سعودی ولی عہد کے سلسلہ میں اسرائیل کا عجیب و غریب بیان

سعودی

?️

سچ خبریں:صیہونی حکام کا کہنا ہےکہ ہمارے لیے سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کی اقتدار میں موجودگی ضروری ہے اور امریکی حکومت کو ان کا ساتھ دینا چاہئے۔

صیہونی اخباریروشلم پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بائیڈن کی حکومت کو محمد بن سلمان کے ساتھ سختی سے کام نہیں لیناچاہئے،سیٹ فرانز مین کی لکھی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد بن سلمان ابوظہبی کے نزدیک دورے کے دوران نیتن یاہو سے ملنے کے لئے تیار ہیں ، اور نیتن یاہو اور ان کی ٹیم متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تبادلہ خیال کے ساتھ ملاقات کے لئے بات چیت کر رہی ہے جبکہ ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات صرف نومبر میں شہر نیوم میں نیتن یاہو اور بن سلمان کے مابین ہونے والی ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی تبدیلیوں نے دونوں فریقوں کو قریب لایا ہے، یروشلم پوسٹ نے ایران کے مسئلے اور حوثیوں کے لئے تہران کی مبینہ حمایت کے ساتھ ساتھ گذشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی ریاض اور تل ابیب کی قربت کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔

صیہونی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ امریکہ مغربی ایشیاء پر اپنی توجہ کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کی وجہ سے سعودی حکام صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے ضروری سمجھنے پر مجبور ہوگئے ہیں،رپورٹ کے مطابق گذشتہ برسوں کے واقعات نے سعودی عرب اور اسرائیلی حکومت کو قریب تر کردیا ہے، اوباما انتظامیہ کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کے بعد ریاض اور واشنگٹن کے مابین تعلقات کھٹائی میں پڑ گئے گئے تھے ،تاہم اسی وقت سعودیوں نے یمن میں حوثی اثر و رسوخ کوکم کرنے اور عدن اور باب المندب عبور کے کنٹرول کو روکنے کے لئے یمن پر حملہ کردیا۔

2017 میں روئٹرز نےاپنی ایک رپورٹ میں لکھاکہ اسرائیل اورسعودی عرب کے مابین خفیہ تعلقات ہیں، اسی دوران ، سعودی انٹلی جنس سروس کے سابق سربراہ ، ترکی الفیصل نے نیتن یاہو کے مشیروں ، یعقوب امیڈرر سے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نزد ایسٹرن پالیسی کے ایک اجلاس میں ملاقات کی جس کی وجہ سے یہ ایک بہت بڑا تنازعہ پیدا ہوا، 2018 میں اسرائیلی حکومت نے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام سعودی عرب کو فروخت کرنے کی خبروں کی تردید کی ، دونوں حکومتوں کے مابین قربت متحدہ عرب امارات اور بحرین کے صیہونی حکومت کے ساتھ امن معاہدے کرنے سے بیک وقت کئی گنا بڑھ گئی، اطلاعات کے مطابق ریاض نے اس سمجھوتے میں معاون اور سہولت کار کاکردار ادا کیا ہے، سیٹ فرانز مین نے مزید لکھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اب جمال خاشقجی کے قتل میں ان کے کردار پر تنقید کا نشانہ ہیں تاہم سعودی حکومت کو امریکی تنقیدی پالیسی سے پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاض کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا چاہئے۔

 

مشہور خبریں۔

امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی میں دنیا کو کیسے دیکھا گیا ہے؟

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی ایک سرکاری دستاویز ہے

مسجد الاقصیٰ کے خطیب کی فلسطینیوں سے شبِ قدر میں مسجدالاقصیٰ پہنچنے کی اپیل

?️ 26 مارچ 2025 سچ خبریں:مسجد الاقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی عوام

شامی فوج کی شاندار کارروائی کی وجہ سے حلب اکیڈمی کے طلباء محفوظ

?️ 4 دسمبر 2024سچ خبریں: شامی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حلب میں

اسماعیل ہنیہ کو ایران ہی میں کیوں شہید کیا گیا؟

?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: اسرائیل اسماعیل ہنیہ کو قطر یا ترکی میں بھی شہید

صہیونی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون کی منظوری دی

?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:صہیونی پارلیمنٹ نے پہلی ریڈنگ میں صیہونیت مخالف کارروائیوں میں مصروف

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما کی نا اہلی کا فیصلہ معطل کر دیا

?️ 8 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما

نیتن یاہو کو جانا ہوگا

?️ 14 نومبر 2023سچ خبریں:ماکوریشن اخبار کے تجزیہ کار حجائی سیگل نے اس عبرانی میڈیا

حماس: دمشق کے خلاف اسرائیلی جارحیت خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے

?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں: شام کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے