سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کے اتار چڑھاؤ پر ایک نظر

سعودی عرب و امریکہ

?️

سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کے اتار چڑھاؤ پر ایک نظر

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور ہمیشہ دو بنیادی ستونوں پر قائم رہی ہے: خلیج فارس کی سکیورٹی اور تیل۔ 1945 میں امریکی صدر روزویلٹ اور سعودی بانی فرمانروا شاہ عبدالعزیز کے تاریخی ملاقات سے لے کر آج کے دور تک اس شراکت داری نے نشیب و فراز کا طویل سفر طے کیا ہے۔

اس اتحاد کی بنیاد 1940 کی دہائی میں رکھی گئی، جب نو قائم شدہ سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز نے ملک کے اندرونی استحکام کے بعد 1932 میں امریکی کمپنی اسٹینڈرڈ آئل آف کیلی فورنیا کو تیل کی تلاش کا اختیار دیا۔ اس وقت خطے میں امریکہ کا تقریباً کوئی اثر نہیں تھا اور سعودی عرب کی بیرونی دنیا سے واحد بڑی شناخت برطانوی موجودگی تھی۔ امریکیوں سے بڑھتی قربت کی ایک وجہ بحرین میں تعینات مسیحی طبی رضاکار بھی تھے جنہوں نے مذہبی مداخلت کے بغیر سعودی فوجیوں اور خود بادشاہ کا علاج کیا۔ یہی اعتماد آگے بڑھ کر اس بڑے اتحاد کا پیش خیمہ بنا۔

شاہ عبدالعزیز نے بعد ازاں امریکی نائب وزیر خارجہ جارج میکگی کو بتایا کہ انہوں نے امریکہ کے قریب آنے کا فیصلہ ہاشمی خاندان کے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے کیا تھا، جو مکہ و مدینہ سے بے دخل کیے جانے کے بعد سعودیوں پر گہری ناراضی رکھتے تھے۔ اسی پس منظر میں تیل کے لائسنس اور دمام کے ہوائی اڈے کی تعمیر کی اجازت دی گئی۔

1938 میں دمام سے تیل کی دریافت نے سعودی عرب کو امریکہ کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت دار میں بدل دیا۔ 1943 میں صدر روزویلٹ نے اعلان کیا کہ سعودی عرب کا دفاع، امریکہ کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ 1944 میں آرامکو کی تشکیل نے اقتصادی بنیادیں مضبوط کیں، جو نہ صرف تیل کی پیداوار کرتی تھی بلکہ امریکی مفادات کی نمائندہ بھی بن گئی۔

1950 کی دہائی میں مشترکہ دفاعی معاہدے، شاہ سعود اور شاہ فیصل کے دورے، اور سعودی عرب میں امریکی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ 1973 میں عرب اسرائیل جنگ کے پس منظر میں سعودی عرب نے امریکہ کے خلاف تیل کا بائیکاٹ کیا، جس سے عالمی بازار میں قیمتیں چار گنا بڑھ گئیں۔ اس کے باوجود امریکہ اور سعودی عرب کا عسکری تعاون جاری رہا اور سعودی عرب نے اربوں ڈالر کے امریکی ہتھیار خریدے۔

اسی دوران سعودی عرب نے مرحلہ وار آرامکو پر مکمل کنٹرول حاصل کیا، تاہم امریکی کمپنیوں کے ساتھ دفاعی تعلقات برقرار رکھے گئے۔ 1980 کی دہائی میں سرد جنگ کے دوران سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ مل کر مجاہدین، کانٹراس اور دیگر گروہوں کی مالی مدد کی۔

خلیج جنگ اول 1990–1991 میں سعودی عرب نے امریکی فوجیوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی، جس سے اس شراکت داری کو نئی تقویت ملی۔ لیکن 11 ستمبر 2001 کے حملوں نے تعلقات میں شدید دراڑ پیدا کی، کیونکہ ملوث 19 میں سے 15 حملہ آور سعودی شہری تھے۔ اس واقعے نے امریکہ میں سعودی عرب پر شدید تنقید کو جنم دیا۔

2003 میں عراق پر امریکی حملے نے سعودی قیادت کا واشنگٹن سے عدم اعتماد بڑھایا۔ سعودی عرب نے امریکی فضائیہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا اور دفاعی خریداری کا رخ یورپ و ایشیا کی طرف موڑ دیا۔ بعد میں شاہ عبداللہ کے دور میں تعلیمی و دفاعی تعاون کی بحالی اور اعلیٰ سطحی دوروں نے کچھ حد تک یہ خلا پُر کیا۔

اوباما دور میں مصر میں عرب بہار کے واقعات اور یمن کی جنگ نے دونوں ملکوں کے درمیان نئے اختلافات کو جنم دیا۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے امریکہ سے ریکارڈ سطح پر دفاعی سودے کیے۔

ترامپ دور میں تعلقات نے نئی شکل اختیار کی۔ ایران کے خلاف سخت مؤقف، سعودی عرب کے ساتھ بڑے پیمانے پر اسلحے کے سودے، اور یمن جنگ کی حمایت نے دونوں ملکوں کو پھر قریب کر دیا۔ جمال خاشقجی کے قتل کے باوجود وائٹ ہاؤس نے سعودی قیادت کا ساتھ دیا۔

آج سعودی عرب وژن 2030 کے ذریعے اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اب بھی توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں میں اہم شراکت دار ہے، لیکن سعودی عرب نے روس، چین اور یورپ سے بھی روابط مضبوط کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلقات کا پرانا "نفت کے بدلے سکیورٹی” کا فارمولا تبدیل ہو چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات ختم نہیں ہوئے، لیکن نئی عالمی تبدیلیوں کے مطابق ازسرِ نو تشکیل پا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

کل کے اتحادی آج کے دشمن بن چکے ہیں:

?️ 5 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت اطلاعات ونشریات فرخ حبیب نے کہا

اسلام آباد: احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیے

?️ 7 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) عدالت نے رواں سال مئی میں ان کی گرفتاری

ہمارا مقصد انتخابات کو شفافیت کی طرف لے جانا ہے: محمود قریشی

?️ 17 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ

لائبرمین نے اسرائیلی سیاست دانوں سے کہا کہ اپنا منہ بند کرو!

?️ 11 مئی 2024سچ خبریں: اسرائیل بیتنا پارٹی کے سربراہ ایویگڈور لائبرمین نے امریکی صدر جو

واٹس ایپ نے صارفین  کی بڑی مشکل حل کر دی

?️ 6 ستمبر 2021سان فرانسسکو (سچ خبریں) دنیا کی مقبول ترین موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ

حزب اللہ: امریکہ جنگل کے قانون سے پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے

?️ 6 جنوری 2026سچ خبریں: حزب اللہ کے ایک سینئر نمائندے نے کہا: امریکہ ایک

عرب مالیاتی فنڈ کی عرب ممالک کے معاشی نقطہ نظر پر رپورٹ

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:عرب مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ عرب ممالک

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قرارداد لانے والوں پر توہین عدالت کیلئے درخواست دیں گے، فواد چوہدری

?️ 11 اپریل 2023لاہور:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے