مغرب دنیا پر قبضہ کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے؟امریکی نامہ نگار کی زبانی

امریکی

?️

سچ خبریں: ایک امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں مغرب اپنے عالمی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے روس اور چین کے تکراتے ہوئے تیسری جنگ عظیم کی آگ بھڑکانے میں ایک لمحہ بھی دریغ نہیں کرے گا۔

اسپوٹنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی میڈیا ایکٹیوسٹ جیکسن ہنکل نے کہا کہ روس اور چین کے ساتھ یوکرین کے تنازعے کے بھڑکنے کے بعد امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک کے تعلقات میں کافی تبدیلی آئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی تسلط کا خاتمہ کیسے ہو رہا ہے؟

انہوں نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ مغرب کو عالمی تسلط برقرار رکھنا ہے جس کے لیے روس اور چین کے خلاف تیسری عالمی جنگ کی آگ بھڑکانے میں ایک لمحہ بھی دریغ نہیں کرے گا۔

امریکی تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ مغرب کو اپنی عالمی خودمختاری کے تسلط کو برقرار رکھنے کے عزم کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بہت عرصہ پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں تائیوان کی خودمختاری کے تنازعہ کا ذکر کر رہا ہوں اس حد تک کہ میڈیا کے بہت سے حلقوں نے نینسی لے جانے والے طیارے کو نشانہ بنانے اور عالمی جنگ کی چنگاری کے بارے میں قیاس آرائیاں کیں۔

ہنکل نے مزید کہا کہ درحقیقت، بہت سے سیاسی حلقوں نے مسز پیلوسی کے تائیوان کے اشتعال انگیز دورے کو چین کے ساتھ جنگ ​​اور تیسری جنگ عظیم کے آغاز کے طور پر سمجھا۔

انہوں نے ماسکو اور واشنگٹن کے تاریخی سیاسی تعلقات کے اتار چڑھاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ روس کے خلاف امریکہ کی نفرت سرد جنگ کے دور سے بھی آگے بڑھ چکی ہے، اس حد تک کہ یہ تعلقات ٹوٹ کر تشویشناک حد تک جا چکے ہیں۔

امریکی میڈیا کارکن نے روس کے خلاف نارتھ اٹلانٹک آرگنائزیشن (نیٹو) کے اشتعال انگیز اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نیٹو نے روس کے ساتھ کم از کم 16 مرتبہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں سب سے اہم خلاف ورزی مشرق میں عدم جارحیت کے معاہدے کی خلاف وزری ہے۔

نیٹو کے علاقائی توسیع پسندانہ اقدامات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے پیشین گوئی کی کہ اس بات امکان ہے کہ نیٹو مستقبل میں جارجیا کی سرحدوں اور روس کی سرحدی پٹی تک اپنے پرجوش منصوبے کے تسلسل میں پیش قدمی کرے گا۔

امریکی صحافی نے کہا کہ وائٹ ہاؤس دنیا پر اپنا یکطرفہ تسلط کھونا نہیں چاہتا ، اسی لیے وہ برکس گروپ کے میکنزم کے ذریعے چین اور روس کی قیادت میں کثیر قطبی دنیا کے ابھرنے کے ساتھ، جس کا مقصد ڈالر کے ساتھ معاشی طور پر مقابلہ کرنا ہے اور متبادل کرنسی کی پیشکش کا سختی سے مقابلہ کرے گا۔

مزید پڑھیں: مغربی تسلط کا دور ختم ہو ا: انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم کا اعتراف

اسپوٹنک کے ساتھ اپنے پریس انٹرویو کے آخر میں جیکسن ہنکل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکی عوام کو جس حقیقی خطرے کا سامنا ہے وہ سرحدوں سے باہر نہیں ہے اور نہ ہی روس اور چین سے ہے بلکہ امریکہ میں طاقتور معاشی طبقے کا ایک اسپیکٹرم ہے جو امریکہ کی دولت پر قبضہ کر کے اس ملک کے قومی مفادات کے منافی ہو رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

صہیونی جرائم پر اقوام متحدہ کب تک خاموش رہے گی ؟

?️ 18 اکتوبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کی صبح

درآمدی بل میں کمی اور توانائی کی بچت کیلئے قومی منصوبہ تیار

?️ 16 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے

مراکش سے امریکہ تک فلسطین کی عالمی حمایت

?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں: فلسطین کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے تاحال جاری ہیں اور

اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا 12 روزہ جنگ میں ایران کے سامنے شکست کا اعتراف

?️ 9 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرت، جو 2006 کی 33

اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں: چیئرمین سینیٹ

?️ 11 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے

شام میں امداد کے تاخیر سے آمد پر حیران ہوں: امیر قطر

?️ 5 مارچ 2023سچ خبریں:قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے آج ترقی یافتہ

جو بائیڈن Lviv شہر پر راکٹ حملے کی جگہ سے صرف 10 منٹ کے فاصلے پر موجود

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:  روسی فضائیہ نے کل اعلان کیا کہ روسی فوج نے

محمد علی سدپارہ کے متعلق حکومت اہم بیان جاری کر دیا

?️ 18 فروری 2021سکردو (سچ خبریں) گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت ناصر علی خان نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے