نوبل امن انعام یافتہ کی اپنے ہی ملک کے خلاف سازش

ر نوبل امن انعام

?️

نوبل امن انعام یافتہ کی اپنے ہی ملک کے خلاف سازش

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے ایک بار پھر واشنگٹن کے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنے ہی ملک کے خلاف امریکی دباؤ کی حمایت کی ہے۔ ایک امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے وینزویلا سے روانہ ہونے والے ایک تیل بردار جہاز کی حالیہ ضبطی اور کاراکاس پر وائٹ ہاؤس کے دباؤ کی توثیق کی۔

 ماچادو نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے وینزویلا کے عوام کو غریب قرار دیا اور تسلیم کیا کہ ملک پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

وینزویلا کی حکومت کی مخالف اور نوبل امن انعام یافتہ اس شخصیت نے اپنے سابقہ بیانات کو دہراتے ہوئے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدر نیکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں کی کھل کر تعریف کی۔

ماچادو نے کہا:“میں ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔ ہم، وینزویلا کے عوام، ان کے اور ان کی حکومت کے بے حد شکر گزار ہیں، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ وہ اس خطے میں آزادی کے ہیرو ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا:ہم برسوں سے مادورو حکومت پر دباؤ کے خواہاں تھے، اور اب بالآخر ایسا ہو رہا ہے۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ اس حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔”

رپورٹ کے مطابق، ماچادو گزشتہ ہفتے نوبل امن انعام وصول کرنے اور اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے پہلی مرتبہ 2023 کے بعد خفیہ طور پر وینزویلا سے نکل کر ناروے پہنچیں۔ وہ تقریب کے چند گھنٹے بعد اوسلو پہنچیں، جبکہ ان کی بیٹی نے ان کی جانب سے نوبل امن انعام وصول کیا۔ ماچادو کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ موسمِ سرما کے آغاز سے روپوش تھیں۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں وینزویلا پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس دوران بحیرہ کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبہے میں متعدد کشتیوں کو تباہ کیا گیا، اضافی فوجی دستے خطے میں بھیجے گئے اور صدر مادورو کی گرفتاری پر انعامی رقم بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وینزویلا میں زمینی اہداف پر حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ماچادو نے کہا:“مجھے نہیں معلوم۔ اور اگر معلوم بھی ہوتا تو میں نہیں بتاتی۔ ہم کسی دوسرے ملک کی سلامتی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔

یہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما 2024 کے صدارتی انتخابات میں مادورو کے مقابلے کے لیے ابتدائی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھیں، تاہم انہیں صدارتی امیدوار بننے سے روک دیا گیا اور بالآخر یہ ذمہ داری ایڈمنڈو گونزالس کو سونپی گئی۔

متنازع صدارتی انتخابات میں مادورو فاتح قرار پائے، تاہم ان کی کامیابی کی قانونی حیثیت کو امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن اور دیگر غیر ملکی مبصرین نے چیلنج کیا ہے۔

ماچادو نے گزشتہ خزاں میں نوبل امن انعام ملنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ یہ انعام ٹرمپ کے نام منسوب کرتی ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ سخت پابندیاں اور تیل بردار جہازوں کی ضبطی جیسے اقدامات وینزویلا کے عوام کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ اقدامات ان کے مفاد میں ہیں۔

مشہور خبریں۔

شہید سید حسن نصراللہ کی تاریخی تشییع جنازے نے حزب اللہ کی طاقت ثابت کر دی:عطوان

?️ 25 فروری 2025سچ خبریں:علاقائی سیاست کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے حزب اللہ

ات 10 بجے سے پہلے میرٹ پر نگران وزیراعلیٰ کا اعلان کردیں گے، چیف الیکشن کمشنر

?️ 22 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے کہا ہے

صہیونی نمائندے نے عوام سے نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی

?️ 12 جنوری 2023سچ خبریں:صہیونی پارلیمنٹ کے رکن اور یش عتید پارٹی سے تعلق رکھنے

غزہ کے بچوں میں غذائی قلت کے چونکا دینے والے اعدادوشمار

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: غزہ میں بچوں کی نازک صورتحال پر اپنی نئی رپورٹ میں

ایران اور غزہ جنگ پر مشاورت کے لیے اسرائیلی وفد کی امریکہ روانگی

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں:ایک صہیونی وفد امریکہ کا دورہ کرے گا تاکہ امریکی حکام

قومی اسمبلی میں حکومت ارکان بھی آمنے سامنے

?️ 18 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز قومی اسمبلی کے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کریش کر گئی

?️ 7 جون 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے آخری روز ابتدائی

امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد خصوصی سلامتی کونسل کا اجلاس

?️ 10 اکتوبر 2025سچ خبریں: وینزویلا اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر اقوام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے