?️
فرانس میں سیاسی بحران نے عوام اور سیاستدانوں کے درمیان اختلافات کو آشکار کر دیا
برطانوی روزنامہ گارجین نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ فرانس میں جاری سیاسی بحران نہ صرف وزیرِاعظم فرانسوا بایرو کی حکومت کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ اس نے عوام اور سیاستدانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کو بھی آشکار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بایرو کی 74 سالہ اقلیتی حکومت پارلیمان میں عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد گر سکتی ہے۔ اس سے قبل، دسمبر 2024 میں سابق وزیرِاعظم میشل بارنیہ بھی صرف تین ماہ اقتدار میں رہنے کے بعد پارلیمان کے ووٹ سے برطرف ہو گئے تھے۔
گارجین کا کہنا ہے کہ بایرو کی برطرفی بظاہر بجٹ اصلاحات کی ناکامی کے باعث ہے۔ ان کے 44 ارب یورو کے قرض کم کرنے کے منصوبے کو فرانسیسی سیاستدانوں نے مسترد کر دیا۔ لیکن درحقیقت یہ بحران عوامی سطح پر سیاستدانوں سے عدم اعتماد اور بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت ہے، جس سے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل ہی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
صدر امانوئل مکرون نے بڑے سماجی اصلاحاتی پروگرام کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مکرون کے 2022 کے بعد اکثریت کھونے کے باعث قانون سازی کا عمل رکا ہوا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال ایک سیاسی جوا کھیلتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کرائے لیکن نتیجہ ایک منقسم پارلیمان کی صورت میں نکلا جس میں بائیں بازو، دائیں بازو کے انتہا پسند اور مکرون کا میانہ رو بلاک تین حصوں میں بٹ گیا۔گارجین نے اس صورتحال کو ناکام اتحاد قرار دیا ہے جس نے عوام کا سیاست سے اعتماد مزید ختم کر دیا ہے۔
ایپسوس انسٹیٹیوٹ کے محقق متیو گالارد کے مطابق، عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاستدان ان کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔ اسی تناظر میں اگلے ہفتے ملک گیر احتجاج سب کچھ روک دو کے نام سے متوقع ہے، جس کے دوران سڑکیں بلاک کرنے، کاروبار بند کرنے اور اسپتالوں و ریلویز میں ہڑتالوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
فرانسیسی سیکورٹی ادارے اندازہ لگا رہے ہیں کہ کم از کم ایک لاکھ افراد ان مظاہروں میں شریک ہوں گے، اور پولیس و مظاہرین کے درمیان تصادم کا خدشہ ہے۔ تاہم اگر بایرو حکومت آج پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکی اور گر گئی تو مظاہروں میں عوامی جوش و خروش میں کمی آ سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ بحران کا سب سے بڑا فائدہ دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کو پہنچ سکتا ہے جو خود کو کاروباری طبقے کا متبادل اور 2027 کے انتخابات میں طاقتور امیدوار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
گارجین نے خبردار کیا ہے کہ فرانس کا موجودہ سیاسی انتشار نہ صرف ملکی سطح پر خطرناک ہے بلکہ یورپ بھر میں انتہا پسند سیاست کو تقویت دے سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکہ ہمارے تیل کی لوٹ مار بند کرے:شام
?️ 23 اپریل 2023سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی طرف سے اس ملک
اپریل
حماس کو نیتن یاہو کی خفیہ تجویز کی دستاویز میڈیا پر جاری
?️ 11 جون 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل کے نیوز چینل
جون
فلسطینی قیدیوں کے خلاف سعودی عدلیہ کے فیصلےپر حماس کا رد عمل
?️ 9 اگست 2021سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نےسعودی عرب میں زیر حراست
اگست
محفوظ زون کی ترک صدر کی تجویز مضحکہ خیز:شام
?️ 22 مئی 2022سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ میں اس ملک میں محفوظ زون کے
مئی
سعودی حکام نے ایم بی سی کے منیجرز کو کیوں طلب کیا ؟
?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: رشیا ٹوڈے نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب
اکتوبر
عراق کی امریکہ کے خلاف اہم کاروائی
?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: عراقی حکومت نے ایک بیان جاری کر کے عراق میں
جنوری
سعودی عرب اور ایران کے معاہدے سے تہران کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام
?️ 13 مارچ 2023سچ خبریں:امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے سعودی عرب
مارچ
ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے روس کی کوششیں
?️ 12 ستمبر 2023سچ خبریں:روس کے نائب وزیر خارجہ نے آج ایسٹرن اکنامک فورم کے
ستمبر