وزیر اعظم یا صدر،عراق میں کون سا معاملہ پہلے حل ہوگا

عراق

?️

وزیر اعظم یا صدر،عراق میں کون سا معاملہ پہلے حل ہوگا

عراق میں چھٹے پارلیمانی انتخابات کے بعد ملک دو اہم سیاسی کشمکشوں کا سامنا کر رہا ہے، پستِ وزیرِ اعظم اور پستِ صدرِ مملکت۔ وزیرِ اعظم کا معاملہ شیعہ سیاسی اتحاد کے اندر اختلافات پیدا کر رہا ہے، جبکہ صدرِ مملکت کا معاملہ سنی اور کرد سیاسی دھڑوں کے درمیان تنازع کا محور ہے۔

عراقی ذرائع کے مطابق شیعہ اتحاد چارچوبِ ہم آہنگی نے اس ہفتے اپنی پہلی نشست منعقد کی اور خود کو پارلیمان کی سب سے بڑی فراکشن کے طور پر پیش کیا، جس کے پاس ۳۲۹ میں سے ۱۸۷ نشستیں ہیں۔ اس اجلاس میں وزیرِ اعظم کے امیدوار کا انتخاب کرنے کے لیے دو کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں، ایک کمیٹی اندرونی امیدواروں کے انٹرویو کی ذمہ دار ہے اور دوسری دیگر بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کر کے پہلے پارلیمانی اجلاس، صدر اور نئی حکومت کے خطوطِ عمومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ اعظم کے نامزد امیدوار کی کمیٹی میں نوری المالکی، حمام حمودی اور فالح الفیاض شامل ہیں۔ انتخابات کے حتمی نتائج کی تصدیق کے بعد چارچوبِ ہم آہنگی وزیرِ اعظم کے امیدوار کا اعلان کرے گا، جس سے قبل یہ نام اعلی دینی مرجعیت اور شیخ مقتدی صدر کو بھی پیش کیا جائے گا تاکہ ان کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

چند ذرائع کے مطابق نئے وزیرِ اعظم کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ اچھے کردار اور رویے کا حامل ہو، امریکہ اور ایران کے ساتھ مناسب تعلقات رکھتا ہو، کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام سے گریز کرے اور دفترِ وزیرِ اعظم کے اہم عہدوں کی تعیناتی چارچوبِ ہم آہنگی کو دینے پر راضی ہو۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے چارچوبِ ہم آہنگی وزیرِ اعظم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انتخابات کے نتائج امریکہ کی توقعات کے برخلاف آئے ہیں اور زیادہ تر مزاحمتی اور علاقائی پالیسیوں کے مخالف گروپ پارلیمان میں پہنچ چکے ہیں۔

صدرِ مملکت کے عہدے کے حوالے سے سنی اور کرد دھڑوں میں اختلاف نمایاں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں صدرِ مملکت کا عہدہ کرد جماعتوں کو ملتا رہا، لیکن اس بار محمد الحلبوسی کی قیادت میں حزب تقدم نے اس پست کے لیے اپنی دعویٰ پیش کیا ہے۔ اس وقت حزب تقدم کے پاس ۲۷ نشستیں ہیں جبکہ قریبی کرد جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ۲۶ نشستیں ہیں۔ کرد رہنما واضح کر چکے ہیں کہ صدرِ مملکت کا عہدہ ان کا حق ہے اور وہ اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ مزید برآں، کردستان میں دو بڑی جماعتوں، ڈیموکریٹک پارٹی اور اتحادِ وطن پارٹی کے درمیان بھی اختلاف موجود ہے کہ کس جماعت کا رہنما اس مرتبہ صدر بنے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم اور صدرِ مملکت کے یہ تنازعات، اگر قانونی معیار کے مطابق حل نہ کیے گئے، تو آئندہ انتخابات اور سیاسی مراحل میں بھی عراق کے لیے پیچیدہ مسئلہ رہیں گے۔

انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد چارچوبِ ہم آہنگی نے خود کو پارلیمان کی سب سے بڑی فراکشن قرار دیا اور اس کے مطابق وزیرِ اعظم کے نامزد امیدوار کے انتخاب کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

جہاں خان کی جماعت نہیں وہاں ووٹر بھی نہیں

?️ 5 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی وزیراعظم عمران خان، ڈاکٹر شہباز

صدر پاکستان نے جغرافیائی اور سیاسی تنازعات کو عالمی امن کیلیے خطرہ قرار دے دیا

?️ 21 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے

حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بجائے آئینی مدت پوری کرنی چاہیے، نیئر بخاری

?️ 15 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نیئر بخاری نے

صہیونی پھر ہوئے ناکام

?️ 13 نومبر 2023سچ خبریں:صہیونی فوج کے چیف آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے 7

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پروازوں میں اضافہ ہوگا

?️ 2 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید

اقوام متحدہ کی سعودی عرب پر افریقی تارکین وطن کے خلاف جرائم پر تنقید

?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے اپنی ایک رپورٹ

20 اپریل کے بعد ٹی ایل پی ختم ہو جائے گی

?️ 18 اپریل 2021اسلام اباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد

پاکستان اور روس کے مابین تعلقات بتدریج مستحکم ہوئے ہیں: وزیر خارجہ

?️ 24 فروری 2022ماسکو(سچ خبریں) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہناہے کہ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے