غزہ میں جنگ بندی کو برقرار کرنا ہوگا:اقوام متحدہ

غزہ میں جنگ بندی کو برقرار کرنا ہوگا:اقوام متحدہ

?️

غزہ میں جنگ بندی کو برقرار کرنا ہوگا:اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی سیاسی و امن امور کی نائب سیکریٹری جنرل ہیں، نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے اور غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ برسوں کی تباہ کن کشمکش اور انسانی مصائب کے بعد اب ایک موقع پیدا ہوا ہے جس سے خطہ نئی سمت اختیار کر سکتا ہے، تاہم یہ موقع نہ تو یقینی ہے اور نہ ہی غیر محدود۔ آئندہ ہفتوں میں فریقین اور سلامتی کونسل کے فیصلے طے کریں گے کہ آیا یہ موقع برقرار رہتا ہے یا نہیں۔
ڈی کارلو نے زور دیا کہ اجتماعی کوششوں کا محور غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط بنانا اور عوام کی تکالیف میں کمی لانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق استحکام اور تعمیر نو کے عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔
انہوں نے واشنگٹن میں منعقد ہونے والے غزہ “امن وفد” کے اجلاس کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد اور دو ریاستی حل کی جانب بامعنی سیاسی عمل آگے بڑھانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
نائب سیکریٹری جنرل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ غزہ کو غیر عسکری بنایا جائے، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے اور ایسی سکیورٹی ترتیبات قائم کی جائیں جو عبوری انتظامیہ کے کام کو آسان بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں نمایاں اضافہ فوری ضرورت ہے۔ اگرچہ اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد امدادی رسائی میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم اکثریت اب بھی بے گھر ہے اور سخت حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔
ڈی کارلو نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ مکمل امن میں نہیں ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی فوج نے حملے تیز کیے ہیں، جن میں گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔
انہوں نے مغربی کنارے کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں، گرفتاریوں، گھروں پر قبضوں اور نقل و حرکت کی پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جبری بے دخلی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ڈی کارلو نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع، مشرقی یروشلم میں مسماریوں اور زمینوں کے اندراج سے متعلق حالیہ فیصلوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تمام اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس محصولات کی منتقلی کی معطلی سے فلسطینی اتھارٹی کا مالی بحران شدید تر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں متاثر اور بنیادی خدمات کمزور ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی استحکام اور غزہ کی وسیع تعمیر نو کے لیے بینکاری معاہدوں کی طویل مدتی توسیع اور اسرائیلی و فلسطینی مالیاتی اداروں کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی بحالی ضروری ہے۔

مشہور خبریں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے غیر ملکی ’پروپیگنڈے‘ سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کر لیں

?️ 19 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے وزارت خارجہ

قاسم اور سلیمان کی آمد کا مقصد سیاسی انتشار پھیلانا ہے تو انہیں اجازت نہیں ہوگی۔ بیرسٹر عقیل

?️ 9 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل

پاکستان میں ویکسی نیشن کا ریکارڈ قائم

?️ 9 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں ایک دن کے دوران سب سے

حکومت نے پاکستان تحریک لبیک کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا

?️ 16 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت نے ٹی ایل پی کیخلاف سپریم کورٹ میں

نعیم قاسم: اسرائیل کے ساتھ صف بندی کرنا ایسا ہے جیسے جہاز پنکچر ہو جائے اور سب ڈوب جائیں

?️ 6 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے تل ابیب

فلسطین کے ملک کے قیام کے لیے عملی اقدام کا وقت آ پہنچا ہے

?️ 23 ستمبر 2025فلسطین کے ملک کے قیام کے لیے عملی اقدام کا وقت آ

2053 تک میں ترکی کو دنیا کی لاجسٹک سپر پاور بنادوں گا:ترک صدر

?️ 16 اپریل 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک آنے

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا پہلی بار تل ابیب کا دورہ

?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زائد آل نہیان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے