?️
سچ خبریں: صہیونی ریژیم کے ٹی وی چینل نیٹ ورک 12 کی رپورٹ کے مطابق 2024ء میں اسرائیل مخالف واقعات کی تعداد کافی زیادہ ریکارڈ کی گئی، یونیورسٹی کے مطابق، غزہ جنگ سے پہلے کے سالوں کے مقابلے میں، دنیا بھر میں صہیونیت مخالف جذبات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
حال ہی میں جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق، متعدد ممالک میں اسرائیل مخالف رویوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آسٹریلیا میں صہیونیت مخالف واقعات کی تعداد میں خاصی زیادتی دیکھی گئی، جبکہ امریکہ، اٹلی، سپین، کینیڈا، ارجنٹائن اور برازیل میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، صہیونیت مخالف حملوں کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد (10% سے بھی کم) کے مقدمات میں گرفتاریاں یا چارج شیٹ ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر، نیویارک میں صرف ایک تہائی مجرموں کو ہی حراست میں لیا گیا، جو دیگر نفرت انگیز جرائم کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ شکاگو میں یہ شرح محض 10% رہی، جبکہ ٹورنٹو میں صرف 6% واقعات ہی پولیس تک پہنچے۔ لندن میں تو حراست کی شرح صرف 4% تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے اس رجحان کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آتیں، ورنہ اس سلسلے میں بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔ رپورٹ کے ایڈیٹر نے صہیونی میڈیا کو بتایا کہ دنیا بھر میں 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے کے دور کے مقابلے میں اسرائیل مخالف جذبات کا لیول اب بھی کہیں زیادہ ہے۔ تاہم، عام خیال کے برعکس، غزہ جنگ اور وہاں انسانی المیے کے بعد اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ نہیں ہوا۔ سب سے زیادہ واقعات اکتوبر سے دسمبر 2023 کے درمیان ریکارڈ کیے گئے۔ المیہ یہ ہے کہ اسرائیل مخالف رویے اس وقت عروج پر تھے جب اسرائیل اپنی تاریخ کے سب سے کمزور اور وجودی خطرات سے دوچار دور سے گزر رہا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیویارک، جہاں امریکہ میں یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی (ڈیڑھ ملین) رہتی ہے، میں اسرائیل مخالف واقعات کی تعداد 2024ء میں 344 تک پہنچ گئی، جو 2023ء کے 325 اور 2022ء کے 264 واقعات سے زیادہ ہے۔ یہی صورتحال شکاگو (امریکہ کا تیسرا سب سے بڑا یہودی آبادی والا شہر) میں بھی دیکھی گئی، جبکہ لاس اینجلس (دوسرا بڑا شہر) کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
ٹیل اویو یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، فرانس میں 2024ء میں 1570 سے زائد اسرائیل مخالف واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2023ء کے مقابلے میں تھوڑے کم ضرور ہیں لیکن جنگ سے پہلے کے دور (صرف 436 واقعات) کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ تاہم، 2024ء میں جسمانی جھڑپیں 106 تک پہنچ گئیں، جو 2023ء کے 85 اور 2022ء کے 43 واقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
عمران خان، آرمی چیف بند کمرے میں بیٹھ کر اپنے گلے شکوے دور کرلیں، اسد عمر
?️ 9 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے
مئی
کراچی میں دلخراش ٹریفک حادثہ، 3 افراد جاں بحق
?️ 19 دسمبر 2021کراچی(سچ خبریں) کراچی میں شہر قائد کے معروف علاقے کلفٹن میں ایک
دسمبر
PPP اور PTI ارکان میں ہاتھا پائی اور دھکہ مکی
?️ 26 فروری 2021کراچی (سچ خبریں) سندھ اسمبلی میں حکومتی اور پی ٹی آئی ارکان
فروری
امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے اہداف کے درمیان تنازع میں ترکی؛ شام میں چیلنج
?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: یہاں تک کہ اگر انقرہ اور دمشق کردوں کے ساتھ
دسمبر
صیہونی دفاعی میزائل ختم ہونے کے قریب:امریکی عہدیدار کا اعتراف
?️ 18 جون 2025 سچ خبریں:امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی جانب
جون
خیبرپختونخوا: مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا معاملہ، فریقین سے جواب طلب
?️ 22 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر حلف برداری
مارچ
ہر ممبر اسمبلی باوقار لوگوں کا چنا ہوا ہے اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق اپنے فیصلے کرنے کا پابند ہے،شاہ محمود قریشی
?️ 18 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے
مارچ
امریکیوں میں بائیڈن کی غیر مقبولیت نے ٹرمپ کو پیچھے چھوڑا
?️ 9 جون 2022سچ خبریں: امریکہ میں مارننگ کنسلٹنگ پول سے پتہ چلتا ہے کہ
جون