تل ابیب کی نصف آبادی نیتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر

نیتن یاہو

?️

سچ خبریں:صیہونی ریاست کے دارالحکومت کی نصف آبادی نے نیتن یاہو کے زوال کے لیے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی اور ان کے عدالتی جوڑ توڑ کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔

عبرانی زبان کی والہ نیوز سائٹ نے اعلان کیا کہ 450000 سے زیادہ اسرائیلیوں نے مقبوضہ علاقوں کے مختلف علاقوں میں نیتن یاہو کی عدالتی بغاوت کے خلاف احتجاج کیا۔

مذکورہ ذریعہ نے نشاندہی کی کہ صرف تل ابیب شہر میں 230000 افراد نے عدالتی ہیرا پھیری کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا اور نیتن یاہو کی کابینہ کی مخالفت کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ چونکہ تل ابیب کی کل آبادی تقریباً 436000 افراد پر مشتمل ہے اس لیے نیتن یاہو کے خلاف مظاہروں میں اس شہر کے 230000 رہائشیوں کی موجودگی کا مطلب ہے کہ تل ابیب کے آدھے سے زیادہ باشندوں نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔

یاد رہے کہ احتجاج کے 13ویں ہفتے میں 450000 مظاہرین کی موجودگی کے بعد مقبوضہ علاقوں میں اس ہفتے کے سب سے بڑے مظاہرے دیکھنے کی ملے ہیں، یاد رہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ہر ہفتے ہفتہ کی شام سے اتوار کی صبح تک جاری رہنے والے احتجاج کے سلسلہ میں گزشتہ چند ہفتوں میں پولیس کی بربریت کی خبریں آتی رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صیہونی وزیراعظم کے خلاف مسلسل تیرھویں ہفتے کی شام میں سیکڑوں مظاہرین نے مقبوضہ علاقوں کے مختلف شہروں میں ان کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی جبکہ موجودہ صیہونی وزیراعظم کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے بھی اس بار نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین کے شانہ بشانہ شرکت کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو کے مخالفین پوری طرح تیار ہیں اور میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ علاقوں میں مظاہروں کے منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ نیتن یاہو کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کو روکنے کے فیصلے کے اعلان کے باوجود وہ ان پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ نیتن یاہو کا منصوبہ روکنے کا فیصلہ عارضی ہے اور وہ وسیع تر اتفاق رائے حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں،وہ مستقبل میں وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دوبارہ اس منصوبے پر عمل درآمد کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیش آئی ہے ہے جب صیہونی وزیر اعظم بالآخر اپنے مخالفین کے سامنے عارضی طور پر ہتھیار ڈالنے اور اپنے متنازعہ منصوبے کو معطل کرنے کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے۔

مشہور خبریں۔

یوکرین کے بحران میں مغربی ایشیائی ممالک کی غیر جانبداری کی وجہ

?️ 2 اپریل 2022سچ خبریں:   پروفیسر کرسٹوفر فلپس کے ایک مضمون میں، مڈل ایسٹ آن

ٹیکس فائلنگ بوجھ کم کرنے کیلئے نئی فیملی کیٹیگری متعارف کرانے کا فیصلہ

?️ 26 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہ

Bantar Gebang residents ask for increase in ‘smelly money’

?️ 17 جولائی 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر اظہارتشویش

?️ 25 مارچ 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

عنقریب خانہ جنگی ہوگی؛نصف امریکیوں کا خیال

?️ 23 جولائی 2022سچ خبریں:ایک سروے کے نتائج کے مطابق نصف امریکی عوام آنے والے

نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ تاجر اور کاروبار دوست ہوگا، اسحٰق ڈار

?️ 5 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے کہا ہے

طالبان کی عالمی سطح پر پہچان قانونی نہیں: لاوروف

?️ 26 ستمبر 2021 سچ خبریں: خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق لاوروف

پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری،حکومتی امیدوارکا پلڑا بھاری

?️ 2 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں) پنجاب میں اگلے وزیراعلیٰ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے