?️
سچ خبریں: گزشتہ دنوں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دوحہ، قطر کے دارالحکومت میں ہونے والی مذاکرات صہیونی حکومت کی فریب کاری اور رکاوٹوں کی وجہ سے بن بست کا شکار ہوگئے۔
کل شام حماس تحریک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی وفد کا دوحہ میں موجود رہنا، جبکہ معاہدے تک پہنچنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ثابت نہیں ہوئی، بنجمن نیتن یاہو کی بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور مذاکرات میں جھوٹی شرکت کا ڈرامہ کرنے کی کوشش ہے۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو صہیونی وفد کے قیام کو روزانہ کی بنیاد پر بڑھا رہا ہے، لیکن اس وفد نے گزشتہ ہفتے سے کوئی سنجیدہ مذاکرات نہیں کیے۔ اس کے ساتھ ہی، صہیونیوں کے غزہ پر وحشیانہ حملوں اور عورتوں و بچوں کے قتل عام میں اضافہ، جبکہ امریکی-اسرائیلی دوہری شہریت کے قیدی عیدان الیگزنڈر کو رہا کیا گیا، یہ واضح کرتا ہے کہ نیتن یاہو کسی بھی معاہدے کو مسترد کرنے پر تلا ہوا ہے۔
صہیونی وفد دوحہ میں بے کار بیٹھا رہا
حماس سے وابستہ ایک اعلیٰ ماخذ نے العربی الجدید سے بات چیت میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی مذاکراتی وفد نے گزشتہ ہفتے سے قطری اور مصری ثالثوں کے ساتھ غزہ جنگ کے حوالے سے کوئی رابطہ یا مذاکرات نہیں کیے، حالانکہ موجودہ دورِ مذاکرات انتہائی اہم اور نازک سمجھا جاتا ہے۔
ماخذ کے مطابق، مذاکرات اس لیے رک گئے ہیں کیونکہ نیتن یاہو جنگ بندی کے معاہدے میں کسی پیشرفت کو ماننے سے انکاری ہے، اور امریکہ بھی صہیونی موقف کی حمایت کر رہا ہے۔ دوسری طرف، حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے لچک دکھائی ہے، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، بشرطیکہ اس میں جنگ کے
مکمل خاتمے کی ضمانت شامل ہو۔
نیتن یاہو کی فریب کاری اور مذاکرات کی ناکامی
ادھر، نیتن یاہو نے کل صہیونی مذاکراتی ٹیم کے کچھ اراکین کو واپس بلانے کا حکم دیا، جبکہ صرف تکنیکی عملہ دوحہ میں رہ گیا۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق، یہ فیصلہ نیتن یاہو کی سلامتی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے بعد لیا گیا۔
عبرانی حلقوں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو داخلی اور خاص طور پر امریکی دباؤ کے تحت حماس اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات کے بعد مجبوراً دوحہ میں وفد بھیجا، لیکن یہ اقدام کسی معاہدے کی خواہش نہیں بلکہ دباؤ سے بچنے کی ایک چال ہے۔
صہیونی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی مذاکراتی وفد کو محدود اختیارات دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ امریکی ایلچی اسٹیو وائٹکوف کے پیش کردہ فارمولے سے ہٹ کر کوئی نئی تجاویز پر بات نہیں کر سکتے۔
قطر کا رد عمل
قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کل کہا کہ ہم نے سمجھا تھا کہ عیدان الیگزنڈر کی رہائی غزہ کے بحران کو ختم کر دے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ حملے اور بڑھ گئے۔ گزشتہ ہفتوں میں دوحہ میں ہونے والے جنگ بندی کے مذاکرات دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات کی وجہ سے ناکام ہوگئے ہیں، اور اسرائیل کی طرف سے غزہ پر جاری بمباری امن کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
شامی عوام کے لیے قطر کی جانب سے 75 ملین ڈالر کی امداد
?️ 16 جون 2023سچ خبریں:قطر کے وزیر خارجہ سلطان بن سعد المریخی نے کہا کہ
جون
جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کا ایران دورہ، دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے فروغ پر اہم گفتگو
?️ 12 اپریل 2021تہران (سچ خبریں) جنوبی کوریا کے وزیر اعظم چانگ سای کیون، گذشتہ
اپریل
غزہ کے فلسطینی خاندانوں کی جنوبی افریقہ منتقلی کا معمہ اسرائیل کے ملوث ہونے کا انکشاف
?️ 15 نومبر 2025 غزہ کے فلسطینی خاندانوں کی جنوبی افریقہ منتقلی کا معمہ اسرائیل
نومبر
مصر میں اخوان المسلمین کے 10 ارکان کو سزائے موت
?️ 28 جون 2022سچ خبریں: مصری فوجداری عدالت، انسدادِ دہشت گردی کی پہلی ڈائریکٹوریٹ
جون
جنگ بندی میں اسرائیل کی بلیک میلنگ اور مزاحمت کی تیاری
?️ 3 مارچ 2025 سچ خبریں: غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے
مارچ
ایم کیو ایم پھر حکومت سے پھر ناراض
?️ 23 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان
نومبر
شہرت ملنی ہے تو گھر بیٹھے بھی مل سکتی ہے: متھیرا
?️ 16 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں)اداکارہ و ماڈل متھیرا کا کہنا ہے کہ اگر آپ
جولائی
حشد الشعبی فورسز کے سربراہ نے داعش کے خلاف فتح کی سالگرہ کے موقع پر اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور دیا
?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: عراق کے حشد الشعبی کے سربراہ نے دہشت گرد گروہ
دسمبر