?️
خصوصی اتحاد کی پوشیدہ قیمت
غزہ جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان قائم خصوصی اتحاد‘ نہ تو دیرپا سلامتی کا ضامن بن سکا ہے اور نہ ہی خطے میں استحکام لا سکا ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کے اندر جمہوری اقدار کمزور، فلسطینی عوام پر دباؤ میں اضافہ اور امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی جریدے فارن افرز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ میں دو سالہ جنگ کے دوران انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق، غزہ کی 90 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے، لاکھوں افراد قحط اور شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور بیشتر رہائشی عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن ان فوجی کامیابیوں کے ساتھ سنگین سیاسی اور اخلاقی قیمت بھی ادا کی گئی ہے۔ اسرائیل اس جنگ کے بعد عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، کئی یورپی ممالک نے اسلحے کی فراہمی محدود کر دی ہے، جبکہ امریکا میں بھی اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت پر عوامی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
فارن افرز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی عسکری برتری وقتی ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ فلسطینیوں کے لیے کوئی مؤثر سیاسی نظام قائم نہ ہونے کی صورت میں خطہ مزید عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ اسی طرح اسرائیل کے اندر عدالتی اصلاحات، آبادکاری کی توسیع اور سماجی تقسیم جمہوری بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے، جنہیں امریکی حمایت نے بالواسطہ تقویت دی ہے۔
رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اس خصوصی اتحاد کی قیمت امریکا کو بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ واشنگٹن کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے، اس کی توجہ دیگر اہم خطوں خصوصاً ہند-بحرالکاہل سے ہٹ رہی ہے، جبکہ اندرونِ ملک سیاسی تقسیم اور نفرت انگیزی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فارن افرز کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’’خصوصی‘‘ کے بجائے معمول کے سفارتی اصولوں کے تحت استوار کرے۔ رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ امریکی امداد کو انسانی حقوق، قانون کی پاسداری اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت سے مشروط کیا جائے تاکہ ایک زیادہ متوازن، ذمہ دار اور پائیدار پالیسی اپنائی جا سکے۔


مشہور خبریں۔
اقوام متحدہ کا فلسطینیوں کی حمایت کرنے کا انوکھا انداز
?️ 4 نومبر 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ایک بار پھر غزہ
نومبر
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا پی ٹی آئی احتجاج کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
?️ 28 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے
نومبر
نئے نیب آرڈیننس کو حتمی قانونی حیثیت مل گئی
?️ 8 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نئے نیب آرڈیننس کو حتمی قانون کی حیثیت
اکتوبر
پنجاب کی 18 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا
?️ 6 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کی 18 رکنی کابینہ نے عہدے کا حلف
مارچ
غزہ میں امن اور پاکستان،ٹرمپ منصوبے میں اسلام آباد کا ممکنہ کردار
?️ 20 دسمبر 2025غزہ میں امن اور پاکستان، ٹرمپ منصوبے میں اسلام آباد کا ممکنہ
دسمبر
مصطفیٰ کمال کا حکومت سے این ایف سی فنڈز براہ راست اضلاع کو دینے کا مطالبہ
?️ 4 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) متحدہ قومی مومنٹ ( ایم کیو ایم پاکستان)
ستمبر
سپریم کورٹ کو آگاہ کیے بغیر ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں کیا جائے، چیف جسٹس
?️ 21 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے خلاف
جولائی
صہیونی ریاست مغربی کنارہ نگلنے کے درپے ہے: جہاد اسلامی
?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:جہاد اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل آبادکاریوں میں تیزی