?️
سچ خبریں:پبلک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی مرکزی کمیٹی کے رکن نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی سمت میں آگے بڑھنے پر سعودی عرب کے ولی عہد پر تنقید کی۔
سماء خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پبلک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی مرکزی کمیٹی کے رکن ماهر مزهر نے تاکید کی ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سعودی عرب کے اقدام کو مسئلہ فلسطین اور پوری عرب قوم کے خلاف سب سے خطرناک قدم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس ملک کا عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان بہت زیادہ وزن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بن سلمان کی تین شرائط
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل فلسطینی قوم کے حق کے ساتھ خیانت ہے اور یہ فلسطینی مجاہدین اور اس کاز کے محافظوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہوگا۔
مزہر نے واضح کیا کہ ہم عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین میں اعلان کرتے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا خیرمقدم نہیں کریں گے کیونکہ وہ مجرم صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور وزیر اعظم بنیامین کو مفت تحفے دینے کی طرف لاپرواہی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجوہات ہیں کہ نیتن یاہو کی حکومت بیت المقدس کو یہودیانے اور صیہونی بستیوں کو پھیلانے نیز ہمارے مقدسات کی بے حرمتی اور مزید فلسطینیوں کے قتل عام کے عمل کو جاری رکھنے کے عمل میں تیزی لا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بن سلمان نیتن یاہو، بن گوئر اور اسموٹریچ کی بے گناہی کے کاغذات پر دستخط کر رہے ہیں جو اس فاشسٹ کابینہ کے رہنما ہیں جبکہ یہ وہی ہیں جنہوں نے فلسطینی عوام کے خلاف نسل پرستی کی سب سے وحشیانہ شکلوں کا ارتکاب کیا۔
مزہر نے تاکید کی کہ بن سلمان اگر یہ سوچتے ہیں کہ جوہری تنصیبات حاصل کرکے اور امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے سامنے جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے اپنے جرم کو مٹا کر خطے میں ایک خاص مقام حاصل کر سکتے ہیں تو وہ فریب میں مبتلا ہیں۔
فلسطینی رہنما نے کہا کہ اس طرح بن سلمان خطے میں صیہونیوں اور امریکیوں کے آلہ کار ہوں گے جبکہ تعلقات کو معمول پر لانے کے ثمرات سے آخرکار فائدہ اٹھانے والی صیہونی حکومت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل سے صیہونی حکومت خطے میں معمول کے مطابق نظر نہیں آئے گی بلکہ یہ حکومت ایک کینسر کی رسولی ہے جسے تباہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں اور تمام عرب اقوام کو چاہیے کہ صیہونیوں کے خلاف مزید مزاحمت کا مظاہرہ کریں اور اس حکومت کے سکیورٹی اخراجات میں اضافہ کریں۔
مزید پڑھیں: بن سلمان کا صیہونی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کا منصوبہ
مزہر نے واضح کیا کہ ہم اگلے مہینے بیروت میں تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف لڑنے کے لیے ایک محاذ بنانا چاہتے ہیں اور ہم تمام سیاسی دھاروں اور تعلقات کو معمول پر لانے کے مخالفین سے کہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اتحاد کے لیے اقدام کریں۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور فلسطینی قوم بالآخر جیت جائے گی جبکہ بن سلمان اور اس کے حواریوں کے لیے تاریخ کے کوڑے دان کے سوا کوئی جگہ نہیں ہوگی۔


مشہور خبریں۔
مغربی میڈیا غزہ میں اسرائیل کے جرائم میں شریک
?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں:انگریزی ویب سائٹ ماڈل ایسٹ آئی کے مطابق موجودہ جنگ میں
نومبر
فوجی ماہر: سوڈان کی جنگ "الفشر” کی طویل مدتی/اسٹریٹیجک اہمیت ہے
?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: عسکری اور تزویراتی امور کے ایک ماہر نے تیز رد
نومبر
برطانیہ کی یوکرینی فوج کی خدمت
?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں:برطانوی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ
جولائی
وفاقی حکومت کا آئندہ بجٹ میں سخت معاشی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ
?️ 22 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے بجٹ2024-25 میں سخت معاشی پالیسی
مئی
صیہونیوں کے ہاتھوں ایک اور فلسطینی نوجوان شہید
?️ 11 دسمبر 2021سچ خبریں: وزارت صحت نے نابلس کے جنوب میں 31 سالہ فلسطینی جمیل
دسمبر
نیتن یاہو سعودی عرب تک ریلوے لائن کیوں تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟
?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی کابینہ
جولائی
دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر صیہونی حملے پر حماس کا ردعمل
?️ 2 اپریل 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے دمشق میں اسلامی
اپریل
السوڈانی کے دورہ ایران کے بارے میں میڈیا کا نظریہ
?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں: عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی کے دورہ ایران کے
جنوری