نئے ٹیرف کے بعدچین میں تجارتی کشیدگی میں اضافہ

میکسیکو،چین

?️

نئے ٹیرف کے بعدچین میں تجارتی کشیدگی میں اضافہ

میکسیکو کی جانب سے نئی درآمدی ٹیرف پالیسی کے نفاذ کے بعد چین کے ساتھ اس کے تجارتی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباوم نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی ٹیرف پالیسی کسی جغرافیائی یا سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی ایک ملک کو نشانہ بنانا ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف ملکی معیشت، صنعت اور روزگار کا تحفظ ہے۔

صدر شینباوم کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی سے میکسیکو کو سالانہ کم از کم 30 ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام ممالک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے ملکی تجارتی اور صنعتی شعبوں کی مشاورت سے کیے گئے ہیں تاکہ مقامی صنعت کو مضبوط کیا جا سکے اور روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران بھی کم درآمدات اور زیادہ برآمدات کی پالیسی کی حامی رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے میکسیکو کی کانگریس نے درآمد و برآمد سے متعلق نیا قانون منظور کیا، جس کے تحت ان ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے جن کے ساتھ میکسیکو کا آزاد تجارتی معاہدہ موجود نہیں۔ اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر چین ہوا ہے، کیونکہ میکسیکو کی مجموعی درآمدات میں چینی مصنوعات کا حصہ نمایاں ہے۔

چین نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکسیکو کا فیصلہ یکطرفہ اور تحفظ پسندانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جو عالمی تجارت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ چینی وزارتِ تجارت نے میکسیکو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کرے اور تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرے۔ چین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ میکسیکو کے ساتھ تجارتی پابندیوں کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری جانب میکسیکو کے وزیرِ معیشت مارسلو ابرارد نے وضاحت کی کہ ان ٹیرف کا مقصد تقریباً ساڑھے تین لاکھ ملازمتوں کا تحفظ ہے جو ایشیائی ممالک سے بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث خطرے میں تھیں۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں جوتوں، ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل کے شعبوں میں درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس سے مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچا۔

اگرچہ بعض ماہرین اس پالیسی کو امریکہ کے دباؤ اور اس کے ساتھ تجارتی ہم آہنگی کی کوشش قرار دے رہے ہیں، تاہم میکسیکو کی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عالمی تجارتی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ نئی ٹیرف پالیسی نے نہ صرف میکسیکو اور چین کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے بلکہ خطے کی تجارتی صورتِ حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکہ میں فیصلہ کن دن کا آغاز؛ سیاسی کشیدگی اور داخلی جنگ کا خطرہ

?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں:چار سال پہلے ہونے والے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کے حامیوں

کیا گوٹیرس اسرائیل کو بچوں کا قاتل قرار دیں گے؟

?️ 30 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل 13 نے خبر دی

اٹارنی جنرل نے چیئرمین ایف بی آر کو قانونی ٹیموں کی ناقص کارکردگی پر خط لکھ دیا

?️ 10 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اٹارنی جنرل آفس نے عدالتوں میں ٹیکس محکمہ

سرکاری ملازم… واقعا قابلِ رحم مخلوق ہیں!

?️ 15 فروری 2021سچ خبریں:  سو پیاز اور سو کوڑے! یہ محاورہ صورت حال پر

صیہونی حکومت کے جرائم صرف استقامت کی توسیع کا سبب

?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن خالد

ایف اے ٹی ایف گروپ میں پاکستان دوسرے نمبر پر آگیا

?️ 14 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ

صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے 3 فلسطینی ماہی گیروں کی شہادت

?️ 7 مارچ 2021سچ خبریں:اسرائیلی فورسز نے بحیرہ خانیونس میں آج فلسطینی ماہی گیروں پر

غزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ 

?️ 1 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی ذرایع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے خبردار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے