نبیہ بری نے امریکی نمائندے کی امیدوں پر کیسے پانی پھیر دیا

?️

نبیہ بری نے حزب اللہ کے اسلحے کے متعلق، امریکی نمائندے کی امیدوں پر کیسے پانی پھیر دیا

امریکی ایلچی تام باراک کے حالیہ دورہ لبنان کے دوران پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے واضح کر دیا ہے کہ حزب اللہ کے اسلحے کے معاملے پر کسی بھی قسم کی گفتگو اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل کو مکمل طور پر جنگ بندی پر مجبور نہ کیا جائے۔

لبنانی ذرائع کے مطابق، تام باراک نے بیروت پہنچنے کے بعد نبیہ بری سے اپنی ملاقات کو سب سے اہم قرار دیا اور ان کے ساتھ طویل ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ، امریکہ اور بین الاقوامی معاملات پر اُن کی گہری بصیرت کی تعریف کی۔ تاہم ملاقات کا مرکزی نکتہ نبیہ بری کی وہ سخت مؤقف تھا جس میں انہوں نے حزب اللہ کے اسلحے کے موضوع کو لبنانی داخلی دفاعی حکمت عملی کے تناظر میں زیر بحث لانے پر زور دیا اور وہ بھی اسرائیل کی جارحیت رکنے کے بعد۔

نبیہ بری نے باراک کے سامنے نومبر 2023 سے جاری جنگ بندی کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مکمل تفصیلات، شہداء کی تعداد اور جنوبی لبنان کی بربادی کا احوال رکھا اور سوال کیا: ان حالات میں کیا لبنان کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب تک اسرائیل لبنانی علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوتا، جب تک جنوبی لبنان کے لاکھوں بے گھر افراد واپس اپنے گھروں کو نہیں لوٹتے اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو ممکن نہیں ہوتی تب تک کسی بھی اسٹریٹجک مسئلے پر بات چیت کا ماحول پیدا نہیں ہو سکتا۔

نبیہ بری نے متعدد تجاویز بھی پیش کیں، جن میں سب سے اہم تجویز یہ تھی کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹے اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے، اس کے بعد ہی لبنان میں دفاعی حکمت عملی پر قومی مکالمہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تام باراک نے ملاقات کے بعد اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ موجودہ صورتِ حال میں حزب اللہ کے اسلحے کا موضوع چھیڑنا انتہائی حساس اور قبل از وقت ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اسرائیل بھی جنگ بندی کی مکمل پاسداری نہیں کر رہا۔

اس ملاقات کے بعد امریکی ایلچی کے لہجے میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ جہاں پہلے انہوں نے دیگر لبنانی رہنماؤں جیسے جنرل جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم یہاں اسرائیل کو مجبور کرنے نہیں آئے، وہیں نبیہ بری سے ملاقات کے بعد باراک نے کہا کہ وہ لبنان کو جنگ سے بچانا چاہتے ہیں اور یہاں امن کے لیے آئے ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ امریکی ایلچی نے حالیہ ملاقات کے دوران ایک نیا مسودہ بھی پیش کیا جس میں حزب اللہ کے اسلحے کی اقسام اور تفصیلات شامل تھیں جو پچھلے دورے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور تفصیلی تھا۔

تام باراک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور جنوبی شام کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پيرس میں اسرائیلی و شامی وفود کی ایک اہم میٹنگ کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل مخالف دباؤ رنگ لا رہا ہے: عبرانی میڈیا

?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: کالکالیست اخباری رسالے کی رپورٹ کے مطابق، بائیکاٹ موومنٹ کو

21 ملین سے زائد زائرین کی کربلا میں موجودگی

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:روضہ حضرت عباس کی انتظامیہ نے کربلا میں داخل ہونے والے

آئی جی پولیس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

?️ 6 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) آئی جی اسلام آباد پولیس قاضی جمیل الرحمان کو عہدے

جان لیوا انصار اللہ نے تل ابیب پر حملہ کیا / صیہونی کیمپ بدامنی کا شکار ہے

?️ 11 مئی 2025سچ خبریں: عرب دنیا کے ایک مشہور تجزیہ نگار نے مقبوضہ علاقوں

شبلی فراز نے چینی بحران میں حکومت کو  ذمہ دار ٹھہرایا

?️ 9 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر شبلی فرازنے

وزیر اعظم نے اپنا کیا  ایک اور وعدہ پورا کردیا

?️ 24 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان قوم سے کئے گئے

آئرلینڈ کے صحافیوں نے کام کی ہڑتال کی

?️ 1 ستمبر 2022سچ خبریں:    نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے ارکان بدھ کے روز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے