?️
سچ خبریں: امریکی خبری ویب سائٹ "ایکسئس” نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ مہینے غزہ کی جنگ بندی پر شرم الشیخ اجلاس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہونے والی فون کال میں زور دیا کہ غزہ کی جنگ ختم ہونے کے پیش نظر، ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول کرنے کے عمل کا آغاز کرے۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق، یہ معاملہ اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کا ایک اہم محور ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ فون کال، جو پہلے عوامی سطح پر معلوم نہیں تھی، مصر میں ہونے والی غزہ امن کانفرنس کے بعد ہوئی۔ اس کال سے آگاہ ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے بن سلمان سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ وہ غزہ کی جنگ ختم کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب وہ سعودی ولی عہد سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول کی جانب اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔
ایکسئس نے مطلع ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بن سلمان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول کرنے کے سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
اگرچہ غزہ کی جنگ مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھی، لیکن یہ واحد رکاوٹ نہیں تھی۔ تاہم، امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی کچھ اہم مطالبات اب پورے ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب امریکہ کے ساتھ ایک سیکیورٹی معاہدے پر دستخط چاہتا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ سعودی ولی عہد کے واشنگٹن دورے کے دوران ریاض کو ایک سیکیورٹی گارنٹی فراہم کریں گے۔ اگرچہ یہ گارنٹی ایک باضابطہ دفاعی معاہدے جیسی نہیں ہوگی، تاہم یہ ایسے کسی معاہدے کی بنیاد ضرور بن سکتی ہے۔
ایکسئس نے فلسطینی ریاست کے قیام کو تل ابیب اور ریاض کے درمیان تعلقات معمول ہونے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کا ذکر ہے، لیکن اسرائیل اور نیٹنیاہو کا اسے ایسا تصور نہیں۔
مغربی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیٹنیاہو، جو دو ریاستی حل کی سخت مخالفت ہیں، نے ٹرمپ کے منصوبے کے بعض حصوں کی بھی مخالفت کی ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق، ان کی سخت گیر پالیسی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے کام کو مشکل بنا رہی ہے۔ ٹرمپ کے مشیروں نے نیٹنیاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھیں، کیونکہ امن منصوبے کی پیشرفت سعودی عرب کے ساتھ تاریخی معاہدے کا باعث بن سکتی ہے۔
ایکسئس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے میں فلسطینی خود مختار اتھارٹی کے اختیارات میں توسیع امریکہ کی مطلوبہ اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کرنے سے مشروط ہے۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی ولی عہد کے واشنگٹن کے آئندہ دورے کے دوران تعلقات معمول ہونے کے عمل میں کوئی پیشرفت ہوگی یا نہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
وزیر اعظم کی انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت
?️ 1 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نےانتخابات شفاف بنانے کے حوالے
مئی
غزہ میں جنگ بندی کی صورت حال
?️ 12 نومبر 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے اخبار Ma’ariv کے سروے کے مطابق مقبوضہ علاقوں
نومبر
عرب ممالک کو اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنا چاہیئے
?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں:واشنگٹن کے تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس
جنوری
صنعتی کنٹرول سسٹم میں سنگین سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کا انکشاف، ایڈوائزری جاری
?️ 20 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صنعتی کنٹرول سسٹم میں سنگین سیکیورٹی خامیوں کی
مارچ
ملک کو کیسے لیڈروں کی ضرورت ہے؟ شاہد خاقان عباسی کی زبانی
?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان
جولائی
کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینےکیلئے تیارہیں: آرمی چیف
?️ 11 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا
فروری
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس: پی ٹی آئی دور میں قرض لینے والے 600 افراد کی فہرست طلب
?️ 20 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے پاکستان تحریک
اپریل
امریکی ڈرون حملے پر ترجمان دفتر خارجہ کا ردِعمل
?️ 4 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایمن الظواہری کارروائی
اگست