوں نہ ہو  اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتے رہے۔

اپنی پہلی صدارت میں، انہوں نے ابراہیمی معاہدوں کو امن معاہدہ قرار دیا، حالانکہ یہ دراصل امن نہیں تھے بلکہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی سطح کو بڑھانے کا اقدام تھا۔ یہ ممالک اسرائیل کے ساتھ نہ جنگ میں تھے اور نہ دشمن، بلکہ پہلے ہی اس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے تھے۔

ان معاہدوں نے مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن کو نقصان پہنچایا، کیونکہ اسرائیل نے ان معاہدوں کو فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا اور انہیں ایران مخالف عسکری اتحاد کی تشکیل کا بنیاد بنایا۔

دوسری مدتِ صدارت میں ٹرمپ نے بعض تنازعات میں ’’امن ساز‘‘ کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ اصل ثالثی زیادہ تر دوسروں نے کی۔ مثال کے طور پر کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے سرحدی تنازعے میں اصل سفارتی کردار ملائیشیا نے ادا کیا۔

وہ دستاویز جسے ٹرمپ ’’امن معاہدہ‘‘ کہہ رہے تھے، نے اختلافی مسائل کو حل ہی نہیں کیا کمبوڈیا اور تھائی لینڈ دونوں فریقوں نے تصدیق کی کہ وہ صرف اجلاس کے مندرجات کا تحریری خلاصہ تھا۔

دوسرے تنازعات جیسے کانگو اور روانڈا کا بحران میں بھی جہاں ٹرمپ نے کردار کا دعویٰ کیا، جنگیں جاری رہیں کیونکہ مسلح گروہ امن معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھے۔ بھارت و پاکستان کے مسئلے میں تو بھارت نے کھل کر کہا کہ وہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرتا، اور امریکی ثالثی کی بھی مخالفت کی۔

بعض معاملات میں حکومتِ ٹرمپ کا کردار بس یہ تھا کہ تجارتی مذاکرات روک دینے کی دھمکی دی جائے، جیسے کمبوڈیا تھائی لینڈ تنازعے میں۔ مگر دو معاملات ایسے تھے جن میں ٹرمپ حکومت کی مداخلت نمایاں تھی اور یہی دونوں ایک خاص پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں:ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے نزدیک طاقتور فریق کو کھلی اجازت دینا اور کمزور فریق کو دبانا جنگ ختم کرنے اور اسے امن ظاہر کرنے کا تیز ترین راستہ ہے۔

اس کی ایک مثال ٹرمپ کا غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ ہے۔ حالیہ تجزیوں میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم کو بعض اقدامات پر مجبور کیا، مگر مجموعی طور پر یہ منصوبہ ٹرمپ کی تا عمر پالیسی کا تسلسل ہے ہر اہم مسئلے میں مکمل طور پر اسرائیل کی ترجیحات کے تابع ہونا۔

دوسری مدت میں انہوں نے غزہ پر اسرائیلی حملے کے لیے بھرپور سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کی، جس میں اسرائیلی فوج کے لیے بے نظیر مالی امداد بھی شامل تھی۔

حال ہی میں اسرائیل نے ٹرمپ حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ترکی میں ہونے والا ایک مجوزہ اجلاس  جس میں اسٹیو وٹکاف اور حماس کے ایک رہنما کی ملاقات طے تھی  منسوخ کر دے۔ حماس نے اس منصوبے کو مکمل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینیوں کو مستقل بیرونی تسلط کے تحت رکھتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی باوجود نااہلی اور فرسودگی مذاکرات میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے، مگر اسرائیل اس کی شرکت قبول نہیں کر رہا، اور ٹرمپ حکومت بھی اس بارے میں اسرائیل کے سامنے کھڑی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں دکھا رہی۔

منصوبے کی دفعات پوری طرح اسرائیل کے حق میں اور فلسطینیوں کے خلاف ترتیب دی گئی ہیں۔ حماس سے مکمل غیرمسلح ہونے کا مطالبہ ہے، جبکہ اسرائیل  جس نے زیادہ تباہی پھیلائی پر کوئی پابندی نہیں۔

اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ شرائط پوری نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ہر پسپائی کو ویٹو کر دے۔آتش‌بس کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے بھی کوئی مؤثر طریقہ شامل نہیں، جبکہ خلاف ورزیوں کی تعداد پہلے ہی بہت زیادہ رہی ہے۔

جیسے پہلے آتش‌بسوں میں ہوا، امکان یہی ہے کہ اسرائیل جب چاہے اپنی عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کرے گا اور بعد کے مراحل میں اپنی ذمہ داریاں نظرانداز کرے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینیوں کے بنیادی سوال حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کا امکان  کا جواب منفی دیتا ہے۔منصوبے کی نگرانی کرنے والی اتھارٹی کی سربراہی بھی ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو گی جو کھل کر اسرائیل نواز ہے  یعنی خود ٹرمپ۔

اسرائیل کا فلسطینیوں پر تسلط برقرار رکھنے اور آزاد ریاست کے قیام کو روکنے کا مقصد اس منصوبے میں بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔منصوبہ غربِ اردن میں جاری اسرائیلی کارروائیوں بڑے پیمانے پر بے دخلیوں، روزانہ کے حملوں، اور آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی تشدد پسندی  کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا ہے، جنہوں نے فلسطینیوں کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔

ٹرمپ کے منصوبے میں جو مبہم زبان استعمال کی گئی ہے کہ ’’اگر چند شرائط پوری ہوں تو شاید‘‘ فلسطینی ریاست اور حقِ خودارادیت کے لیے کوئی راستہ نکلے  وہ پہلے کے مبہم بیانات سے بھی کمزور، بے معنی اور عملی طور پر خالی ہے۔

مشہور خبریں۔

نئے فیچرز کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی کا نیا ورژن متعارف

?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: اوپن اے آئی  نے چیٹ جی پی ٹی کے نئے،

امارات کے وزیر خارجہ کی ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری سے ملاقات کی

?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل

مصر بھی حماس کو تل ابیب کے موقف سے آگاہ کرنے کو تیار نہیں

?️ 29 اگست 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار Yediot Aharonet نے ایک صہیونی ذریعے کے

امریکہ اندرونی تقسیم اور اتحاد کے فقدان کا شکار ہے: کسنجر

?️ 8 فروری 2023سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہ اور مشہور امریکی حکمت عملی ساز ہنری

شام میں ترکی کا بڑا چیلنج

?️ 18 جولائی 2025 سچ خبریں: صیہونی ریژیم کے شام کے دارالحکومت دمشق میں حساس مراکز

وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کا پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 8 روپے کمی کا اعلان

?️ 1 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پیٹرولیم مصنوعات کی

عراقی پارلیمانی انتخابات میں شرکت، عوامی اعتماد کی بحالی

?️ 12 اکتوبر 2021  سچ خبریں: حالیہ عراقی پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے قطع نظرجو

2053 تک میں ترکی کو دنیا کی لاجسٹک سپر پاور بنادوں گا:ترک صدر

?️ 16 اپریل 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک آنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے