غزہ میں اسرائیل کے فریبکارانہ منصوبے کی ناکامی

غزہ

?️

سچ خبریں: بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں نے اسرائیلی ریگیم کے مشکوک منصوبے کی مخالفت جاری رکھی ہے، جسے امریکی حمایت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ غزہ پٹی میں محدود امداد کی ترسیل اور تمام مقامی باشندوں کو جنوب کی طرف منتقل کرنے کی کوشش سے متعلق ہے، جس کا بہانہ امدادی اشیاء کی تقسیم ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی (UNRWA) کے کمشنر جنرل فیلیپ لازارینی نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ اسرائیل کا یہ نیا امدادی منصوبہ، جسے واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے، کامیاب نہیں ہوگا۔
امریکہ اور اسرائیل کا غزہ امدادی منصوبہ فوجی مقاصد پر مبنی
لازارینی نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ایک فوجی مقصد کے تحت بنایا گیا ہے، نہ کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر۔ غزہ کی مقامی سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی مقامی یا بین الاقوامی ادارہ اس منصوبے یا امدادی تقسیم کے طریقہ کار کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا، کیونکہ یہ طریقہ کار سیکورٹی کے نام پر فلسطینیوں کو محکوم بنانے کی کوشش ہے۔
ان تنظیموں نے "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” نامی امریکی ادارے اور اس کے حامیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا، نسلی صفائی اور نسل کشی ہے۔ انہوں نے UNRWA اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کیا، اور فلسطینی عوام کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے جال میں نہ پھنسیں۔
امریکی میڈیا کا اعتراف: اسرائیل کا امدادی منصوبہ ناکام ہوگا
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل کا امدادی تقسیم کا طریقہ کار، جسے امریکہ سپورٹ کر رہا ہے، سنگین رکاوٹوں اور سوالات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امدادی تنظیموں اور فنڈنگ کرنے والوں نے اس منصوبے کی کامیابی پر شکوک ظاہر کیے ہیں، جبکہ یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اس کا مقصد غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنا ہے؟
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کئی بین الاقوامی فریقین، جو ابتدائی طور پر "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” کے منصوبے میں شامل تھے، اب اس سے دور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کو جبری بے گھر کرنے کے امکان پر اخلاقی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے تو اس امریکی ادارے کا موازنہ "بلیک واٹر” سے کیا ہے، جو عراق میں شہریوں کے خلاف تشدد میں ملوث تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے ذرائع کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کا یہ نیا منصوبہ ابھی تک غیر واضح ہے، اور بڑی امدادی تنظیمیں اس میں شامل نہیں ہوئی ہیں۔ عرب اور یورپی ممالک، جو فنڈنگ کرنے والے تھے، بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں، جس سے اس منصوبے کے مالیاتی وسائل پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
یہ رپورٹس اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کے فریبکارانہ منصوبے کے خلاف بین الاقوامی تنقید زور پکڑ رہی ہے، جس کا مقصد غزہ کے باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیل کر جبری بے گھری یا بڑے پیمانے پر قتل عام کرنا ہے۔

مشہور خبریں۔

شہید سلیمانی نے مزاحمت کی نئی نسل کو کیسے پروان چڑھایا ؟

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: مزاحمت کے مرکزی کردار کی حیثیت سے شہید سلیمانی کا

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستان پہنچ گئے

?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں شامل سابق

یمن کا اسرائیل کے ناواتیم بیس پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ

?️ 9 نومبر 2024سچ خبریں: یمنی مسلح فوج کے ترجمان یحیی سریع نے تاکید کے

صیہونی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کی نیتن یاہو پر شدید تنقید

?️ 9 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ نے اسرائیلی

سوڈان میں سیاسی معاہدے کا حتمی ڈھانچا دستیاب ہوا

?️ 12 فروری 2023سچ خبریں:ایک بیان میں سوڈان کی گورننگ کونسل نے موجودہ بحران کے

فلسطینی مزاحمتی نظام میں مغربی کنارے کی حیثیت

?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں: پچھلی تین دہائیوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ساتھ

طالبان پر تنقید کرنے والا یونیورسٹی کا پروفیسر گرفتار

?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں:  خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان پر

مغرب کے اقدامات کی وجہ سے ایٹمی خطرے کی سطح میں اضافہ

?️ 10 اکتوبر 2024سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اعلان کیا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے