?️
سچ خبریں: عراق کے صدر عبداللطیف جمال رشید نے کہا ہے کہ عراق نے مشکل حالات پر قابو پا لیا ہے اور اب ملک استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وہ جمعہ کے روز عراقی شہید کے دن کے موقع پر بغداد میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو سید محمد باقر حکیم کی شہادت کے حوالے سے منائی گئی۔
تقریب کا اہتمام حکمت نیشنل موومنٹ کے دفتر میں کیا گیا تھا۔ صدر رشید نے کہا کہ ہم آج عراقی شہید کے دن کے موقع پر اکٹھے ہوئے ہیں، یہ دن قوم کی جانب سے آزادی، جمہوریت اور آمریت کے خلاف جدوجہد میں دیے گئے قربانیوں کو امر کرنے کے لیے وقف ہے۔
صدر نے کہا کہ ہم فخر کے ساتھ سید محمد باقر حکیم کی شہادت کا دن مناتے ہیں، جو ایک عظیم دینی اور قومی شخصیت تھے جنہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں اپنی زندگی وقف کر دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ العظمی سید محمد باقر حکیم 2003 کے بعد قومی سیاسی سرگرمیوں کے اہم ستون تھے جنہوں نے حکومت کی تشکیل، جمہوری عمل کو مستحکم اور مربوط کرنے اور عراق کے اتحاد اور خودمختاری کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عراقیوں کو متحد کیا اور مشکل ترین حالات میں حکمت، تدبر، منطق اور بات چیت کو ترجیح دی۔
عراقی صدر نے کہا کہ عراق نے مشکل دور سے گزر کر امن و استحکام کے ساحل پر پہنچ گیا ہے، اس لیے جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ایک قومی مشن اور وطنی فریضہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علماء اور عظیم قومی شخصیات کی یاد اور ان کی قربانیوں کو آنے والی نسلوں کے لیے زندہ رکھنا، جو ملک کی تاریخ اور شناخت کا حصہ ہیں، ایک قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ دہائیوں میں عراق نے مشکل حالات کا سامنا کیا ہے، قوم کے بیٹوں بشمول فوج، پولیس، حشد الشعبی اور پیمرگا کی تمام سکیورٹی فورسز نے اس راہ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک استحکام اور سکون تک پہنچ گیا ہے اور یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کام کریں، اس کے لیے کوششوں کو دوگنا کرنے، معلق مسائل کو حل کرنے اور ترقی اور خوشحالی کے سفر کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کے بیٹوں نے کامیاب پارلیمانی انتخابات منعقد کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے جمہوریت کے اصولوں اور بنیادوں سے اپنی وابستگی ظاہر کی اور عراقی عوام کی مرضی اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامیہ اور مقننہ کی تشکیل کے لیے اپنے حقوق کا استعمال کیا۔ انہوں نے یہ اقدام عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی اپنی خواہشات اور مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری عمل کو مستحکم کرنا ایک قومی فریضہ ہے جو آئین سے وابستگی اور وقت پر اس کے نفاذ سے حاصل کیا جائے گا، اس لیے ہم تمام عراقیوں کی نمائندگی کرنے والی حکومت کی تشکیل کے لیے یکجہتی اور مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایسی حکومت ہو جو خوشحال، ترقی یافتہ اور پرامن عراق میں ان کی خواہشات کو پورا کر سکے، سیکورٹی اور استحکام کو یقینی بنائے، بدعنوانی کے خلاف جنگ کرے اور صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں معیار زندگی اور سہولیات کو بہتر بنائے۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر: سیاسی اختلافات کو ترک کرنا چاہیے
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمود المشہدانی نے کہا کہ سید محمد باقر حکیم کی شہادت نئے عراق کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھی۔ انہوں نے شہید حکیم کے قومی مقام پر زور دیا اور کہا کہ وہ صرف ایک مذہبی اور سیاسی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک قومی علامت تھے جنہوں نے عراقی عوام کی عزت کے لیے جدوجہد کی۔ شہید حکیم نے انصاف، پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو مضبوط کرنے اور عراق میں قانونی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ضروری ہے کہ شہیدوں کے خون سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کی حفاظت کی جائے اور آئینی مدت کا احترام کرتے ہوئے حکومت کی تشکیل کے عمل میں تیزی لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ شہیدوں کا خون ایک ایسی روشنی ہے جو ہمارے لیے ایک مضبوط عراق کی تعمیر کا راستہ روشن کرتی ہے۔ سیاسی اختلافات کو ترک کرنا چاہیے اور عراق مختلف طبقات پر مشتمل ملک سے مساوی شہری حقوق کے حامل ملک میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ہم عراق کے لیے استحکام اور بین الاقوامی احترام چاہتے ہیں۔ آئین سے وابستگی عراق کے استحکام اور مستقبل کی ضامن ہے۔
عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ: سید حکیم آمریت کے دور میں حق کی آواز اور طاغوت کے خلاف مزاحمت کا پرچم تھے
عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ فائق زیدان نے کہا کہ آج آیت اللہ سید محمد باقر حکیم کی شہادت کا دن ہے، جو ایک قومی رہنما تھے جنہوں نے عراق، اس کے عوام اور اس کی شناخت کی حفاظت کی۔ سید حکیم آمریت کے دور میں حق کی آواز اور طاغوت کے خلاف مزاحمت کا پرچم تھے اور جلاوطنی کے سالوں میں بھی
وہ عراق کے مسائل اٹھاتے رہے۔ سید محمد باقر حکیم نے قومی اتحاد اور انصاف پر مبنی ملک کی تعمیر کا نعرہ اپنایا تھا۔
انہوں نے عراقی شہیدوں کی یاد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم فخر کے ساتھ عراقی شہیدوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے خون سے عراق کی عزت کو اجاگر کیا۔ شہیدوں کو یاد کرنا ان کے ساتھ عہد کی تجدید ہے اور اس حقیقت پر زور دینا ہے کہ ہم ان اقدار کی حفاظت کریں گے جن کے لیے شہیدوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ شہیدوں کے ساتھ ہماری ذمہ داری صرف ان کے بارے میں بات کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں شہیدوں کے خاندانوں کی دیکھ بھال، ان کی قربانیوں کی قدر اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں ان کی یاد کو زندہ رکھنا بھی شامل ہے۔ ہم یہ بھی پابند ہیں کہ اپنے وطن کی حفاظت کریں، ملک کی تعمیر کریں اور اس کی خودمختاری کی حفاظت کریں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
شوگر انڈسٹری کا ایف بی آر ٹریک پورٹل کی بندش کے ذریعے چینی کی فروخت روکنے کیخلاف حکومت کو تیسرا خط
?️ 16 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیرِ
اکتوبر
عراق کے ایلات پر ڈرون حملہ کی تفصیلات
?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: عراق کی اسلامی مزاحمت کے بیان میں کہا گیا ہے
نومبر
کراچی: نسلہ ٹاور کے باہرمتاثرین اور بلڈرز کا احتجاج
?️ 26 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) کراچی میں نسلہ ٹاور کے باہر متاثرین اور بلڈرز
نومبر
صیہونیوں کی حمایت سے سعودی عرب کا سب سے بڑا وائر ٹیپنگ آپریشن
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:ایک لبنانی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ ریاض نے تل
فروری
شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا
?️ 17 جولائی 2022مظفر گڑھ: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء شہباز گل کو مظفر
جولائی
غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلہ کے نفاذ میں صیہونیوں کی رکاوٹیں
?️ 8 فروری 2026سچ خبریں:عبرانی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے رفح کراسنگ کھلنے کے باوجود
فروری
یمن جنگ اتنی طویل کیوں ہوئی
?️ 22 مارچ 2023سچ خبریں:2015 سے، جب یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی فوجی جارحیت
مارچ
اسرائیل آزاد غیر ملکی صحافیوں کے غزہ میں داخل ہونے سے کیوں ڈرتا ہے؟
?️ 12 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے غزہ جنگ کے آغاز سے صحافیوں اور
ستمبر