غزہ کے بعض علاقوں کے الحاق کی بات صرف حماس پر دباؤ ڈالنے کی چال ہے: اسرائیلی اخبار

دباو

?️

غزہ کے بعض علاقوں کے الحاق کی بات صرف حماس پر دباؤ ڈالنے کی چال ہے: اسرائیلی اخبار
 اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کے بعض علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کی جو باتیں ہو رہی ہیں، وہ دراصل صرف ایک دھمکی ہیں تاکہ حماس کو دباؤ میں لا کر کسی معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے، نہ کہ اس منصوبے کو فی الواقع عملی جامہ پہنانے کا کوئی حقیقی ارادہ موجود ہے۔
 ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے روزنامہ یدیعوت آحارونوت کو بتایا کہ ان دعووں کا مقصد صرف حماس کو خوفزدہ کرنا اور مذاکرات پر راضی کرنا ہے۔ اسی دوران حماس کا مذاکراتی وفد قطر سے ترکی روانہ ہو چکا ہے، تاہم ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق، سکیورٹی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، جب کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو غزہ میں قید اسرائیلیوں کے حوالے سے مشاورت کی۔ اسرائیلی حکام چاہتے ہیں کہ آئندہ کسی بھی اقدام سے قبل چند دن انتظار کیا جائے اور مذاکرات کے نتائج دیکھے جائیں۔
ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فوج نے کابینہ کو مختلف آپشنز پیش کیے ہیں جن میں غزہ پر مکمل قبضہ یا سخت ناکہ بندی شامل ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے لچک نہ دکھائی تو اسرائیل اپنی فوجی کارروائی کو توسیع دے سکتا ہے اور نئے علاقوں میں داخل ہو سکتا ہے۔
ادھر اسرائیل کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور ران درمر اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ تساحی ہانگبی امریکہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کے مسئلے، ایران سے متعلق پالیسی اور دیگر اہم امور پر واشنگٹن سے مکمل ہم آہنگی حاصل کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حکام اب بھی اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ حماس کے ساتھ ایک محدود معاہدہ ممکن ہے، جس میں غزہ میں زندہ موجود 10 اسرائیلی قیدیوں اور 15 ہلاک شدہ افراد کی واپسی شامل ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کر رکھی ہے، جس میں ہزاروں فلسطینی شہریج ن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی، قحط اور انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔
تل ابیب نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی قرارداد کو نظرانداز کر رہا ہے بلکہ عالمی عدالت انصاف کی ہدایات کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان کے باوجود اسرائیل اب تک نہ تو حماس کو ختم کر سکا ہے، نہ ہی اپنے قیدیوں کو بازیاب کروا پایا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی وزراء کی حزب اللہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی شدید مخالفت

?️ 26 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 21 دن

بائیڈن 2024 کے انتخابات میں حصہ لیں گے: وائٹ ہاؤس

?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں:     امریکی صدر جو بائیڈن کے بڑھاپے اور خراب جسمانی

کیا حزب اللہ بھی طوفان الاقصی میں شامل ہو چکی ہے؟

?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں: حزب اللہ کی طرف سے غزہ کی پٹی پر صیہونی

پاک ترک دفاعی تعاون

?️ 26 جنوری 2021برادر مسلم ملکوں پاکستان اور ترکی کے درمیان بیشتر علاقائی اور بین

امریکی سرحدی شہر تباہی کے دہانے پر

?️ 25 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکہ کے جنوب میں ایک سرحدی شہر لاکھوں پناہ گزینوں

12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران PJAK کو ایران کے شدید دھچکے کے بارے میں ترکی کا بیان

?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں: ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے ایک مقامی نشست میں کہا

جبری گمشدگی کیس: نگران وزیراعظم پیش نہ ہوئے، آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب

?️ 19 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری

قفقاز میں امریکہ کا عظیم موقع پرستی؛ کیا "ٹرمپ روڈ” بن رہا ہے؟

?️ 9 اگست 2025سچ خبریں: ممکنہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، آرمینیائی حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے