ظہران ممدانی کی نیویارک کے میئر کے لیے نامزدگی سے امریکی سیاست میں اسلام واپسی

ظہران ممدانی کی نیویارک کے میئر کے لیے نامزدگی سے امریکی سیاست میں اسلام واپسی

?️

ظہران ممدانی کی نیویارک کے میئر کے لیے نامزدگی سے امریکی سیاست میں اسلام واپسی
مسلم نژاد امریکی سیاست دان زهران ممدانی کی نیویارک کے میئر کے لیے نامزدگی نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں اُن کے مذہبی پس منظر پر ہونے والی تنقید نے امریکہ میں اسلام کے بارے میں پرانے تعصبات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
 مسلم نژاد امریکی سیاست دان زهران ممدانی کی نیویارک کے میئر کے لیے نامزدگی نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں اُن کے مذہبی پس منظر پر ہونے والی تنقید نے امریکہ میں اسلام کے بارے میں پرانے تعصبات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
امریکی جریدے نیویورکر کی رپورٹ کے مطابق، ممدانی جو ایک سوشلسٹ اور ڈیموکریٹ امیدوار ہیں، اپنی جماعت کے اندرونی انتخابات جیتنے کے بعد اسلام مخالف بیانات اور مہمات کا نشانہ بنے ہیں۔ یہ صورتحال بہت حد تک اُن منفی جذبات سے ملتی جلتی ہے جو 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف دیکھنے میں آئے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممدانی، جو 34 سال کے ہیں، نیویارک کے سماجی انصاف، مزدور حقوق اور فلسطین کے لیے کھلے عام حمایت جیسے موضوعات پر سرگرم ہیں۔ تاہم، اُن کے مخالفین اُن کے اسلامی عقائد اور فلسطین کے لیے حمایت کو بنیاد بنا کر انہیں انتہا پسند اور دہشت گردوں کا ہمدرد قرار دے رہے ہیں۔
سابق گورنر اینڈریو کومو اور بعض قدامت پسند میڈیا اداروں، خاص طور پر نیو یارک پوسٹ، نے ممدانی پر سخت تنقید کی ہے۔ کومو نے حتیٰ کہ 11 ستمبر کی یاد دلا کر ممدانی کو اُس ماحول سے جوڑنے کی کوشش کی۔
جواب میں ممدانی نے ایک مسجد کے باہر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود 11 ستمبر کے بعد تفتیش اور تعصب کا سامنا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا نیویارک میں مسلمان ہونا مطلب ہے ہر لمحہ تضحیک کے لیے تیار رہنا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نیویارک شہر میں ایک ملین کے قریب مسلمان آباد ہیں  جو امریکہ کی کل مسلم آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی بنتے ہیں۔ ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران 55 سے زائد مساجد کا دورہ کیا ہے تاکہ براہِ راست مسلمانوں سے رابطہ کیا جا سکے۔
نیویورکر کے مطابق، ممدانی کے حامیوں کے نزدیک اصل ’ویرانی‘ (ڈسٹوپیا) وہ نظام ہے جس میں پناہ گزینوں کو سڑکوں پر گرا کر گرفتار کیا جاتا ہے، عوام صحت کے اخراجات سے پریشان ہیں اور مسلمان طبقہ اب بھی امتیازی سلوک کا شکار ہے۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ زهران ممدانی کی مہم نہ صرف سیاسی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ امریکی مسلمان اب اپنی شناخت چھپانے کے بجائے اسے سیاسی طاقت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مشہور خبریں۔

اگلے ہفتے قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ

?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے آج منگل کی

طالبان ایسا کیا کرنے کا سوچ رہے ہیں کہ دنیا حیران رہ جائے

?️ 6 اگست 2023سچ خبریں: طالبان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہمیں ایسا

افغانستان اور امریکی AUKUSمعاہدہ شاہراہ ابریشم پر چین کے مقابلہ میں

?️ 28 ستمبر 2021سچ خبریں:امریکہ انڈو پیسیفک میں میری ٹائم سلک روڈ کو نشانہ بنا

وزیراعظم نے بلوچستان میں نیا گورنر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا

?️ 1 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کے گورنر جسٹس

والدین ‏کو گھر سے نکالنے پر ایک سال قید ہوگی: عدالت

?️ 27 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ہائیکورٹ نے تحفظ والدین

وفاقی کابینہ نے پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ منظور کر لیا

?️ 30 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ

پاکستان میں تیارہ کردہ کورونا ویکسین کے حوالے سے اسد عمر کا اہم بیان

?️ 8 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان میں تیارہ کردہ کورونا ویکسین سے متعلق اہم

اسرائیل کے ہتھیاروں کے حامی غزہ کے جرائم میں حصہ لینا چھوڑ دیں: اردگان

?️ 7 جون 2024سچ خبریں: آنکارا میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کے ساتھ ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے