ترکی اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ تعلقات پر تل اویو کا انتباہ

ترکی

?️

سچ خبریں: مآریو کے عبرانی اخبار نے ایک مضمون میں صیہونی حکومت کو درپیش ایک خوفناک صورت حا سے متعلق خبردار کیا ہے، جو ترکی اور حزب اللہ کے ممکنہ تعلقات کے نتیجے میں جنم لے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ انتباہ ترکی کے لبنان میں تعینات سفیر کے ایک حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آنکارا حزب اللہ کے مزاحمتی کردار کی حمایت کرتا ہے اور شام پر اس کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی مخالفت کرتا ہے۔
اخبار کے مطابق، یہ بیان ترکی کی خارجہ پالیسی میں وسیع تر تبدیلی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ مضمون میں مزید کہا گیا کہ شام میں ترکی اور حزب اللہ کے درمیان تاریخی مسابقت کے باوجود، آنکارا اپنی علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے عملیت پسندانہ حکمت عملی پر کاربند ہے، جس میں مزاحمتی محور سے وابستہ عناصر کے ساتھ رابطہ جاری رکھنا بھی شامل ہے۔
مضمون کے مطابق، یہ پیش رفت صیہونی حکومت کے لیے ایک پیچیدہ اسٹریٹجک ماحول کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس میں مختلف مفادات رکھنے والے اداکار ایک مشترکہ مقصد یعنی صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ اور عمل داری کو کمزور کرنے اور محدود کرنے کے لیے تعاون کریں گے۔
اخبار نے ترکی کے سفیر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ بیان اس بارے میں ایک اہم بصیرت فراہم کرتا ہے کہ کس طرح آنکارا بشار الاسد کے زوال کے بعد شام-لبنان کی فضا کو تشکیل دینے اور خطے میں اسرائیل مخالف تمام اداکاروں کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کے ذرائع کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس صیہونی مضمون میں زور دے کر کہا گیا کہ ترکی کی اولین ترجیح اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے، چاہے اس کے لیے ان فریقوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہو جو پہلے اس کے حریف تصور کیے جاتے تھے۔
مضمون میں مزید کہا گیا کہ ترکی اپنے آپ کو ایک سرکردہ علاقائی طاقت کے طور پر مستحکم کرنے اور ایسے علاقائی نظام کے قیام کو روکنے کا خواہاں ہے جو اسے پس پشت ڈال دے۔ اخبار کے دعوے کے مطابق، آنکارا کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے سے اسے لبنان میں مزید اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے اور ترکی کو خود کو علاقائی منظر نامے میں ایک کلیدی عنصر کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔
مآریو نے آخر میں لکھا: اسرائیل کو ترکی اور حزب اللہ کے درمیان ان کے مشترکہ مفادات کے تحت ممکنہ تعاون پر غور کرنا چاہیے، جو اسرائیل کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

شام کو تقسیم کرنے کی صہیونی امریکی منصوبہ بندی کی تفصیلات

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: الجزیرہ نیوز ویب سائٹ نے ایک تفصیلی مضمون میں شام

سپریم کورٹ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیدیا

?️ 22 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ

رام اللہ میں 2 فلسطینی نوجوان شہید

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:    فلسطینی ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز اطلاع دی

اپنے بچوں کے فون سے ٹِک ٹاک کو ہٹا دیں

?️ 14 جنوری 2023سچ خبریں:ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی

سوئٹزرلینڈ کی پہلگام واقعے پر غیرجانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش

?️ 4 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سوئٹزرلینڈ نے پہلگام واقعے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات

وزیراعظم کا عالمی رہنماؤں سے رابطہ، عید کی مبارکباد، ایران و خلیج کشیدگی پر تبادلہ خیال

?️ 20 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر اور

اسرائیلی جنرل: ہماری فوج میں حزب اللہ کو شکست دینے کی صلاحیت نہیں ہے

?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت کی فوج کے ایک ریزرو جنرل نے مزاحمت

امریکی صدارتی دوڑ میں کون آگے ہے؟

?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: سی این این کے سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے