?️
سعودی عرب اور ترکیہ کو ایف-۳۵ کی فروخت روکنے کے لیے نیتن یاہو کی خفیہ مہم
امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور ترکیہ کو جدید ایف-۳۵ جنگی طیاروں کی فروخت پر غور کے دوران، صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پسِ پردہ ایک منظم مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ ان معاہدوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ اس کوشش کا بنیادی مقصد خطے میں اسرائیل کی نام نہاد ’’کیفی عسکری برتری‘‘ کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ نیتن یاہو بیک وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست ٹکراؤ سے بھی گریز کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ المانیٹر کے مطابق، نیتن یاہو نے یکم دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس میں لاک ہیڈ مارٹن کے چیف آپریٹنگ آفیسر فرانک سینٹ جان سے ایک خفیہ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اسرائیل کی عسکری برتری، امریکہ کی جانب سے اس برتری کے تحفظ کے وعدے، اور سعودی عرب و ترکیہ کو ایف-۳۵ کی ممکنہ فروخت کے اثرات اور ان سودوں کو محدود کرنے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
اسرائیلی حکام سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو تشویشناک مگر قابلِ کنٹرول قرار دیتے ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاض کو دیے جانے والے ایف-۳۵ طیارے کم صلاحیت والی ترتیب کے ساتھ ہوں گے اور ان میں وہ خصوصی الیکٹرانک وارفیئر اور ریڈار خلل ڈالنے والے نظام شامل نہیں ہوں گے جو اسرائیل کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اسرائیل کو مکمل طور پر جدید ترین ورژن ملتے رہیں گے۔
تاہم، تل ابیب کے لیے اصل تشویش ترکیہ ہے۔ اسرائیلی قیادت کا دعویٰ ہے کہ غزہ کی جنگ اور شام سے متعلق معاملات پر ترک صدر رجب طیب اردوان کے سخت بیانات، اور ایف-۳۵ کی ریڈار سے پوشیدہ رہنے کی صلاحیت، اسرائیلی دفاعی برتری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے اگرچہ ترکیہ کو یہ طیارے ملنے کے امکان کو کم قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس کی شدید مخالفت کریں گے۔
اسی تناظر میں، نیتن یاہو نے اس بار کھلے عام امریکی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ٹرمپ کے قریبی حلقے سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ ان میں جیرڈ کوشنر، اسٹیو وٹکاف، مائیک والٹس اور میریام ایڈلسن جیسے بااثر نام شامل ہیں، جو اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ نیتن یاہو اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی مشاورت کر چکے ہیں، جو ترکیہ کی ایف-۳۵ پروگرام میں واپسی کے سخت مخالف ہیں۔
ادھر ٹرمپ اور اردوان کے حالیہ رابطے واشنگٹن اور انقرہ کے تعلقات میں بہتری کے اشارے دیتے ہیں، جبکہ سعودی عرب بھی درجنوں ایف-۳۵ طیاروں کی خرید کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات خراب کیے بغیر ان سودوں کی سمت بدل دی جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے میں اسلحے کی دوڑ میں اضافے کے ساتھ، ان معاہدوں کا مستقبل اور اسرائیلی عسکری برتری پر ان کے اثرات تاحال غیر واضح ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ تل ابیب سعودی عرب کو ایف-۳۵ کی فروخت کی سخت مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ حساس معلومات روس یا چین جیسے ممالک تک پہنچ سکتی ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب فلسطینی مسئلے پر اسرائیل کو نمایاں رعایتیں دے تو تل ابیب اپنی مخالفت نرم کر سکتا ہے، جس سے خطے میں تعلقات کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر روس کا رد عمل
?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: روسی سفارت خانے نے سوڈان میں روسی بحری اڈے کی تعمیر
دسمبر
حماس کو غیر مسلح کرنا ریاض اور تل ابیب کا مشترکہ منصوبہ ہے
?️ 22 اکتوبر 2025حماس کو غیر مسلح کرنا ریاض اور تل ابیب کا مشترکہ منصوبہ
اکتوبر
صیہونی حکومت کے قوانین اور عدالتوں کے لیے انتہائی دائیں بازو رہنماؤں کا منصوبہ
?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:صہیونی مظاہرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ کے
اپریل
مراسلے سے پہلے فون پر دھمکیاں، اہم انکشافات
?️ 6 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ
اپریل
وزیراعلی مریم نواز کی سی ایم ایچ آمد، زخمی افسروں اور جوانوں سے ملاقات
?️ 12 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف غازیوں کی عیادت کے
مئی
اسلام آباد میں پولیس پر حملہ دہشتگردانہ کاروائی ہے
?️ 18 جنوری 2022اسلام اباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ
جنوری
غزہ پر مسلسل بمباری، کئی فلسطینی شہید
?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: خبری ذرائع نے غزہ شہر کے الیرموک سٹریٹ پر ایک گھر
جولائی
۷۰ فیصد اسرائیلی شہری اقتصادی بدحالی پر ناخوش
?️ 20 ستمبر 2025۷۰ فیصد اسرائیلی شہری اقتصادی بدحالی پر ناخوش ایک تازہ سروے میں
ستمبر