شامی وطن واپس نہیں لوٹنا چاہتے،ڈھائی لاکھ شامی جرمن شہریت کے حامل

شامی

?️

شامی وطن واپس نہیں لوٹنا چاہتے،ڈھائی لاکھ شامی جرمن شہریت کے حامل

جرمن اخبار ڈی ویلٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ جرمنی میں مقیم شامی پناہ گزینوں میں اپنے ملک واپس جانے کا رجحان نہایت کم ہے، حالانکہ برلن حکومت نے امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرتے ہوئے ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی بے دخلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی شہری اپنے وطن میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور غیر یقینی سکیورٹی صورتحال کے باعث واپسی سے گریزاں ہیں۔

ڈی ویلٹ نے لکھا ہے کہ شامی شہریوں کی فائلوں کا ازسرِنو جائزہ اس وسیع تبدیلی کا حصہ ہے جسے جرمن حکومت امیگریشن پالیسی میں “بڑا موڑ” قرار دے رہی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شامی مجرموں کی دمشق واپسی کے لیے پروازوں کی تیاری کر رہی ہیں، جبکہ وزارتِ داخلہ نے شامی عبوری حکومت سے بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔

گزشتہ منگل کو 2011 میں شامی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد پہلی بار ایک شامی مجرم کو جرمنی سے بے دخل کر کے شامی حکام کے حوالے کیا گیا۔ وفاقی دفتر برائے مہاجرت و پناہ گزینوں نے ستمبر کے اختتام سے وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر ہزاروں شامی پناہ کی درخواستوں کا جائزہ لیا، جن میں سے اب تک سینکڑوں درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

جرمن وزیرِ داخلہ الیکسانڈر ڈوبرِنٹ نے پناہ گزینوں کی بے دخلی اور سرحدی کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا: “اگر شامی نہیں تو پھر کون شام کی تعمیر نو کرے گا؟ یہ بیان جرمن حکومت کے بنیادی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا جرمنی میں مقیم شامی بھی اسی سوچ کے حامل ہیں۔

اس وقت جرمنی میں تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار شامی شہری مقیم ہیں، اور مجموعی طور پر ان میں اپنے جنگ زدہ وطن واپسی کا رجحان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ ڈی ویلٹ کے مطابق اکتوبر کے اختتام تک صرف تقریباً 3 ہزار شامی جرمن مالی معاونت کے ساتھ رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ کر گئے۔

بہت سے شامی اس انتظار میں ہیں کہ آیا ان کے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال واقعی مستحکم ہوتی ہے یا نہیں۔ مزید یہ کہ جو افراد شام کا سفر کرتے ہیں، انہیں جرمنی میں اپنے قیام کی قانونی حیثیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی لیے زیادہ تر وہ شامی نژاد جرمن شہری وطن جاتے ہیں جن کے لیے واپسی میں قانونی رکاوٹ نہیں ہوتی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ شامیوں نے جرمن شہریت حاصل کر لی ہے اور آئندہ برسوں میں اس تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

52 سالہ شامی نژاد آرتھوپیڈک سرجن فراس الاصیل جو جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں مقیم ہیں، 2005 میں تخصصی تعلیم کے لیے جرمنی آئے تھے۔ 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد انہوں نے وطن واپسی سے گریز کیا۔

انہوں نے 2020 میں ڈورٹمنڈ میں اپنا کلینک کھولا، جرمن شہریت حاصل کی اور ان کے بچے وہیں پروان چڑھے۔ بارہ برس تک وہ شام کی صورتحال کو صرف دور سے دیکھتے رہے۔

حال ہی میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ شام گئے تاکہ بچوں کو ان کی خاندانی جڑوں سے آگاہ کر سکیں اور ان کے لیے شامی پاسپورٹ حاصل کریں۔ وہ رواں سال فروری میں پہلی بار اپنے آبائی شہر ابوکمال (مشرقی شام، عراقی سرحد کے قریب) گئے۔

الاصیل کے مطابق یہ علاقہ طویل عرصے تک دہشت گرد گروہوں کے قبضے میں رہا اور اب بھی انتہائی غیر محفوظ ہے۔ انہوں نے عطیات کی مدد سے مقامی اسپتال کے لیے 80 بستر فراہم کیے اور جرمن-شامی امدادی تنظیموں کے ذریعے شام کے طبی شعبے کی بحالی میں تعاون شروع کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ شام کا طبی نظام تباہ ہو چکا ہے اور حالات “قرونِ وسطیٰ” جیسے ہیں۔ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور دل کے بے شمار مریض فوری جراحی کے محتاج ہیں۔ اب تک ایک اسپتال کے ایک فلور کو فعال کیا گیا ہے جہاں آٹھ ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، جن کی تنخواہیں عطیات سے دی جا رہی ہیں کیونکہ عبوری حکومت باقاعدہ ادائیگی نہیں کر پا رہی۔

جرمن پارلیمان (بُنڈسٹاگ) کی جانب سے اگست کے اختتام پر جاری رپورٹ کے مطابق شام کی صورتحال نہایت نازک ہے اور خانہ جنگی کے بعد بھی ملک “بارود کے ڈھیر” کی مانند ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علوی، دروزی اور کرد اقلیتوں کے قتلِ عام کے واقعات بارہا پیش آئے ہیں اور موجودہ شامی فوج، حکومت نواز ملیشیاؤں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔

ڈی ویلٹ کے مطابق جرمنی نے 16 ستمبر 2024 سے تمام زمینی سرحدوں پر دوبارہ کنٹرول نافذ کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے حکم پر غیرقانونی پناہ گزینوں کے داخلے کو روکنے کے لیے یہ سخت اقدامات ابتدا میں محدود مدت کے لیے تھے، تاہم اب انہیں مارچ 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

الیکسانڈر ڈوبرِنٹ نے مئی 2025 میں وزارتِ داخلہ سنبھالتے ہی سرحدی سختیوں میں مزید اضافہ کیا اور پولیس کو ہدایت دی کہ بیمار افراد یا حاملہ خواتین جیسے کمزور گروہوں کے سوا دیگر پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

مشہور خبریں۔

معروف بھارتی جوڑی کی 9 سال بعد طلاق

?️ 6 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں) بھارتی شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی عامر علی اور

سینیٹ اجلاس میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت

?️ 18 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کے اجلاس میں اسرائیل کے ایران پر

سعودی عرب کے شاہ خالد کے اڈے پر یمن کا میزائل حملہ

?️ 12 فروری 2021سچ خبریں:یمنی فورسز کی میزائل یونٹ نے بیلسٹک میزائل سے سعودی عرب

عالمی بحران کے موقع پر اپنا ہی گریبان پکڑنا

?️ 12 نومبر 2023سچ خبریں: مسئلہ فلسطین میں انقرہ کے حکمرانوں کے منافقانہ رویے پر

بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی سے ملاقات کروا دی گئی۔ ذرائع

?️ 17 مارچ 2026راولپنڈی (سچ خبریں) ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان

کراچی: رمضان سے قبل منافع خوروں کیخلاف کارروائی، 137 گراں فروشوں پر 8 لاکھ روپے جرمانہ

?️ 10 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) رمضان کے آغاز سے قبل کراچی کی انتظامیہ نے

مذہب کے نام پر تشدد کا سبق پڑھانا، معاشرہ یرغمال بنانا بند ہونا چاہئے۔ خواجہ آصف

?️ 13 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ کی صیہونیت مخالف قرارداد کا خیر مقدم کیا

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:    اسلامی تعاون تنظیم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے