?️
عرب ممالک اور اسرائیل کے اقتصادی تعلقات کی راہ میں عوامی مزاحمت بڑی رکاوٹ
لبنانی اخبار الاخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگرچہ حالیہ برسوں میں خصوصاً 2020 کے بعد بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ تعلقات اب بھی زیادہ تر سرکاری سطح اور محدود معاہدوں تک ہی محدود ہیں اور عرب عوام کی سطح پر انہیں قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ غزہ پر جنگ اور خطے میں مسلسل کشیدگی نے سرکاری تعلقات اور عوامی رائے کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے لیے اقتصادی معمول سازی کا اصل ہدف عرب بائیکاٹ کی دیوار کو گرانا تھا، جو ماضی میں اس کی معیشت کے لیے شدید نقصان کا باعث بنتی رہی۔ عرب بائیکاٹ کی وجہ سے مغربی کمپنیاں بھی اسرائیلی اداروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے گریز کرتی تھیں، کیونکہ وہ کروڑوں عرب صارفین پر مشتمل بڑی منڈی کو کھونے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھیں۔
الاخبار کے مطابق عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی تعلقات کی تاریخ کو دو بڑے ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور کیمپ ڈیوڈ، اوسلو اور وادی عربہ معاہدوں سے جڑا ہوا ہے، جبکہ دوسرا دور 2020 میں طے پانے والے نام نہاد ابراہیم معاہدوں کے بعد شروع ہوا۔ پہلے مرحلے میں، خاص طور پر مصر کے ساتھ تعلقات کو “سرد امن” قرار دیا گیا، کیونکہ عوامی مخالفت کے باعث اسرائیلی مصنوعات مصری منڈی میں جگہ نہ بنا سکیں اور تجارتی تبادلے نہایت محدود رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوسلو اور وادی عربہ معاہدوں کے بعد اگرچہ اردن، مصر اور بعض دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون میں عارضی اضافہ ہوا، مشترکہ صنعتی زون قائم ہوئے اور کچھ تجارتی سہولتیں فراہم کی گئیں، لیکن یہ عمل زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ دوسری فلسطینی انتفاضہ کے آغاز کے بعد اقتصادی معمول سازی تقریباً رک گئی اور عرب نجی شعبے کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ برقرار رہا۔
اخبار کے مطابق 2011 کے بعد مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی دریافت نے کچھ نئے اقتصادی راستے کھولے، جن کے تحت اردن اور مصر نے اسرائیل کے ساتھ گیس کے معاہدے کیے، تاہم یہ تعاون بھی عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ ابراہیم معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات، مصر اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اعداد و شمار سامنے آئے، مگر ان میں زیادہ تر لین دین گیس، ہیروں اور مخصوص شعبوں تک محدود رہا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تعلقات عام عرب معاشرے میں جڑ نہیں پکڑ سکے۔
الاخبار نے نشاندہی کی ہے کہ سیاحت اور ثقافتی تبادلے جیسے شعبے بھی عوامی سطح پر فروغ نہیں پا سکے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی سیاح مصر میں صرف چند مخصوص علاقوں تک محدود رہتے ہیں، کیونکہ انہیں دیگر علاقوں میں عوامی ردعمل کا خدشہ ہوتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ اقتصادی معمول سازی کو دو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پہلی، عرب عوام کی مضبوط مخالفت جو غزہ کی جنگ، لبنان اور دیگر ممالک پر اسرائیلی حملوں کے بعد مزید شدید ہو چکی ہے۔ دوسری، امن معاہدوں کی یہ ناکامی کہ وہ متعلقہ عرب ممالک کے لیے حقیقی سلامتی فراہم نہیں کر سکے، جس کے باعث یہ تعلقات اکثر محض سفارتی رابطوں یا بحرانوں کے انتظام تک محدود رہ گئے ہیں۔
اخبار کے مطابق نتیجتاً اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات اب بھی زیادہ تر سرکاری نوعیت کے ہیں اور وہ نہ تو اسرائیل اور امریکہ کے طے شدہ اہداف حاصل کر سکے ہیں اور نہ ہی اس “نئے مشرق وسطیٰ” کے تصور تک پہنچ پائے ہیں جس کا چرچا بین الاقوامی میڈیا میں کیا جاتا رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
الیکشن کمیشن نے پی پی-7 راولپنڈی میں پی ٹی آئی کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردی
?️ 21 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے
جولائی
علی اف پھر آذربائیجان کے صدر بنے
?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:الہام علی اف نے 93.9 فیصد ووٹ لے کر صدارتی انتخاب
فروری
پاکستان اور ڈبلیو ایچ او کا بچوں کے تحفظ کیلئے ایکشن پلان تیار کرنے کیلئے اشتراک
?️ 16 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور وزارتِ
نومبر
مصری اور صیہونی وزرائے خارجہ کی متوقع ملاقات
?️ 19 جون 2021سچ خبریں:اسرائیلی وزیر خارجہ نے فلسطینی تنازعہ اور صیہونی حکومت کو درپیش
جون
طالبان کی ملک میں موجودگی کا دعویٰ، بیرسٹر سیف کا خواجہ آصف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
?️ 23 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اور طالبان مذاکرات
مارچ
فیس بک کا مونیٹائزیشن کے لیے سخت شرائط کا اعلان
?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے
جولائی
بازوں اور کبوتروں کی جنگ؛ یوکرین کے تنازعے پر وائٹ ہاؤس میں دو قطبی سیاست
?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے
دسمبر
روس کے خوف سے ڈنمارک کے لڑاکا طیاروں کی مسلسل اڑانیں
?️ 21 جون 2022سچ خبریں: روس کے اس اصرار کے باوجود کہ یہ کسی
جون