منشیات محض بہانہ تھیں،واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے:صہیونی میڈیا

?️

منشیات محض بہانہ تھیں،واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے:صہیونی میڈیا

صہیونی ریاست کے معروف ٹی وی چینل چینل 13 نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کا دعویٰ محض ایک بہانہ تھا، جبکہ اصل مقصد وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

 اسرائیلی چینل 13 نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکا کا وینزویلا پر حملہ اور وہاں کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری منشیات کے خطرے سے نمٹنے کے نام پر کی گئی، حالانکہ واشنگٹن کا اصل ہدف وینزویلا کا تیل اور خطے میں روس و چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق غیر حقیقی دعوے پیش کر کے اس خطے میں اپنی بالادستی مضبوط کرنا چاہتا ہے جسے وہ اپنا ’پچھواڑا سمجھتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ وینزویلا سے منشیات کی اسمگلنگ ہر سال تین لاکھ امریکیوں کی جان لے رہی ہے، حد سے زیادہ مبالغہ آمیز ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں کم ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب کے بعد وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے اور یہی حقیقت واشنگٹن کی فوجی مداخلت اور صدر مادورو کے اغوا کی بنیادی وجہ ہے۔

ٹرمپ نے اس غیر قانونی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا:ہم نے کاراکاس کی بتیاں گل کر دیں اور اندھیرے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی تیل کمپنیاں جلد وینزویلا میں داخل ہوں گی اور ’’منتقلی اقتدار‘‘ تک یہ ملک واشنگٹن کے زیرِ انتظام رہے گا۔

امریکا کے اس اقدام پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ امریکا کی سابق نائب صدر کمالا ہیرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وینزویلا پر حملے کی کوئی قانونی بنیاد یا داخلی فائدہ نہیں اور یہ امریکا کو ایک طویل اور مہنگے بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام جھوٹ سے تنگ آ چکے ہیں اور ایسی مداخلتیں ملکی سلامتی میں اضافہ نہیں کرتیں۔

فرانس میں بائیں بازو کی جماعت فرانس اَن باؤڈ کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے اس کارروائی کو صدر مادورو کا شرمناک اغوا اور وینزویلا کے تیل کی لوٹ مار قرار دیا اور فرانسیسی حکومت سے اس حملے کی مذمت کا مطالبہ کیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی کہا کہ کوئی بھی پائیدار سیاسی حل باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا اور اقوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس کے برعکس، صہیونی حکام بشمول وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر خارجہ گدعون ساعر نے امریکا کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ٹرمپ کی ’’تاریخی قیادت‘‘ قرار دیا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکا نے ہفتے کی صبح (۱۳ دی ۱۴۰۴) وینزویلا پر فوجی حملہ کیا، جس کے بعد کاراکاس اور دیگر ریاستوں میں دھماکوں اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ وینزویلا کی حکومت نے اس کارروائی کو ’’فوجی جارحیت‘‘ قرار دے کر ہنگامی حالت نافذ کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

ایران، روس اور متعدد دیگر ممالک نے اس امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے خطے اور عالمی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت میں غیر ضروری دفاتر بند

?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں:اخبار نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن

حکومتی دور میں نوکریوں سے متعلق فوادچوہدری کا اہم بیان

?️ 6 اکتوبر 2021اسلام آباد ( سچ خبریں )وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اہم دعوی

اسرائیل کو دی ہیگ میں نیتن یاہو کے مقدمے کے جج پر شک

?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی ذرائع نے صیہونی حکومت کے قانونی اور عدالتی اداروں

عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو اہم نوٹس جاری کردیا

?️ 20 مارچ 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق بین الاقوامی فوج

بہاولنگر میں پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹم نے ایک اور بھارتی ڈرون مار گرایا

?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹم نے بہاولنگر میں ایک

عمران خان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی سماعت آج ہوگی

?️ 10 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان

پاکستان کو ریڈ لیسٹ میں رکھنے کا معاملہ، برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے اپنی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کردیا

?️ 5 اگست 2021لندن (سچ خبریں)  برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لیسٹ

امریکہ اور طالبان مذاکرات میں کیا ہوا ؟

?️ 3 اگست 2023سچ خبریں:طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کو کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے