حزب اللہ کے خلاف امریکی منصوبے اور مصر کے انٹیلی جنس چیف کی بیروت آمد

حزب اللہ کے خلاف امریکی منصوبے اور مصر کے انٹیلی جنس چیف کی بیروت آمد

?️

حزب اللہ کے خلاف امریکی منصوبے اور مصر کے انٹیلی جنس چیف کی بیروت آمد
لبنانی روزنامہ الجمہوریه نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں امریکی منصوبوں کی تفصیلات پیش کی ہیں جو اسرائیل کے مفادات کے تحت لبنان پر دباؤ ڈالنے اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کے انخلا کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں مصر کے انٹیلی جنس چیف کی بیروت آمد کے مقاصد بھی واضح کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، چند روز میں امریکہ کے نئے سفیر میشل عیسی بیروت پہنچیں گے، جنہیں سفیر خارق العادہ قرار دیا گیا ہے۔ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی قیادت کریں گے، جس سے امریکی حکام کے درمیان یہ تنازع بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے کی نگرانی کس کے ذمے ہوگی۔ تاہم، موجودہ معلومات کے مطابق، امریکی نمائندہ مورگن اورٹاگاس اور میشل عیسی کے درمیان تعاون بھی موجود ہے۔
اورٹاگاس نے لبنان میں دو اہم نکات کے ساتھ ملاقاتیں کی: پہلا لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا معاملہ اور دوسرا حزب اللہ کے ہتھیاروں کا مسئلہ۔ لبنان نے براہ راست مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور غیرمستقیم مذاکرات کے لیے رضا مندی ظاہر کی، لیکن شرط یہ رکھی کہ مذاکرات میں صرف فوجی نہیں بلکہ غیر فوجی اور تکنیکی ماہر بھی شامل ہوں۔
حزب اللہ کے ہتھیاروں کے معاملے میں، جنوبی لبنان کے لیتانی دریا کے جنوب کی صورتحال کو سال کے آخر تک حل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس ضمن میں مصر کے انٹیلی جنس چیف محمود رشاد کی بیروت آمد بھی اسی مقصد کے تحت ہوئی۔ رشاد نے غزہ میںجنگ بندی کے تجربے کو لبنان کے لیے ایک نمونہ قرار دیا، جہاں امریکی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے بعد ہتھیار کی تقسیم اور اسرائیلی افواج کی واپسی کا منصوبہ طے پایا۔
لبنان میں بھی غیرملکی اور بین الاقوامی کوششوں کے تحت حزب اللہ کے ہتھیاروں کو محدود کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جس میں موشکوں اور دیگر ہائی ٹیک ہتھیاروں کی حد بندی شامل ہے۔ امریکی سفارتکاروں کے مطابق ہتھیاروں کی جلد جمع آوری داخلی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے، جبکہ لبنان حکومت حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
غزہ کی جنگ بندی کے مطابق، بین الاقوامی امن فورسز کی تشکیل عمل میں لائی گئی، جس میں ترکی، مصر، پاکستان، انڈونیشیا، آذربائیجان اور بعض خلیجی ممالک نے حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی۔ لبنان میں بھی، یونیفل مشن کے اختتام کے بعد، یورپی فورسز کی تعیناتی متوقع ہے، جو جنوبی لبنان میں امن قائم رکھنے اور یونیفل مشن کے ختم ہونے کے بعد خلا پر قابو پانے کا کام کریں گی۔

مشہور خبریں۔

ایران کےے 22ویں کامن یو اے وی کی نقاب کشائی اسرائیل کے لیے ایک بڑا جھٹکا : عطوان

?️ 20 اپریل 2022معروف تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے اپنے نئے مضمون میں صیہونیوں کے

فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں اسرائیلی ڈرون سرنگوں

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی فورسز نے نابلس میں صہیونی فوج کے ایک ڈرون

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران مخالف قرارداد کی منظوری

?️ 6 جون 2024سچ خبریں: آج بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے گورننگ بورڈ

 بلوچستان میں مسافر ٹرین پر حملہ؛آپریشن مکمل ہونے کا اعلان 

?️ 13 مارچ 2025 سچ خبریں:حکام نے اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں مسافر ٹرین

ٹیلیگرام کا  صارفین کے لئے متعدد نئے فیچرز کا اعلان

?️ 29 اپریل 2021برلن(سچ خبریں) ٹیلیگرام کی جانب سے صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرز

گوانتاناموبے سے 2 پاکستانی قیدی ملک منتقل

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:پاکستانی خبر رساں ذرائع نے امریکی وزارت دفاع کے حوالے سے

جیت یقینا ہماری ہی ہوگی:روس

?️ 2 جون 2023سچ خبریں:روس کے صدر نے ایک تقریب میں تاکید کی کہ اس

متحدہ عرب امارات کی یمنی طوفان کے بعد صہیونیوں سے فوری مدد کی اپیل

?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات نے یمن کے حملے میں بھاری نقصان اٹھانے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے