?️
سچ خبریں: بین الاقوامی تعلقات کی ایک ماہر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسرائیل کا ایرانی قونصل خانے پر حملہ 1961 کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ، کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکنے کے لیے سلامتی کونسل کو مداخلت کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: یروشلم کے خلاف صیہونی حکومت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں:مراکشی عہدہ دار
فلسطینی مزاحمت کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی ناقابل تلافی شکستوں کے بعد اس حکومت نے دمشق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے کی عمارت پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں IRGC قدس فورس کے سینئر کمانڈروں میں سے ایک جنرل محمد رضا زاہدی سمیت 13 افراد کو شہید ہوئے۔
اگرچہ صیہونی حکومت کو خطے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بہت طویل سفر طے کرنا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایران کے سفارتی مقامات پر حملے کرنے میں اس حکومت کا اصل ہدف کیا ہے؟
قانونی اور سیاسی نقطہ نظر سے اسرائیل کے حملے کے زاویوں کی چھان بین کے مقصد کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر یشم دیمیر کا کہنا ہے کہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت 8 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس سے پہلے بھی شام پر حملے میں، اسرائیل نے آئی آر جی سی کے ایک کمانڈر جنرل سید رضا موسوی کو قتل کر دیا۔ اکتوبر ، یہ بھی واضح رہے کہ حالیہ حملہ حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے ایران کے دورے کے بعد ہوا ،اس ملک کے اعلیٰ کمانڈروں کو قتل کرنے کے مقصد سے پہلی بار کسی ایرانی سفارتی مرکز کو نشانہ بنانا ایک اہم مسئلہ پیدا کرتا ہےجبکہ سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے آرٹیکلز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سفارتی اور قونصلر پوسٹیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔
یہ حملہ سفارتی تعلقات کے 1961 کے ویانا کنونشن اور قونصلر تعلقات کے 1963 کے ویانا کنونشن میں موجود سفارتی اور قونصلر مراکز کے استثنیٰ کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے جو ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک بڑے بحران کا باعث بنے گا۔
ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست ایک اہم معاملہ ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکنے اور خطے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے مداخلت کرے، 7 اکتوبر سے اسرائیل غزہ جنگ کی وجہ سے اپنی رائے عامہ اور عالمی برادری کے دباؤ کا شکار ہے، اس وجہ سے ان میں سے کچھ دباؤ کو کم کرنے کے لیے وہ ایران پر حملہ کر کے توجہ کسی اور طرف ہٹانا چاہتا ہے۔
مزید پڑھیں: صیہونی حکومت کس طرح بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے؟
بتایا جاتا ہے کہ اس حملے میں قتل ہونے والے جنرل محمد رضا زاہدی ایک عرصے سے اسرائیل کو مطلوب تھے، انہوں نے شام اور لبنان میں ایران کی سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کیا، جنرل زاہدی کے قتل کا، جو قاسم سلیمانی جیسے اہم کمانڈر تھے، کا مطلب شام اور لبنان میں IRGC کے بااثر کمانڈروں کو نشانہ بنانا ہے، مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل شام اور لبنان میں ایران کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔


مشہور خبریں۔
ووٹ کی عزت کو جو خطرہ تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 11 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن
اکتوبر
فوجی سرپرائز کے بعد سیاسی سرپرائز
?️ 21 نومبر 2023سچ خبریں:یدیعوت احرانوت اخبار میں شائع ہونے والے ایک نوٹ میں اووی
نومبر
صہیونی میڈیا: اسرائیلی کارکنوں کی اکثریت ہجرت کرنے پر غور کر رہی ہے
?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: ایک اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ
جولائی
صیہونی آبادکاروں کا مسجد اقصی پر وحشیانہ حملہ
?️ 10 جولائی 2021سچ خبریں:صیہونی آبادکاروں نےصیہونی پولیس کی حمایت سے آج ہفتے کے روز
جولائی
صہیونی پناہ گزینوں کے لیے نصر اللہ کا جواب
?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: گذشتہ ہفتے منگل کے روز لبنان میں قابض حکومت کے
ستمبر
بشام حملے پر اعلٰی سطح کا سیکیورٹی اجلاس، تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کی ہدایت
?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح
مارچ
کیا بگرام میں امریکی C-17 طیارے کی لینڈنگ واقعی تھی؟
?️ 7 اپریل 2025سچ خبریں: امریکی فضائیہ کے C-17 کال سائن کے ساتھ MOOSE59 کے ساتھ
اپریل
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پروازوں میں اضافہ ہوگا
?️ 2 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید
دسمبر